جدہ //کورونا وائرس سامنے آنے کے بعد پچھلے سال محدود حج کی کامیابی کے بعد اس سال 60 ہزار عازمین جن میں سعودی شہری اور مملکت میں مقیم غیر ملکی شامل ہیں، نے مناسک حج کا آغاز کیا ہے۔ مسجد الحرام میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ طواف قدوم ادا کرنے کے بعد عازمین کے قافلے گروپ کی شکل میں منیٰ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔عازمین حج 8 ذی الحج کو منی میں یوم الترویہ گزاریں گے اور ظہر،عصر، مغرب، عشا اور پیر کی نماز فجر منیٰ میں ہی ادا کریں گے، جس کے بعد عازمین کے قافلے نو ذی الحجہ کو میدان عرفات پہنچیں گے اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔خیموں اور رہائشی ٹاورز میں کورونا سے بچاؤ کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ حجاج کی آمد کے ساتھ ہی تمام اداروں کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ میدان عرفات میں بھی 60 ہزار حجاج کو ٹھہرانے کے لیے خیمے نصب کردیے گئے ہیں۔بجلی کی وائرنگ کا کام بھی مکمل ہے۔ تمام انتظامات سلامتی ضوابط کے مطابق کیے گئے ہیں۔میدان عرفات میں خیموں کا کل رقبہ تین لاکھ مربع میٹر ہے۔ ہر حاجی کے لیے پانچ میٹر کے لگ بھگ جگہ مختص کی گئی ہے۔میدان عرفات حجاج کے استقبال کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ یہاں حجاج نو ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔بعدازاں سورج غروب ہونے کے بعد حجاج مغرب کی نماز ادا کیے بغیر مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں اور وہاں وہ رات گزارتے ہیں۔