حال ہی امریکہ کے مشہور تحقیقاتی ادارے Pew Research Centreنے ہندوستان کے مختلف عقائد اور ان کے ماننے والوں کے مختلف موضوعات پر ان کی رائے پر مرتب اپنے ایک سروے کی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس سروے کے لیے نومبر 2019سے مارچ2020 تک 29,999ہندوستانی شہریوں سے جو کہ ملک کی 26ریاستوں میں مقیم ہیں، مختلف سوالات پر ان کی آرا جاننے کی کوشش کی گئی، جن کی بنیاد پر یہ رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ ان 29,999افراد میں 22975ہندو،3,336 اسلام 1782 سکھ، 1011کرسچین، 719بودھ اور109جینی مذہب کے ماننے والے تھے۔
رپورٹ نے جن موضوعات کو اپنی تحقیق کے لیے استعمال کیا، ان کے جوابات جہاں چونکانے والے ہیں، وہیں ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت عوام کیا سوچتے اور سمجھتے ہیں اور کس طرح میڈیا اور سیاسی جماعتیں ان کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہیں، صرف اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔
مجموعی طور پر بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ انھیں ہندوستان میں اپنے مذہبی رسومات کو پورے طور پر نبھانے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ ان کے بقول مذہبی رواداری ہندوستان کے تشخص کا بنیادی ستون ہے۔ تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والوں کا کہنا تھا کہ ’مکمل ہندوستانی‘ ہونے کے لیے دوسرے مذاہب کو عزت دینا ایک ضروری شرط ہے۔ مزید یہ کہ مذہبی رواداری صرف مذہبی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمے داری بھی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم اپنے مذہب کی تعلیم کو مکمل طور پر مانتے اور سمجھتے ہیں تو ہم دوسرے کے مذہب کو بھی پوری عزت دیں، یہ لازم ہے۔ اگر ہم اس نقطے پر ذرا غور کریں تو پائیں گے کہ یہ عوام الناس کی رائے ہے جبکہ میڈیا میں اور قوم پرست جماعتوں میں اس کے بالکل الٹی تصویر پیش کی جاتی ہے۔
سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حالانکہ جواب دہندگان کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے تمام شہری ایک ہی آئین کے تحت اپنے عقیدے کو ماننے کے لیے آزاد ہیں اور وہ دیگر عقائد کے ساتھ کچھ مشترک سماجی اور مذہبی ہم آہنگی بھی رکھتے ہیں تاہم 66فیصد بندوں کا ماننا ہے کہ وہ مسلمان سے بالکل مختلف ہیں اور 64فیصد مسلمان بھی اسی طرح کی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
اس سماجی تفریق کی بنیادی وجہ ان مختلف مذاہب کی مذہبی رسومات اور ان کے ماننے والوں کی مذہب پرستی ہے۔ اسی موضوع سے جڑے اگلے سوال پر جو آرا سامنے آئی، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی بنیادیں کس حد تک آپ کے اندازِ فکر کو متاثر اور کنٹرول کرتی ہیں۔ تقریباً67فیصد افراد کی رائے تھی کہ ہندو لڑکے، لڑکیوں کو دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے شادی نہیں کرنی چاہیے، مسلمانوں میں 80 فیصد افراد کی رائے تھی کہ مسلم عورتوں کو دوسرے مذہب میں شادی نہیں کرنی چاہیے اور 76فیصد کی رائے تھی کہ مسلم مردوں کو ایسی شادی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
مذہبی رواداری
اس موضوع پر جو آرا سامنے آئی وہ جہاں زیادہ لوگوں کو عجیب لگ سکتی ہے، وہیں وہ زیادہ تر ہندوستانیوں کے لیے ایک عام بات ہے۔ جہاں ایک طرف وہ مذہبی رواداری کے حق میں نظر آئے ہیں وہیں وہ چاہتے ہیں کہ مختلف خانوں میں رہیں لیکن ایک ساتھ رہیں۔ مزید یہ کہ وہ دونوں چیزیں ایک ساتھ چاہتے ہیں، جہاں وہ آپسی رواداری کو ہندوستانی ہونے کا بنیادی جز مانتے ہیں وہیں وہ آپسی روابط کو کم سے کم رکھنا چاہتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں اکثر ہندوستانیو ںکی سوچ دوسرے ملکوں سے بالکل مختلف نظر آتی ہے، ان کے بقول مذہبی رواداری کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ دوسرے مذاہب کے ساتھ گھل مل جائیں۔ جہاں دوسرے ملکوں میں مختلف مذاہب یا قومیں آپس میں گھل مل کر ایک Melting Pot سے متشابہ کی جاسکتی ہیں وہیں ہندوستان میں ہر مذہب پاس پاس لیکن الگ الگ رہنا چاہتا ہے جیسے کہ کسی ایک کپڑے پر مختلف رنگوں کے پیوند۔
ہندو قوم پرستی
سروے کے مطابق ہندوستان کے زیادہ ہندو ان کی مذہبی شناخت اور قومی شناخت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ 64فیصد افراد کا کہنا تھا کہ مکمل ہندوستانی ہونے کے لیے ایک ہندو ہونا لازم ہے۔ ساتھ ہی 59فیصد کی رائے تھی کہ اگر آپ کو ہندی بولنا آتی ہے تبھی آپ کو ہندوستانی مانا جاسکتاہے۔ یعنی کہ قومی شناخت کے لیے آپ کا ہندو ہونا اور ہندی بولنا لازم ہے۔ اگر ہم حالیہ سیاسی حالات کا تجزیہ کریں تو پائیں گے کہ 2019کے عام انتخابات میں رائے دہندگان کے تقریباً 30فیصد نے ان امور پر سخت موقف اپنایا تھا، یعنی کہ ایک سچا ہندوستانی ہونے کے لیے ہندو ہونا،ہندی بولنا اور بی جے پی کو ووٹ دینا ضروری ہے۔ تاہم ان خیالات کی عکاسی ملک کے شمالی اور مرکزی حصوں میں زیادہ پائی گئی، جہاں پر تقریباً 50فیصد رائے دہندگان اس زمرے میں آئے جبکہ جنوبی ریاستوں میں ان کی تعداد محض5فیصد تھی۔
ہندوستانی مسلمان
سروے میں شامل مسلمانوں کی اکثریت کے بقول ہندوستان کا ثقافتی مزاج یا کلچر دیگر ملکوں سے مختلف اور زیادہ بہتر ہے۔ 95فیصد افراد کی رائے تھی کہ انھیں اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور ان کی اکثریت نے ہندوستانی ثقافت میں اپنا اعتماد ظاہر کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پانچ میں سے ایک یعنی کہ 20فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ اس کے علاوہ 65فیصد نے ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ زیادہ تر مسلمانوں نے دوسرے مذاہب کے تہواروں میں شرکت کو صحیح قرار دیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک سچا مسلمان وہی ہوسکتا ہے جو کہ نجس گوشت کھانے سے پرہیز کرے اور پابندی سے مسجد میں نماز ادا کرے۔ اس سوال کے حق میں 77فیصد لوگوں نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ہی 91فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں مذہب کو اور اس کی پابندی کو ضروری سمجھتے ہیں، 66فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ دن میں کم از کم ایک مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں اور10میں سے 7افراد کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک مرتبہ مسجد ضرور جاتے ہیں اور باعمر لوگوں میں یہ تعداد 93فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
دیگر متنازع مسائل جیسے کہ تین طلاق پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ تر مسلمانوں نے کہا کہ وہ تین طلاق کو غلط مانتے ہیں۔ 56فیصد مسلمان مردوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہی نشست میں تین طلاق دیے جانے کو غلط قرار دیتے ہیں، اس کے ساتھ ہی 37فیصد مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ طلاقِ ثلاثہ کو درست مانتے ہیں، جس میں مردوں کی تعداد 42فیصد اور عورتوں کی تعداد 32فیصد تھی۔ مجموعی طور پر 61فیصد مسلم عورتوں نے طلاق ثلاثہ کی مخالفت کی۔
جنوب اور شمالی ہندوستان میں مختلف فکر
سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی جنوبی ریاستوں — آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو اور تلنگانہ میں مذہب، سیاست اور تشخص پر آرا شمالی ریاستوں سے بالکل مختلف پائی گئی۔ مرکزی ریاستوں کے مقابلے جنوبی ریاستوں میں صرف 69فیصد نے روز مرہ کی زندگی میں مذہب کو اہم مانا جبکہ مرکزی ہندوستان میں 92فیصد افراد نے اس کو اہم قرار دیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہندو قوم پرستی کے حق میں جذبات یہاں کم پائے گئے۔ جنوبی ریاستوں میں صرف 19فیصد افراد نے کہا کہ انھوںنے بی جے پی کو ووٹ دیا جبکہ شمالی ہندوستان میں 68فیصد نے تسلیم کیا کہ انھوں نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔
اس کے علاوہ رپورٹ نے دونوں حصوں کے درمیان معاشی ترقی کے فرق کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین کی رائے میں جنوبی ریاستیں، شمالی ریاستوں کی بہ نسبت زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ ہیں اور ان کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جنوب میں مذہبی اصلاحات پہلے شروع ہوچکے تھے جس کہ وجہ سے وہاں ذات پات کا فرق بہت کم ہوگیا ہے اور پورا سماج اپنی صلاحیتوں کو عوامی ترقی کے لیے بروئے کارلاتا ہے۔
مجموعی طور پر سروے میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں اس سے ایک بات صاف ہے کہ حالیہ عرصہ میں تمام مذاہب میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ابھی بھی ہندوستانی ثقافت کے پیروے کار ہیں اور آپس میں مل جل کر رہنا چاہتے ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
Email: [email protected]