سرینگر// مرکزاورجموں کشمیرحکومت کی طرف سے غریبوں،کامگاروں اوردیگر پسماندہ طبقوں کے حق میں ماہانہ ایک ہزارروپے کی امداداوردوماہ کیلئے مفت راشن دینے کے اعلان کوخوش آئندقرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں کے عوام کی معاشی حالت کو مدنظررکھتے ہوئے اس میں اضافہ کرناناگزیر ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہاں کامگاروں کے کنبے اوسطاً6افراد پر مشتمل ہوتے ہیں اور کنبے کی کفالت کیلئے ماہانہ 5سے 10ہزار کاخرچہ آتا ہے اور ایسے میں ایک ہزار کی مالی مدد سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ کم از کم ہر کنبے کو ماہانہ خرچے کا نصف امداد کے طور پر فراہم کیا جائے اور امداد کی رقم 3ہزار سے 5ہزار کے درمیان ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اس کے علاوہ دوماہ کیلئے مفت راشن کے اعلان میں بھی اضافہ کرکے اِسے6ماہ تک بڑھا دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ5اگست 2019کے بعد مسلسل کرفیو اور دہرے لاک ڈائون کی وجہ سے زبردست معاشی بحران سے گزر رہے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی راحت کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کئے جائیں۔