اللہ پاک نے اپنے بندوں کو ان کی بندگی کا احساس دلانے اور اپنی معبودیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کچھ احکامات ان پر نافذ کیے ہیں؛ تاکہ انسان اپنی زندگی کو آزاد نہ سمجھ بیٹھے، اپنے محدود اختیار کو کلی اتھارٹی سمجھ کر بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائے ؛ اللہ پاک نے نماز فرض کی تاکہ بندہ اس کے ذریعے اللہ کے حضور سربسجود ہوکر اپنی کمتری کا احساس کرے ، خود کو غلام سمجھے، ناتواں تصور کرے، اللہ کو اپنا مالک حقیقی جانے اور اس کی فرماں برداری کے لیے اپنے وجود کو زمین پر رکھ دے۔ اللہ نے رمضان کے روزے فرض کیے تاکہ انسان کو احساس ہوکہ جو کچھ ہم کھاتے اور پیتے ہیں یہ کھانا اور یہ پانی سب اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں؛ اگر وہ عطا نہ کرتا تو ہم بھوکے مر جاتے۔ اسی طرح اللہ پاک نے زکوٰۃ اور حج کے احکام نازل کیے جن میں انسان کی عبدیت اور خدا کی معبودیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ پاک نے سال بھر میں ایک بار اپنے بندوں کو ’’قربانی‘‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان جانوروں کی قربانی کرکے اللہ کے حضور اپنی بندگی کا عمل پیش کرتے ہیں تاکہ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔ عقل کے گھوڑے دوڑانے والے بہت سے دنیانواز دانشوروں کو مسلمانوں کا ’’قربانی‘‘ والا عمل فضول معلوم ہوتا ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دانشوروں نے مالک اوربندے کے فلسفے کو سمجھا ہی نہیں، آقا اور غلام کے درمیانی تعلق کو اگر وہ پہچان جاتے تو اس طرح کی باتیں نہ کرتے؛ قربانی درحقیقت مالک حقیقی کی طرف سے بندۂ محتاج کو آزمانے کا وہ طریقہ ہے جس کے بعدبندہ اپنی بندگی کے معراج کو پالیتا ہے۔ قربانی خدا کے فرماں برداروں کی طرف سے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اپنے مالک حقیقی کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں خواہ اس حکمِ خداوندی کی حکمت ِ ظاہری ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ کے دوست کہلائے جانے والے نبی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں خدا کا حکم ملتا ہے تواپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں اور بیٹا بھی اللہ کی منشاء کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کردیتا ہے۔
چنانچہ’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ راوِی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رَضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا: تمہارے باپ اِبراہیم علیہ السلام کا طریقہ (یعنی اُن کی سنت) ہے، صحابہ نے عرض کیا کہ پھر اس میں ہمارے لیے کیا (اجر وثواب) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: (جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی، اُنہوں نے عرض کیا کہ (دُنبہ وَغیرہ اگر ذبح کریں تو اُن کی) اُون (میں کیا ثواب ہے؟) فرمایا: کہ اُون کے ہربال کے بدلے ایک نیکی‘‘۔
مذکورہ حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ عملِ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، وہیں اس کے بدلے ملنے والے ان گنت ثواب کا بھی علم ہوتا ہے۔
قربانی کے تئیں ہماری ذمہ داریاں
(۱) عمدہ جانور کی قربانی: قرآن میں ہے کہ ’’اللہ کے پاس قربانی کے جانور کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا جائے اور ایک حصہ خود کھانے کے لیے رکھ لیا جائے؛ لیکن یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، آدمی چاہے تو خود بھی پورا گوشت رکھ سکتا ہے۔
ذبح کرنے کا طریقہ
ذبح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رو لٹانے کے بعد ’’بسم اللہ، و اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے تیز دھار چھرے سے جانور کے حلق اور لبہ کے درمیان ذبح کیا جائے، اور گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے، نہ ہی حرام مغز تک کاٹا جائے، بلکہ ’’حلقوم‘‘ اور ’’مری‘‘ یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف کی خون کی رگیں جنہیں ’’اَوداج‘‘ کہا جاتا ہے کاٹ دی جائیں، اس طرح جانور کو شدید تکلیف بھی نہیں ہوتی اور سارا نجس خون بھی نکل جاتا ہے، اس طریقہ کے علاوہ باقی تمام طریقوں میں نہ ہی پورا خون نکلتا ہے اور جانور کو بلا ضرورت شدید تکلیف بھی ہوتی ہے۔جانور کو قبلہ رخ لٹاتے ہوئے جانور کی بائیں کروٹ پر لٹانا پسندیدہ ہے، تاکہ دائیں ہاتھ سے چھری چلانے میں سہولت رہے۔
''عن أنس، قال: «ضحی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین أملحین أقرنین، ذبحہما بیدہ، وسمی وکبر، ووضع رجلہ علی صفاحہما»''.(صحیح مسلم:3/ 1556)
ترجمہ: حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا،اور ذبح کرتے وقت ’’بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘ پڑھا،اور ان کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا۔
جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائے تو پہلے درج ذیل آیت پڑھنا بہتر ہے:
''إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ''.
اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:
''اللّٰہُم َّمِنْکَ وَ لَکَ'' پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ذبح کرے، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:
''اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِیْلِکَ إبْرَاہِیْمَ علیہما السلام''.
اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو ''مِنِّیْ'' کی جگہ '' مِنْ '' کے بعد اس شخص کا نام لے لے۔