نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے بیری پتن علاقہ میں محکمہ ائیر گیشن کی سینچائی نہر کا تعمیر ی عمل 7برسوں بعد بھی مکمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے 16دیہات کے کسانوں کے زراعی اراضی بنجر ہونا شروع ہو گئی ہے ۔کسانوں نے تعمیراتی ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آبپاشی کیلئے سینچائی نہر کا سنگ بنیاد 2014میں رکھا گیا تھا لیکن اس کے بعد اس نہر کی سنجیدگی کیساتھ تعمیر ہی شروع نہیں کی جاسکی ۔انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے زراعی اراضی کی سینچائی اور کسانوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے مناور دریا سے سینچائی نہر کی تعمیر ی عمل شروع کرنے کیلئے اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا جبکہ اس سلسلہ میں 26کروڑ روپے کی رقم بھی مختص رکھی گئی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ نہر کی تعمیر کیلئے اس وقت کے ممبر پارلیمنٹ مدل لعل شرما نے افتتاح بھی کیا تھا جس کے دوران محکمہ کی جانب سے ایک جے سی بی مشین لگا کر چا ر روز تک کام بھی کروایا گیا تاہم اس کے بعد اچانک کام کو بند کر دیا گیا ۔انہوں نے الزما عائد کرتے ہوئے کہاکہ سینچائی نہر کی تعمیر کے سلسلہ میں منظور شدہ رقم کہاں خُرد برد کی گئی ہے اس کی کوئی جانکاری ہی نہیں ہے لیکن متعلقہ حکام کے اس قدم سے علاقہ کے 16دیہات کے کسانوں کی زمینیں بنجر ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔کسانوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ نہر کی تعمیر کیلئے منظور شدہ رقم کی جانچ اور زمینی سطح پر نہر کے کام کی جانچ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ رقم میں مبینہ طورپر ہوئی خرد برد کی جانچ کر کے کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔کسانوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سینچائی نہر کی تعمیر کو جلدازجلد شروع کر دانے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں ۔