ڈوڈہ میں کوؤڈ 19 کے 58 نئے مریض ،43 شفایاب
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ میں جمعہ کے روز کوؤڈ 19 کے 58 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں اور 43 مریض شفایاب ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، عسر ،ٹھاٹھری و گندوہ میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 58 افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں انتظامیہ نے ہوم قرنطینہ میں بھیج دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 1077 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 3876 پہنچ گئی ہے اور اب تک کورونا وائرس سے 79 ہلاکتیں ہوئیں ۔
ڈوڈہ میں مسلسل 15ویں روز بھی کورونا کرفیو،مساجد میں بھیڑ کم رہی | عوامی زندگی متاثر، مزدور پیشہ افراد پریشان
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ میں مسلسل 15ویں روز بھی کرونا کرفیو نافذ رہا جس دوران عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔تفصیلات کے مطابق پچھلے دو ہفتوں سے جاری بندشوں کے باعث نجی کاروباری ادارے جمعہ کو بھی بند رہے اور سڑکوں پر ایمرجنسی سروسز کی گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران چکن ،سبزی، پھل، دودھ، بیکری ،گوشت و کیریانہ کی دوکانیں صبح چھ بجے سے دس بجے تک ہی کھلی رہیں.نماز جمعہ کے موقع پر مساجد میں بہت کم تعداد میں لوگوں نے حفاظتی اقدامات کے ساتھ نماز ادا کی۔ امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے و ایس او پیز کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز و پولیس کی بھاری نفری جگہ جگہ تعینات رہی اور ضلع و سب ڈویڑنل ہسپتالوں سمیت سرکاری دفاتر و دیگر 34 مقامات پر ویکسی نیشن و کوؤڈ جانچ کا عمل بھی جاری رہا۔سخت بندشوں سے مسلسل دوکانیں و ٹرانسپورٹ بند رہنے سے کئی بے روزگار نوجوانوں نے کہ کہ کورونا کے اس بحران کے دوران ان کا جینا محال بن گیا ہے۔ یاسر حسین نامی ایک نوجوان نے کہا کہ وہ پیشہ سے ڈرائیور ہیں اور گھر چلانے کا یہی واحد ذریعہ ہے لیکن لاک ڈؤن کے سبب گاڑی دو ہفتوں سے کھڑی ہے اور کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکام سے مزدور پیشہ افراد کی مالی معاونت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رام بن میں کووڈ سے متاثرین مسلسل بڑھتی تعداد | جمعہ کو 128 نمونے مثبت آئے، ایک کی موت، 82 صحتیاب
محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن میں کووڈانیس سے جمہ کے روز 128 افراد کے کووڈ نمونے مثبت آئے ہیں جبکہ اس دوران 82 افراد کووڈ انیس کے وبائی وائرس سے چھٹکارا پانے کے بعد ٹھیک ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز فرید احمد عمر چالیس سال ساکنہ پرستان تحصیل اْکڑال پوگل پرستان کی موت کووڈ کئیر کیلئے مخصوص کئے گئے ٹراما ہسپتال رامبن میں واقع ہوئی۔ اب تک 4436 افراد کووڈ سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 3215 ٹھیک آئے ہیں اور کل 46 افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور ایکٹیو پازیٹیو کیسوں کی تعداد 1175 تک پہنچ گئی ہے۔
فورلین تعمیراتی کمپنی کی بلیرو گاڑی کے حادثے میں دو ورکروں سمیت چار زخمی | چناب میں گری گاڑی اور اس کے چھ لاپتہ مسافروں کا تیسرے روز بھی سراغ نہیں ملا
محمد تسکین
بانہال // بانہال رامبن سیکٹر میں فورلین تعمیراتی کمپنی چودھری پاور پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایک بلیورو گاڑی جمعہ کی دوپہر بعد ڈگڈول کے پاس حادثے کا شکار ہوئی اور قریب چار سو فٹ گہری کھائی میں گر گئی۔ اس حادثے میں دو ورکر اور دو افسر زخمی ہوئے ہیں تاہم دونوں زخمی افسروں کی شدید زخمی حالت کے پیش نظر انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا ہے۔ جبکہ دو زخمی ورکر رامبن ضلع ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بلیرو گاڑی کو کھائی میں جانے سے پہلے ایک ٹرک نے ٹکر ماری تھی۔حادثے کے فوراً بعد رامبن پولیس، ایس ڈی آر ایف ، فوج ، مقامی لوگوں اور سول کیو آر ٹی رامبن کے رضاکاروں نے اس گہری کھائی میں بچاؤ کاروائیوں میں شرکت کرکے زخمیوں کو ہسپتال ل ہنچایا۔ پولیس نے زخمیوں کی شناخت عادل شریف ولد محمد شریف ساکنہ چندر کوٹ ، مدثر آحمد ولد احمد ساکنہ سنگلدان دونوں CPPPL ورکر ہیں جبکہ جموں منتقل کئے گئے دو شدید زخمیوں کی شناخت ورن چودھری سکنہ رائے پوری جموں اور گورو کمار ولد اومیش کمار ساکنہ بہار کے طور کی گئی ہے اور دونوں کمپنی میں آفسر ہیں۔اس دوران بدھ کی صبح گاڑی سمیت دریائے چناب میں لاپتہ ہوئے بجھنور کے چھ مسافروں کا تلاش کاروائیوں کے باوجود کوئی پتہ نہیں چل پایا ہے۔ بدھ کی صبح سرینگر سے اترپردیش کی طرف جانے والی ایک انوا گاڑی کے چناب برد ہونے کے حادثے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے تھے تاہم گاڑی میں سوار مزید چھ مسافروں کا کوئی پتہ نہیں چل پایا ہے اور اندیشہ ہے کہ یہ دریائے چناب کے پانی میں بہہ گئے ہیں۔ بچاؤ کاروائیوں میں فوج کے غوطہ خوروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں لکین انہیں بھی چناب میں گری گاڑی اور اس کے چھ بدنصیب مسافروں کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
عوام کی آواز:ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت:ڈاکٹر شبنم رویس | صحت کے پیشہ ور اَفراد اور معالج کووِڈ تناؤ کو کم کرنے کے طریقے بتاتے ہیں
جموں//سرکاری نفسیاتی ہسپتال جموں سے تعلق رکھنے والے ذہنی صحت کے پیشہ ور ڈاکٹر شبنم رویس نے کہا ہے کہ کووِڈ۔19 کی پہلی لہر کے دوران پریشانی ، گھبراہٹ اور افسردگی جیسے معاملات کے لئے زیادہ سے زیادہ افراد مشاورت کے لئے آگے آئے تھے اور یہ ایک تشویش کی بات ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جاری وبائی بیماری کے دوران ان کی خدمات کے لئے اُن کی تعریف کی گئی ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر سے ان کی اور صحت کے دیگر پیشہ ور افراد تک پہنچنے کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے جس پر انہوں نے’عوام کی آواز‘ریڈیو پروگرام کے ذریعے ان کی تجاویز طلب کی ہیں۔ڈاکٹر شبنم کا کہنا ہے کہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم آنے والے مہینوں میں ذہنی صحت کے معاملات میں اچانک اچھل کود کا مشاہدہ کریں جبکہ ممکنہ ذہنی صحت سے متعلق ایسے افراد کو اس وقت حقیقت سے نمٹنے میں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل پہلی لہر کے دوران صرف جموں میں ذہنی صحت سے متعلق مشاورت کی سہولیت دستیاب تھی جبکہ اَب یہ سہولیت تمام اَضلاع میں دستیاب ہے اور ایک ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد کو ٹیلی مواصلات کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔گزشتہ برس مجھے دن کے آخری گھنٹوں تک مشاورت کے نشستیں لینے پڑے۔ تناؤ اور ذہنی صحت کے دیگر امور میں مبتلا افراد میں صحت کے کارکن بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ معاشرے کے بہت سارے لوگ بھی ذہنی صحت کے معاملات کو قبول کرنا ایک بدنما داغ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ،جسمانی مسائل کی طرح ذہنی مسائل بھی سلوک اور پیشہ ورانہ مدد سے حل کیاجاسکتا ہے۔بالعموم ہمارے ہاں ہائپر وینٹی لیشن کے معاملات پائے جاتے ہیں جس میں مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے ، کمزور اور ہلکی سر محسوس ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ گہری سانس نہیں لے پا رہے ہیں۔انہوں نے کووِڈ کی وبائی بیماری کے دوران لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جسمانی اور ذہنی صحت کو بھی یکساں اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے لئے ٹیلی مواصلات کی سہولیت کے آغاز کے ساتھ ہی لوگ بے بسی اور بے چینی کے احساس سے باہر آسکتے ہیں جو اس وبائی بیماری کا نتیجہ ہے۔وہ تجویز کرتی ہے کہ کسی بھی مذہب سے قطع نظر مراقبہ کشیدگی اور اضطراب کو دور کرنے کے لئے کیا جانا چاہئے۔ کووِڈ مریضوں اور یہاں تک کہ ان کے کنبے کے افراد کو بھی مشکل سے دور رہنے کے لئے باقاعدہ ورزش کرنا ، کتابیں پڑھنا ، موسیقی سننا اور زندگی کی چھوٹی خوشیاں منانا چاہیئے۔ڈاکٹر شبنم نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر تندرست ہیں اور مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں تو ، آپ بہت آسانی سے ایک صحت مند جسم حاصل کرسکتے ہیں۔۔ ذہنی صحت سے متعلق مشورے کے خواہشمند اَفراد موبائل فون 9419110668 اور 7889905359پررابطہ قائم کرسکتے ہیں۔کووِڈ سے متعلق دیگر سوالات اور شکوک و شبہات ہیلپ لائن نمبر0191 2571616پر دور کرسکتے ہیں۔ عوام الناس 0191-2520982, 2549676, 2674444, 2674115, 2674908 پر بھی ڈویژنل کنٹرول روم کال کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ جموں و کشمیر حکومت نے براہ راست فون اِن ہیلتھ پروگرام شروع کیا ہے گلستان چینل پر جو روزانہ دو بار صبح 8:30بجے سے صبح 9 بجے اور شام 8:30بجے سے 9 بجے تک نشر کیا جاتا ہے۔
کووِڈ مریضوں ، صحت کارکنوں اور عوام کیلئے ذہنی حساسیت بہت ضروری:ڈاکٹر امریتا | میں سب کو مشورہ دوں گی کہ آپ ماسک کے پیچھے بھی مسکراؤ
اودھمپور// کووِڈ ۔19 ڈیوٹی پرضلع ہسپتال میں تعینات کلینیکل سائکالوجسٹ ڈاکٹر امریتا ٹھاکر نے کہا کہ کووِڈ مریضوں کی صحتیابی کے لئے ذہنی حساسیت برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر امریتا ٹھاکرنے کووِڈ۔19 کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے عالمی سطح پر ذہنی صحت کو غیر معمولی خطرہ لاحق ہے۔ اس دور میں کووِڈ مریضوں ، صحت کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے لئے بھی ذہنی حساسیت بہت ضروری ہے۔ ایک نفسیاتی میڈیکو ہونے کے ناطے انہوں نے کہا کہ کووِڈ کے معاملات میں اِضافے سے افسردگی ، اضطراب اور ذہنی تھکاوٹ کا زیادہ خطرہ پیدا ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا ’’اس مشکل وقت کے دوران اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر صحتمند رکھنا ضروری ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف آپ وائرس سے لڑنے میں مدد کریں گے بلکہ طویل عرصے تک بھی مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک صحت مند اور غذائیت سے بھرپور غذا کھائیں جو لوگوں کے مدافعتی نظام کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد فراہم کرے۔ اس کے علاوہ اس نے عام لوگوں کو مشورہ دیا کہ اپنے اور اپنے کنبے کے ممبروں کا خیال رکھیں کہ ہر چیز کو سنبھالنا آسان ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مثبت رویہ تیار کرنے کے لئے سیر کرو اور سوشل میڈیا سے دور رہو۔اُنہوںنے کہا،’’میں سب کو مشورہ دوں گا کہ آپ ماسک کے پیچھے بھی مسکرائیں۔‘‘ایک مثبت رویہ تیار کرنے کے لئے لوگوں کو طبی اور نیم طبی عملے کے بارے میں سوچنا چاہئے جو اس مہلک وائرس سے لڑنے کے لئے دن رات کام کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کووِڈ مریضوں اور صحت کارکنوں دونوں کی paranoia اور hysteria پریشانیوں میںشامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو کم سے کم 20 منٹ تک پیدل چلنے کی ورزش کرنا چاہئے اور منفی خیالات اور خبروں سے دور رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پُراُمید رہنے کی ضرورت ہے کہ وائرس جلد ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ ہم اجتماعی طور پر اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کریں اور بلاوجہ اپنے گھروں سے باہر نہ آئیں۔
ضلع بھر کے کووِڈ کیئر سینٹروں میں 661بستروں کی گنجائش | 150 بستروں کی گنجائش میں اِضافہ کرنے کی کوشش کی جاری :ضلع ترقیاتی کمشنر اودھمپور
اودھمپور// ضلع ترقیاتی کمشنر اندو کنول چب نے آج کہا کہ ضلع اِنتظامیہ نے ضلع کے مختلف حصوں میں آٹھ کووِڈ کیئر سینٹر قائم کر کے آکسیجن معاون بستر دستیاب کرائے ہیں۔ان باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر نے ڈی سی آفس کمپلیکس کے کانفرنس ہال میں ضلع میں کووِڈ مینجمنٹ منظرنامے پر میڈیا افراد کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔اُنہوںنے کہا کہ ضلع میں تقریباً 291 ڈی۔ ٹائپ اور 468 بی ،ٹائپ آکسیجن سلنڈر دستیاب ہیں جن میں ضلع ہسپتال میں 361 سلنڈر دونوں ہی قسم شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ نے ایک روڈ میپ تیار کیا جس کے تحت ضلع میں کووِڈ کیئر سینٹروں میں بستروں کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع ہسپتال اور کووِڈ کیئر سنٹروں میں وینٹی لیٹروں ، آکسیجن سلنڈروں اورہائی آکسیجن فلو اعلیٰ سامان کی بھی کافی تعداد موجود ہے۔طبی خدمات کے بارے میں ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ گھریلو آئیسولیشن میں مثبت مریضوں کو تقریباً 350 کووِڈ کِٹ تقسیم کی گئیں ہیں اور مزید تقسیم کے لئے 2000 سے زیادہ دستیاب ہیں۔موپنگ ایگزرسائز کا ذکر کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ یو ایل بی کے ممبران ، آشا ورکروں ، آنگن واڑی ورکروں کو امکانی معاملات کے بارے میں مناسب معلومات جمع کرنے اور لوگوں کوبالخصوص ان علامات یا دیگر افراد کو گھر سے الگ تھلگ رکھنے کے بارے میں آگاہ کرنے کی مشق میں مصروف ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ضلع میں تقریباً 1.10 لاکھ گھریلو آبادی کا ہدف حاصل کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے اَب تک 2182 مشتبہ افراد کا بھی معائینہ کیا گیا۔
کٹھوعہ میں 82 فیصدکووِڈ مریض صحتیاب:ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ | ضلع میں پچاس پنچایتی کووِڈ کیئر سینٹروں کو فعال بنایا گیا
کٹھوعہ//ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راہل یادو نے آج کہا کہ ضلع میں کووِڈ مثبت مریضوں کی صحتیابی کی شرح بہتر ہوکر 82 فیصد ہوگئی ہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے ضلع میں کووِڈمنظرنامے کے بارے میں میڈیا افراد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضلع میں مجموعی طور پر مثبت معاملات 1311 ہیں جو دو دن قبل 1413 سے کافی حد تک کم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع کے مختلف کووِڈ ہسپتالوںمیں 122 مثبت مریض زیر علاج ہیں جبکہ کووِڈکیئر سینٹروں میں 148 افراد داخل ہیں جہاں مریضوں کو تمام ضروری طبی سہولیات دی جارہی ہیں۔ڈی سی نے جی ایم سی کٹھوعہ میں آکسیجن جنریشن پلانٹ کی اضافی صلاحیت کے بارے میں انکشاف کیا کہ 750 ایل پی ایم صلاحیت کے سول کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے آکسیجن پلانٹ کے عمل سے آنے والے دنوں میں آکسیجن بستروں میں بہت اضافہ کیا جائے گا۔کووِڈ آئیسولیشن وارڈوں میں مختلف صلاحیتوں کے مجموعی طور پر 36 آکسیجن کانسٹریٹر موصول ہوئے ہیں اور ان کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ آکسیجن بستر کی گنجائش کو بڑھانے کے لئے مزید 25 آکسیجن کانسٹریٹر حاصل کئے جارہے ہیں۔راہل یادو نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے ضلع کے 50 پنچایت حلقوں میںپانچ بستر والے کووِڈکیئر سینٹر قائم کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پنچایت کووِڈسینٹروں کے لئے ضروری طبی ڈھانچے کا کام میڈیکل سپلائی کارپوریشن کو دے دیا گیا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ لاک ڈاون کے دوران محکمہ محنت کے ذریعے 5510 رجسٹرڈ کنسٹرکشن ورکروں کو کووِڈ امداد کے طور پر ہرایک کو 1000روپے فراہم کیا جارہا ہے۔راہل یادو نے بتایا کہ 86 منریگا کارکنوں کو 15 دن کے اندر اندر اجرت فراہم کی جارہی ہے اور ہدایت کی جارہی ہے کہ مقررہ مدت میںصد فیصد فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کی مختلف سوشل سیکورٹی سکیموں کے تحت پنشنوں کی فراہمی کے عمل کو بھی تیز کیا جارہا ہے تاکہ مستحقین کو ریلیف مل سکے۔
مہلوک مزدور کے لواحقین کو9.47لاکھ روپے کی امداد
رام بن //ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے مرحوم بشیر احمدساکن ہنگنی شگن تحصیل کہری کے لواحقین کو بطورایکس گریشیا معاوضہ 9.47 لاکھ روپے ادا کئے۔اسسٹنٹ لیبر کمشنر انگریزسنگھ نے بتایا کہ مقتول بشیر احمد پیشے سے ڈرائیور تھا اور کیمپر آٹوموبائل چلاتے ہوئے وہ بھاری بارش کے دوران بہہ گیا ، جب وہ ایم / ایس اے ایف سی این ایس کے ساتھ اپنی تفویض ذمہ داری سرانجام دے رہا تھا۔ملازم معاوضہ ایکٹ کے تحت معاوضے کی رقم طے کی گئی تھی۔
جموں ضلع میںکووڈکی مثبتیت شرح7 فیصد سے کم ہوگئی: ڈی سی جموں
سید امجد شاہ
جموں//جموں ڈسٹرکٹ میں COVID19 مثبت شرح 7 فیصد سے کم ریکارڈ کی گئی ہے اور محکمہ صحت کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ 18 مئی 2021 سے مثبت معاملات اچانک کم ہوگئے ہیں۔جموں میں مثبتیت کی شرح 10فیصد سے کم ہوکر 7فیصدرہ گئی ہے اور جانچ بھی روزانہ 6000 سے بڑھا کر 7500 سے زیادہ کردی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جموں انشول گرگ کے مطابق لوگوں کی فعال حمایت سے کرفیو پابندیوں کو برقرار رکھا جارہا ہے اور روزانہ 6520 گھروں میں تنہائی کے معاملات کی نگرانی کی جارہی ہے اور 4900 کوویڈ کٹس تقسیم کی گئیں۔محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ ایک بڑی سکون کی بات ہے کہ 18 مئی 2021 سے ہی مثبت واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔سینئر اہلکار نے اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا ، "آج ہم نے ضلع جموں میں 401 مثبت واقعات ریکارڈ کیے ہیں اور گذشتہ ہفتے ، مثبت واقعات کی تعداد 659 تھی۔ اس سے قبل یہ لگاتار 600 کے قریب رہ گیا تھا۔ تاہم پچھلے ہفتے سے وہ 500 کے نیچے گر گئے ہیں۔" کہا۔انہوں نے کہا کہ ہم وائرس کی چوٹی کو عبور کر چکے ہیں۔ اب ، وقت آگیا ہے کہ کوویڈ مثبت معاملات میں کمی واقع ہو۔ ہمیں امید ہے کہ روزانہ 600 مثبت معاملات کے ماضی کے دن کبھی واپس نہیں ہوسکتے ہیں۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ ، 10 مئی 2021 کو ضلع جموں میں 11 فیصد مثبت کیس ریکارڈ کیے گئے اور مثبت کیسوں کی تعداد 659 تھی۔انہوںنے بتایا’’"17مئی کو کیس 613 تھے ، اور اچانک 18 مئی 2021 کو ہم نے کمی ریکارڈ کی ، یعنی 522 معاملات ، 19 مئی 2021 کو ہمارے پاس 493 کیس تھے اور 20 مئی 2021 کومعاملات مزید بڑھ کر 499 ہو گئے۔ تاہم آج (مئی 21 ، 2021) کے اعدادوشمار 401 پر رہے جو دیہی اور ضلع جموں کے شہری علاقوں میں باقاعدگی سے جانچ کے دوران مثبت معاملات میں کمی کااشارہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں کے تمام بلاکس میں ہماری جانچ زوروں پر جاری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہم روزانہ 4000 افراد اور شہری علاقوں میں 2500 ٹیسٹ لے رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مجموعی طور پر 7000 ٹیسٹ لئے جارہے ہیں اور اس میںٹرین اور ہوائی جہاز کے ذریعے آنے والے مسافرشامل نہیںہیں۔انہوں نے کہا کہ COVID19 یعنی ایروسول کا نیا مادہ بہت خطرناک ہے اور یہ ابتدائی دنوں میں ماضی کے کوویڈ 19 وائرس کے مقابلے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔عہدیدار نے کہا ، "ہمیں کوویڈ کی سخت ہدایات پر عمل پیرا رہنا چاہئے اور ڈبل ماسک پہننا اور اجتماعات سے اجتناب کرنا چاہئے ،" انہوں نے مزید کہا کہ نیا ویرینٹ پورے خاندانوں کو متاثر کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی مہینوں کے COVID19 وائرس نے ایک کنبے کے تمام افراد کو متاثر نہیں کیا تھا۔ تاہم ، یہ پچھلے کئی ہفتوں سے ایک نئی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہا ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور پورے خاندانوں کو متاثر کررہا ہے۔ضلع جموں میں ، اہلکار نے بتایا "ہمارے پاس 8000 فعال مثبت واقعات ہیں جن میں اسپتالوں میں 1000 کیس ، دیہی علاقوں میں 2000 کیسز اور 5000 شہری علاقوں شامل ہیں۔عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 2011 کی مردم شماری کے مطابق ضلع جموں میں 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو 100 فیصد ویکسین حاصل کی ہے۔
کووڈایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانہ جاری | 955 ٹیکے لگائے گئے ، 1167 نمونے اکٹھے کیے گئے
رام بن //ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کے نفاذ کے لئے مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے متعدد خلاف ورزی کرنے والوں کو چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر جرمانہ عائد کیا۔نفاذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنے کے دوران 15ہز100 روپے جرمانہ وصول کیا۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں ، جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اور اپنے قریب ترین سی وی سی پر کوویڈ ویکسینیشن لیں۔ڈسٹرکٹ امیونائزیشن آفیسر ، رامبن ، ڈاکٹر ، سریش نے بتایا کہ جمعہ کے روز ضلع رمبن میں 955 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیںچیف میڈیکل آفیسر ، رمبان ، ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق ، محکمہ صحت نے 1167 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 305 RT-PCR اور 862 RAT نمونے شامل ہیں ، اس کے علاوہ ضلع میں ویکسینیشن مراکز کے 955 افراد کو کوڈ ویکسین پلوا دی گئی ہے۔
کوڈڈ ڈیوٹی کیلئے 100ایس ڈی آر ایف اہلکار تعینات ہونگے: وی کے سنگھ
جموں //پولیس کے کمانڈنٹ جنرل ہوم گارڈز / سول ڈیفنس اور ایس ڈی آر ایف جے اینڈ کے وی کے سنگھ کے دفتر میں اجلاس منعقد ہواجس میں ایس ڈی آر ایف اہلکاروں کی کووڈ ڈیوٹی پر غور ہوا۔میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ صحت جموں 100 کوڈڈ فرائض کے لئے ایس ڈی آر ایف کے 100 اہلکاروں کو تین بیچوں میں تربیت فراہم کرے گا۔ایس ڈی آر ایف کے اہلکار مریضوں اور لواحقین کے اخراج / اخراج کو باقاعدہ بنائیں ، آکسیجن کونٹریٹرس کو گھر کی دیکھ بھال اور ہینڈل کرنے میں معاون ہوں گے تربیت کے بعد مذکورہ افرادی قوت کو بنیادی طور پر جی ایم سی بخشی نگر ، جموں میں تعینات کیا جائے گا۔ گورنمنٹ ہسپتال گاندھی نگر؛ جموں و گورنمنٹ سینے کی بیماری کے ہسپتال ، جموں۔اس کے علاوہ ، تربیت یافتہ افرادی قوت جب بھی کام کرتی ہے ، جموں کے ڈی آر ڈی او اسپتال ، بھاگوت نگر نگر میں بھی فرائض کے لئے تعینات کی جائے گی۔ڈویڑنل کمشنر جموں اور دیگر افسران کے ساتھ نظامت میں میٹنگ کے بعد ، کمانڈنٹ جنرل کے ساتھ کمانڈنٹ ایس ڈی آر ایف 2 ڈی بی جموں نے گورنمنٹ ، میڈیکل کالج جموں کا دورہ کیا اور ڈاکٹر ششی سوڈان ، پرنسپل جی ایم سی جموں اور ڈاکٹر راکیش بہل ، ایسوسی ایٹ پروفیسر سے ملاقات کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ کوڈ ڈیوٹی کے لئے بنیادی تربیت 25 مئی 2021 سے جی ایم سی جموں میں ایس ڈی آر ایف اہلکاروں کو فراہم کی جائے گی۔ پروفیسر راکیش بہل مذکورہ تربیت کے نوڈل آفیسر ہوں گے۔اس سے قبل ، وی کے سنگھ نے ہیڈ کوارٹر ایس ڈی آر ایف 2 ڈی بی جموں کا دورہ کیا اور ایس ڈی آر ایف کے 100 اہلکاروں کو کوڈ فرائض کے لئے پی پی ای کے ساتھ ایسی ڈیوٹیوں پر مزید تعیناتی کے لئے تربیت دینے کے منصوبے کے تمام شعبوں سے آگاہ کیا۔