ڈوڈہ //قدرتی وسائل سے مالا مال و حکام کی عدم توجہی کا شکار ڈوڈہ خطہ کے کئی خوبصورت و دلکش مقامات محکمہ و بھدرواہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ بھال پدری جنترون، گاشر ٹاپ، یا ڈاگن دھار، بھرمی و گوہا ایسی جگہیں ہیں جن کو آج تک سیاحتی نقشہ پر نہیں لایا گیا ہے۔ سیول سوسائٹی نے ان مقامات کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ برس قبل قائم بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ، بھلیسہ، ٹھاٹھری ،کاہرہ کے خوبصورت مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے سے نہ صرف ان علاقوں کی ترقی ہوتی بلکہ سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسائل بھی پیدا ہوتے۔کاہرہ سے نوجوان سیاسی و سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جنترون دھار خطہ چناب کی خوبصورت و دلکش مقامات میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ دس کلومیٹر رقبہ پر وسیع جنترون دھار سب ڈویڑن ٹھاٹھری، چرالہ و کاہرہ کے مرکز میں واقع ہے لیکن ابھی تک حکام نے اس کو سیاحتی زمرے میں شامل کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی برسوں سے مقامی لوگ قومی ایکتا کے نام پر سالانہ دنگل میلے کا انعقاد کرتے ہیں جس میں خطہ چناب کے کونہ کونہ سے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں تاہم پچھلے دو سال سے کوؤڈ بحران کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔آصف اقبال نے تحریری طور پر جنترون دھار کو کاہرہ، چرالہ و فیگسو کے ساتھ جوڑنے کے لئے سڑک پروجیکٹوں کو منظوری دینے و بنیادی ڈھانچہ کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔