پونچھ// تاریخی مغل شاہراہ جموں قومی شاہراہ کے بعد واحد شاہراہ ہے جو وادی کشمیر کو ملک کی دیگر ریاستوں سے جوڑتی ہے۔ مغل شاہراہ ہندوستان کے سب سے دلکش اور دلفریب شاہراہوں میں سے ایک ہے اور اسی شاہراہ پر ضلع ہیڈکوارٹر شوپیاں سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ایک سیاحتی مقام 'پیر کی گلی واقع ہے جبکہ دوسری جانب ضلع ہیڈکوارٹرپونچھ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ایک اورسیاحتی مقام نوری چھمب ہے جو ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ بھی مغل روڈ پر کئی دلکش وادیاں ، آبشار، کوہسار، اور مرگیں ہیں جن کوملک بیرون ملک سے ہر سال ہزاروں سیاہ دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ مغل روڈ پر واقع پیر کی گلی سے گزرنے والے لوگ قدرت کے اس شاہکار کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ لازوال حسن سے مالامال اور صاف و شفاف نہریں، خوبصورت جھرنے، سفید چادر میں ڈھکی برف پوش پہاڑیاں، کَل کَل کرتی ندیاں اور سرسبزو شاداب وادیاں اور بادلوں سے ڈھکے پہاڑ یہاں پر آنے والے سیاحوں کو یہ کہنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ اگر واقعی دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔ہر سال اس سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت مارچ میں بحال ہو جاتی تھی ۔اس سڑک کے بحال ہوتے ہی جہاں سیاہ لوگ خوشی کا اظہار کرتے تھے وہیں اس سڑک پر مسافر گاڑیاں چلانے والے، ہوٹل چلانے، اور دیگر کاروبار کرنے والے لوگ بھی راحت کی سانس لیتے تھے ۔اس بار مغل شاہراہ پر ابھی تک عام لوگوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی انتظامیہ سے برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔محمد اکبر نامی ایک سیاسی و سماجی کارکن نے کہا کہ افسوس ہے کہ مغل شاہراہ پر ہمیشہ سیاست ہوتی رہتی ہے۔انھوں نے کہا کہ جون کا مہینہ ختم ہونے کو ہے ابھی تک مغل شاہرا پر عام لوگوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس شاہراہ پر واقع سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہونے والے سیاحوں کے لئے واقعی جنت بے نظیر ہے مگر سیاحوں کو اس طرف آنے کے لئے مواقع فراہم نہیں کئے جاتے ۔انھوں نے کہا کہ اگر یہ سڑک بحال رہے تو ضلع پونچھ اور راجوری بڑی ترقی کر سکتا تھا لیکن حکومتیں نہیں چاہتی کہ ان دو اضلاع کی عوام ترقی کرے ۔انھوں نے اس سڑک سے فوری طور ہر طرح کی پابندیاں ہٹا کر اسے عام لوگوں کے لئے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلع صدر انجینئر محمد رفیق چستی نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغل شاہرا کو اب عام لوگوں کے لئے کھول دینا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ افسران کو فوری اس شاہرا ہ کو عام عوام کے لئے بھی بحال کرنے کی ہدایت کریں۔انھوں نے مزید کہا کہ اس شاہرا پر سہولیات کا فقدان ہے۔ ہر سیاحتی مقام پر مناسب جگہ کا انتخاب کرکے بیت الخلا تعمیر کیے گئے ہیں مگر یہاں اس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اکثر برفباری اور بارش ہوتی رہتی ہے مگر سر چھپانے کے لیے چھت تک نہیں میسر ہے۔ ان نے مرکزی سرکار اور جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ یہاں شیڈز کی تعمیر کرائی جائے اور رابطہ بہتر کرنے کے لیے نیٹ ورک کا بھی بہتر نظم کیا جائے۔انہوں نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس دلکش اور دلفریب سیاحتی مقام کی طرف توجہ دے تاکہ ملکی سیاحوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی کافی تعداد میں یہاں کا رخ کریں اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے وسائل پیدا ہوں۔