کنگن// عدالت عالیہ کی طرف سے عائد پابندی کے باوجود نالہ سندھ سے غیرقانونی طور پر ریت باجری اور بولڈر نکالنے کا عمل جاری ہے جس سے اس نالہ کے وجود پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں،تاہم متعلقہ محکموں کا کہنا ہے کہ نالہ سندھ کی ہیت کو بچانے اور شان رفتہ بحال رکھنے کیلئے ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جس اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ وائل سے بال تل سونہ مرگ تک جگہ جگہ ریت و باجری نکالی جاتی ہے اور یہ کارروائی انتظامیہ کے ناک کے نیچے ہو رہی ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے نالہ سندھ کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہناہے کہ ریت بجری اور بولڈر نکالنے سے نہ صرف نالہ سندھ کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے بلکہ نالہ سندھ میں پل رہی ٹرائوٹ مچھلیوں کی بقاء کو خطرہ لاحق ہوگیاہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران نالہ سندھ کی وسعت کافی حد تک بڑ چکی ہے جو سیلابی صورتحال کے دوران کافی تباہی مچا سکتی ہے جو کہ عوام اور انتظامیہ کیلئے سیلاب کے دوران کئی طرح کے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائل سے لیکربال تل تک نالہ سندھ میں کئی مقامات پرلوگوں نے قبضہ کیا ہے جس کی طرف متعلقہ محکمہ کو کوئی بھی دھیان نہیں ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ 2014 میںآئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے نالہ سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے رہائشی مکانوں اور اراضی کو نقصان پہنچا ،لیکن اس کے باوجود بھی اس سے منسلک محکموں نے اس غیر قانونی کام کو بند کرنے میں ناکافی اقدامات اٹھائے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گاندربل غلام جیلانی نے بتایا کہ گذشتہ ماہ محکمہ فشریز نے گاندربل ضلع کے مختلف علاقوں میں نالہ سندھ سے غیرقانونی طور پر ریت بجری اور بولڈر نکالنے والوں کے خلاف 5 کیس درج کئے ہیں اور جرمانہ بھی وصول کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 میں تباہ کن سیلاب کے بعد نالہ سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ کی وجہ سے بیشتر جگہوں پر لوگوں کی اراضی جو نالہ سندھ کے نزدیک تھی، سیلاب کی زد میں آگئی جس کے بعد ان اراضی مالکان نے اس پر باندھ بناکر ریت نکالنے کا کام شروع کیا ،ادھر عوامی حلقوں نے فشریز کے اس بیان کو مسترد کیا۔ محکمہ جیالوں اینڈ مائننگ کے ضلع افسر گاندربل ذوالفقارمحمد شفیع نے بتایا کہ گذشتہ ماہ جیالوجی اینڈ مائننگ نے تحصیل گنڈ اور وائل کے علاوہ مختلف علاقوں میں نالہ سندھ سے ریت بجری اور بولڈر نکالنے والو ںکے خلاف 7ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ 8 لاکھ72ہزار701روپے جرمانہ بھی وصول کیا جبکہ 65 گاڑیوں کو ضبط کیا گیا ہے۔