سرینگر //تعلقات میں اضافہ، سماجی اور مذہبی اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں مثلاقربانی اور عیدالضحیٰ پر قربانی کے گوشت کی تقسیم کے دوران کورونا مخالف قوائد و ضوابط کو نظر انداز کشمیر میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا سبب بنا سکتا ہے۔ ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں جانوروں کی قربانی کے دوران قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ کیمونٹی مڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کہا کہ صرف کورونا مخالف ٹیکہ لگوانے والے قصابوں سے ہی قربانی کرائیں کیونکہ بغیر کورونا مخالف ویکسین والے قصابوں سے کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے کیونکہ ان کو مختلف گھروں میں قربانی کے فرائض انجاد دینے کیلئے جانا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں وائرس ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا مخالف ٹیکہ لگانے والے افراد کو ہی قربانی کے جانور س رابطہ میں آنا چاہئے جبکہ قربانی کے دوران ماسک اور سماجی دوری کا اہتمام ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو قربانی کے جانور سے دور رکھنا چاہئے کیونکہ بچوں کو ابھی ویکسین نہیں لگے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ صرف گوشت کی تقسیم کاری کا کام ، ان لوگوں کو دیا جانا چاہئے جنہوں نے کورونا مخالف ویکسین لگائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ قربانی سے جڑے افراد کی جانب سے کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عمل نہ کرنا کشمیر میں تیسری لہر کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کورونا مخالف ویکسین لگانے والے افراد کو گھروں میں داخلہ ہونے کی دعوت دینی چاہئے۔انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عمل کریں تاکہ پورے سماج کو کورونا وائرس سے بچایا جاسکے۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں پھپھڑوں کی بیماریوں کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر رفیع جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ عید الضحیٰ سے قبل اور عیدالضحیٰ کے دوران جانوروں کی قربانی کے دوران بھی کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جانوروں کی قربانی کرانے والے قصابوں اور قربانی کرنے والے افراد کو ہر صورت میں منہ پر ماسک، ہاتھوں میں گلوز اور قربانی کے دوران سماجی دوری کو برقرار رکھنا ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ٹیکہ لگانے والے قصاب یا بغیر ٹیکہ لگائے آنے والے قصابوں سے بھی قربانی کرائی جاسکتی ہے لیکن اس دوران کسی بھی صورت میں ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہے تو گھر گھر قربانی کا گوشت تقسیم کرنے سے گریز کریں کیونکہ موجودہ عالمی وباء کے دوران یتیم خانوں اور کوڈ کالونی اور دیگر جگہوں پر بھی ایک ساتھ گوشت دیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر رفیع جان نے بتایا کہ گھر گھر گوشت تقسیم کرنے کے دوران گوشت تقسیم کرنے والے افراد کو گلوز اورماسک کا استعمال کرنا لازمی ہے اور ایسے افراد کو گھروں میں داخل نہ ہونے دیں۔