سرینگر//زمینی سطح پرترقیاتی عمل میں تیزی لانے کیلئے،حکومت جموں کشمیرنے فیصلہ کیا ہے کہ 3 لاکھ روپے تک کے کاموں کو مقامی پنچایت کے لوگوں کیلئے ہی محدود کیاجائے تاکہ وہ ان کاموں کے ٹینڈرنگ میں شریک ہوسکے۔ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اگرٹینڈر کے عمل میں موافق ردعمل نہیں آیاتوٹینڈرعمل میں شرائط کو نرم کیا جائے گااور نزدیکی پنچایتوں کے لوگ بھی اس میں حصہ لے سکیں گے۔اس فیصلے کا مقصدمقامی لوگوں کی شرکت سے شفافیت اور کاموں کی عمل آوری میں تیزی لانا ہے،جس سے معرض وجود میںلائے گئے اثاثوں کی عوامی ملکیت کوبھی فروغ حاصل ہوگا۔ سرکاری ترجمان کے مطابق پنچایتوں کے باشندے جو اس ٹینڈر عمل میں شرکت کے خواہش مند ہوں گے ،وہ سادہ طور اپنا نام رجسٹر کراسکتے ہیں جس کی رجسٹری ضلع کمشنر کی سطح پر درج رکھی جائے گی۔ اس کے لئے خواہشمندافراد کو آدھار کارڈ،پین کارڈ،اور اقامتی سند پیش کرنی ہوگی جب کہ اس کی تصدیق پنچایتیں اور مقامی پولیس کرے گی۔ ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں محکمہ خزانہ کی طرف سے تفصیلی ضوابط جاری کئے جائیں گے۔ عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے محکمہ دیہی ترقی کومعقول تعداد میں سبکدوش ہوئے انجینئروں کی خدمات کنٹریکچول بنیاد پرحاصل کرنے کااختیار دیا گیا ہے تاکہ پنچایتوں میں کام کی رفتار اثرانداز نہ ہو۔ترجمان کے کہا کہ اسسٹنٹ ایگزیکیٹوانجینئروں کواختیارات تفویض کرنے کی پہلے ہی محکمہ دیہی ترقی کوہدایات دی گئی ہیں۔