نئی دہلی//جموں کشمیرمیں ”جبرواستبداد“کے دور کوختم کرنے سے ہی وزیراعظم کی طرف سے جموں کشمیر کے مین اسٹریم قیادت کے ساتھ شروع کئے گئے بات چیت کاعمل بااعتبار بن سکتا ہے ۔اس بات کااظہار پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کیا ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا،”لوگوں کو سانس لینے کاحق تو دو،باقی اس کے بعد ہوگا“۔انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ جموں کشمیرکے چودہ سیاسی رہنماﺅں کی حالیہ میٹنگ کو سابق ریاست جموں کشمیر ،جو اب مرکزی حکمرانی کے تحت ہے،کے لوگوں کی” مصیبتوں “کے خاتمے کی طرف قدم قرار دیا۔ محبوبہ مفتی جو چودہ رکنی وفد میں شامل تھیں،نے اس بات کی وضاحت کی کہ اب گیند مرکز کے پالے میں ہے تاکہ بات چیت کو بااعتبار بنایاجائے اورکہا کہ اس سے اعتماد سازی کے اقدامات کی شروعات ہونی چاہیے اورلوگوں کو ”سانس لینے“کی اجازت دی جانی چاہیے اور ان کی زمین اور نوکریوں کا تحفظ یقینی بنایا جاناچاہیے۔ انہوں نے کہا ،”جب میں کہتی ہوں ،لوگوں کو سانس لینے کی اجازت ہونی چاہیے ،میرامطلب ہے آج اختلاف کے کسی تبصرے پرجیل بھیج دیاجاتا ہے۔حال ہی میں ایک آدمی کو اس وجہ سے جیل جانا پڑا کیوں کہ اُس نے اپنے جذبات کااظہار کیاتھا کہ اُسے کشمیری صلاح کار سے کافی توقعات ہیں۔متعلقہ ڈپٹی کمشنر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ کئی روز تک جیل کی ہواکھائیں اگر چہ عدالت نے اُسے ضمانت پر بھی دی تھی۔ محبوبہ مفتی نے کہا،”اب اگر وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ وہ ”دل کی دوری“کوختم کرناچاہتے ہیں ،اس طرح کے جبر کاخاتمہ ہوناچاہیے۔انہوں نے مزیدکہا کہ سنگ میل میٹنگ میں وزیراعظم نے کہاتھا کہ وہ ”دلی کی دوری“دور کرناچاہتے ہیں اور سا تھ ساتھ ”دل کی دوری“بھی ختم کرناچاہتے ہیں تاکہ جموں کشمیرکے لوگوں کودلی کے نزدیک لایا جائے۔ پی ڈی پی صدر نے کہا،”جموں کشمیرکے لوگوں کے ساتھ دل کی دوری کوکم کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے جاری تمام سخت ظالمانہ احکامات کوروکنا ہوگا۔نوکریوں اور زمین کے حقوق کاتحفظ کرنا ہوگا۔“ انہوں نے کہا کہ پہلے اور فوری طور جبرواستبداد کوختم کرناہوگااورحکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے کوئی جرم نہیں ہے ۔میں اور پوراجموں کشمیر اِس کا جیل کے طور حوالہ دے گا۔ 62سالہ محبوبہ مفتی جو سابق ریاست جموں کشمیرکی آخری وزیراعلیٰ تھیں،نے دیگر اعتماد سازی کے اقدامات کے ساتھ جموں کشمیراورلداخ خطوں کے تاجراور سیاحت سے وابستہ طبقے کےلئے امداد پرزوردیا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں نے دہلی بات چیت میں صرف اس لئے حصہ لیا تاکہ لوگوں کی مشکلات کومرکزی قیادت کی نوٹس میں لاﺅں۔محبوبہ نے کہا،”میں اقتدار کی سیاست کےلئے نہیں آئی ہوں،کیوں کہ میرا موقف واضح ہے میں تب تک الیکشن میں حصہ نہیں لوں گی جب تک نہ جموں کشمیر کاخصوصی درجہ بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ دعوت وزیراعظم کی طرف سے تھی ،اس لئے میں نے5اگست2019،جب دفعہ370کوہٹایا گیا،اورجموں کشمیر کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور دو حصوں میں تقسیم کیاگیا،کے بعد لوگوں کو درپیش مشکلات کو اُجاگر کرنے کا اِسے موقعہ جانا۔محبوبہ نے کہا کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گی اگر جموں کشمیر ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ ہی رہتا۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ صاف کیا ہے کہ میں مرکزی زیرانتظا م علاقہ میں کوئی انتخاب نہیں لڑوں گی لیکن میری پارٹی اس حقیقت سے بھی واقف ہے کہ ہم کسی کوسیاسی جگہ نہیں دیں گے۔ہم نے ضلع ترقیاتی کونسل چناﺅلڑے جوگزشتہ سال منعقد ہوئے۔اسی طرح اگر اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو پارٹی اس پر بحث کرے گی۔