بیت المقدس کو بیت المقدس اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین اور پاک و صاف گھر ہے۔ "بیت"کے معنی ہے گھر اور"المقدس" کے معنی ہیں پاک و صاف۔ بیت المقدس کی ایک بڑی تاریخی اہمیت ہے جو ہمیں تاریخ کے پنے پلٹنے سے ملتی ہے اور قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ہمیں اس پاک سرزمین اور اس کی فضیلتوں کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار اسکی فضیلتوں کا ذکر کچھ اس طرح آیا ہے؛
کعبہ شریف سے پہلے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں کے لیے انکا قبلہ بہت ہی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے جسکا ذکر حدیث شریف میں کچھ اس طرح ملتا ہے’’براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی‘‘( رواہ البخاری ومسلم)
بیت المقدس ایسی پاک و صاف سرزمین ہے جسکو اللہ تعالیٰ نے بہت سارے پیغمبروں کے لئے رہنے کا ٹھکانہ بنایا اور انہیں وہاں داخل ہونے کا حکم دیا گیا جسکا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اس طرح کیاہے’’ اور ہم نے ابراھیم اور لوط علیہما السلام کو ارض مبارک میں نجات دی‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین کو بار بار مبارک کہا ہے کیونکہ یہ سرزمین سر سبز، شاداب اور انتہائی خوبصورت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی خوبصورت تحفہ ہے، اسلئے اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن مجید میں ارض مبارک کہا ہے۔
بیت المقدس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بابرکت جگہ ہے اور وہ بیت المقدس ہی ہے جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لئے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا۔ اس عظیم ترین سفر کی شروعات اس پاک اور بابرکت گھرسے ہی کی گئی جسکا ذکر حدیث مبارک میں کچھ یوں ملتا ہے’’ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی، اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں۔( الاسراء)
اب اگر ہم بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا ذکر کریں گے تو اس حوالے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبصورت حدیث پاک ملتی ہے جس سے ہمیں بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور وہ حدیث پاک یہ ہے’’ ابوذررضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا مسجد نبوی افضل ہے یا بیت المقدس؟ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میری مسجد میں وہاں (بیت المقدس) کی چارنمازوں سے افضل اور وہ نمازی بھی بہت ہی اچھا ہے، ایک وقت آئے گا کہ کسی آدمی کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی جتنی زمین کا ٹکڑا ہوگا جہاں سے اسے بیت المقدس نظرآئیگا، تو یہ اس کے لیے ساری دنیا سے بہتر ہوگیّّ۔( مستدرک الحاکم ( 4 / 509 )
بیت المقدس کی سرزمین اتنی پاک و صاف ہے کہ وہاں کوئی بھی برائی داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی سرزمین کو اتنی پاکی دی ہے کہ دجال بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں فرمایاہے’’دجال حرم اوربیت المقدس کے علاوہ باقی ساری زمین میں گھومے گا)( مسند احمد ( 19665))
بیت المقدس اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان تحفہ ہے تمام مسلمانوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی عظمت اور فضائل کا بار بار قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں کیا ہیں۔ اسی لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس پاک سرزمین کی محبت کو اپنے دل میں رکھے اور اس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اتنا عظیم الشان اور بابرکت ہونے کے بعد بھی جس کی اہمیت اور برکت خود قرآن اور حدیث سے ثابت ہے، اس پر دشمنان اسلام آج اپنی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور اس پر قبضہ کر کے مٹا دینا چاہتے ہیں لیکن جس بیت المقدس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے جہاں سے کئی پیغمبروں کا رشتہ جڑتا ہے، جہاں سے آج دنیا کا ہر مسلمان اپنے آپ کو جوڑتا ہے، اس سے عقیدت رکھتا ہے اور اس سے محبت بھی کرتا ہے، اس کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ اے اللہ تو اپنے اس مقدس گھر کی حفاظت کے لیے ہمیں ہمت حوصلہ اور جذبہ عطا فرما اورہم میں سے جن ساتھیوں نے اپنی قربانیاں دیں ہیں، اپنوں کو کھویا ہے اور جن معصوم بچوں نے بیت المقدس کی حفاظت کے لیے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، تو ان سب کی قربانیوں کو قبول فرما اور انکو اعلیٰ مقام پر فائز کر۔آمین۔انشاء اللہ انہیں قربانیوں کے طفیل ایک دن یہ بیت المقدس پھر سے اسرائیلیوں کے ظلم و ستم اور تشدد سے آزاد ہوگا۔
(مضمون نگار جامعتہ البنات سرینگر کی طالبہ ہے)
ای میل۔[email protected]