ماہ ِمحرم تو بہت پہلے سے محترم تھا، یعنی اسلام سے بھی بہت پہلے سے بلکہ ابتدائے کائنات سے ہی محترم تھا۔ قرآن میں ہے:’’اللہ کے نزدیک مہینوں کے گنتی بارہ ہے۔جو اللہ کی کتاب میں اسی روز لکھ دی گئی تھی جب اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کی تھی اور ان میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔‘‘(التوبۃ: 36)
اللہ نے ایک سال کے بارہ مہینے مقرر فرمائے تھے اور ان میں چار کو حرمت والے مہینے قراردیا تھاتاکہ ان میں اللہ کے گھر کی زیارت کی جائے اور اس کے گرد طواف کیا جائے۔بارہ میں سے چار مہینوں کو حرمت والے مہینے قرار دینے یعنی ان میں جنگ کو ممنوع قرار دینے کے پس پردہ وادیٔ بطحا میں امن وامان کی عمومی صورت حال پیداکرنے کی طرف بڑی پیش رفت تھی تاکہ لوگ بیت اللہ کی زیارت کے لیے دُوردراز کے خطوں سے کسی قسم کے خطرے اور خوف کے بغیر رخت سفر باندھ سکیں۔
اُس وقت جب قرآن نازل ہوا تھا، اہل عرب کئی طرح کی بُری خصلتوں میں ملوث تھے۔ ان میں کم از کم دوبُری خصلتیں یعنی شراب اور جنگ۔ ان پر ان دونوں چیزوں کا جنون اس طرح طاری تھا کہ وہ کھانے پینے کے بغیر رہ سکتے مگر شراب اور جنگ کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ جنگجو ہونا آدمی کی سب سے بڑی قابلیت اور لیاقت سمجھی جاتی تھی اور ہر چیز کے لیے جنگ ہوتی رہتی تھی۔ پانی ، جانور،عورت ، زمین و جائیداد، شہرت و عزت، غرض کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کاواحد راستہ جنگ تھا، یہاں تک کہ بادشاہت بھی اُسی کو ملتی تھی جو جنگ جیت جاتا تھا۔ ایسی صورت حال میں چار ماہ تک لڑائی کو موقوف رکھنا ایسی فطرت کے حامل لوگوں کے دلوں میں امن وامان کی اہمیت کو مستحکم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔
محرم کی دس تاریخ پہلے ہی سے اہم سمجھی جاتی تھی، یہودونصاریٰ اس تاریخ کو جس نسبت سےروزہ رکھتے تھے ، وہ بھی درست تھی، اِسی لیے حضورﷺ نے روزہ رکھنے کی اُس روایت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے مزید عظمتیں دیں اور فرمایا کہ مسلمان دودن کا روزہ رکھیں۔ ایک دن کا اضافہ اس لیے کیا تاکہ یہود ومشرکین سے مشابہت نہ ہو۔
دن، ہفتے ،ماہ و سال یوں تو یکساں ہیں اور مجرد ہیں یعنی وہ بذات خود عِلت العلل نہیں ہیں مگر جن ایام اور ماہ وسال کے تعلق سے کوئی فرمان ِخدا یا فرمان ِنبیؐ موجود ہے تو پھروہ مجرد نہیں رہ جاتے، وہ خصوصیت اختیارکر لیتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصیات گرچہ ان کے اپنے وجود سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ اللہ کے اِذن کے تابع ہوتی ہیں تاہم ان میں دینی اعمال کی نسبتیں ،رفعتیں حاصل کرلیتی ہیں۔تکوینی اعتبار سے سب اوقات اور ایام برابر ہیں مگر ان کی تشریعی نوعیتیں مختلف ہیں۔البتہ ان تشریعی نوعیتوں کا تعلق دنیا کے بالمقابل آخر ت سے زیادہ ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں وقت، ایام اور ماہ وسال کو نحوستوں سے جوڑ دیا گیا تھا مگر اسلام میں نحوستوں کی نسبتوں کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(لا عَدْوَی وَلا طِیَرۃ وَلا صَفَر ولا ھامۃ)۱۰؍اور پھر ان میں سے بعض اوقات، ایام اور ماہ و سال کے خاص حرمتیں اور عظمتیں پیدا کردیں اور بنی نوع انسانی پر یہ ایک بڑا حسان ہوا کہ انسان توہمات کی اندھیری غار سے ایمان و یقین کی روشنی کی طرف نکل آنے میں کامیاب ہوا۔
اس مہینے کو مزید ایک عظمت اس وقت ملی جب اس ماہ میں ہجرت کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا اور پھر آگے چل کر اسی ماہ سے اسلامی کلینڈر کی ابتدا ہوئی۔ یہ عجیب بات ہے کہ قومیں تو اپنی فتوحات کو قومی یادگار بناتی ہیں،فتح کے دن یا ماہ اور سال کی طرف اہم چیزوں کی نسبت کرتی ہیں۔ نصاریٰ نے عیسوی کیلنڈر کی ابتدا حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے یوم پیدائش سے کی۔ اسلام میں بھی اس کی بڑی گنجائش تھی۔ کم از کم دو مواقع تو ایسے ضرورت تھے کہ انہیں اسلامی کلینڈر کی ابتدا کے لیے چنا جاسکتا تھا، ایک حضورؐ کا یوم پیدائش اور دوسرا فتح مکہ کا دن۔ اسی طرح وہ دن بھی کچھ کم اہمیت کا حامل نہ تھا جب غزوۂ بدر پیش آیا اور مٹھی بھر مسلمانوں نے ایک لشکر جرار کو شکست دی۔مگر چونکہ محض کشور کشائی اسلام میں کچھ عظمت کی حامل نہیں سمجھی گئی ہے اس لئے ان فتوحات کو کوئی نشانِ امتیاز نہ مل سکا۔ یہ بھی اپنے آپ میں تعجب خیز بات ہے بلکہ غوروفکر کی حامل ہے کہ قرآن نے صلح ہدیبیہ کو فتح مبین کہا اور فتح مکہ کو ایسا کوئی نام نہیں دیا۔یعنی جس چیز کو مسلمان فتح سمجھتے اور کہتے ہیں ،اللہ نے اسے کوئی خاص بڑائی نہیں دی اور مسلمان بلکہ صحابہ کرام بھی جس چیز کو کمتر ورسوائی کی چیز سمجھ رہے تھے، اللہ نے اسے فتح قرار دیا اور نہ صرف فتح بلکہ فتحِ مبین بھی فرمایا۔
قربان جائیے صحابہ کرام کی مومنانہ فراست پر! انہوں نے اس عظیم چیز یعنی اسلامی کلینڈر کو جاری کرنے کے لئےنشان کے طور پر ہجرت کو چنا۔ ہجرت بظاہر شکست ہے مگر بباطن بہت بڑی فتح ہے۔ ہجرت میں یہی تو ہوتا ہے کہ ایک شخص یا ایک قوم محض اپنے ایمان اور دین کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ دیتی ہےاور کسی دوسری جگہ جاکر بس جاتی ہے،جہاں اس کے لیے اس کے دین پر چلنا آسان ہو،دین وایمان کو بچالینا گویا ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی فتح ہے، چاہے اس کی جو بھی قیمت چکانی پڑی ہو۔ اور ہجرت میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ مؤمن دنیا کے عوض اپنے دین کو محفوظ کرلیتا ہے۔اس کے علاوہ ہجرت، پلٹ کر دشمن کے مقابل آنے کے لیے یا کم از کم اپنے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کے لئے تیاری کا ایک بڑا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
زمانہ تھوڑا اور آگے بڑھ گیا اور اس ماہ کو ایک اور عظمت کا نشان مل گیا اور یہ تھا شہادتِ حسین ؓ کا واقعہ۔ یہ واقعہ بھی اپنے آپ میں بڑاہی عجیب وغریب ہے۔گرچہ ایسا نہیں ہے کہ پوری تاریخ اسلام میں بس یہی ایک شہادت کا واقعہ ہےبلکہ اس سے قبل بھی بے شمار شہادتوں کے واقعات رونما ہوچکے تھے۔ البتہ شہادت کے اس واقعہ کو جس چیزنے سب سے زیادہ دردناک بنادیا ہے ،وہ یہ ہے کہ یہ تاریخ اسلام کا پہلا واقعہ ہے جس میں بیک وقت پورے خاندان نے جام شہادت نوش کیا، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں نے بھی۔
حق تویہی ہے کہ اسلام از اول تا آخر قربانی سے عبارت ہے۔اسلام کی ابتدا میں حضرت اسماعیلؑ کی قربانی ہے اور آخر میں شہادت حسینؓ قربانی کی اعلیٰ مثال ہے۔گرچہ ان دونوں قربانیوں کی نوعیتوں میں اور علتوں میں فرق ہے مگر جو بات ان دونوں میں مشترک ہے ،وہ ہے جان کی قربانی۔ داستان ِحرم کی اس عجیب وغریب ابتداء اور انتہا سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں از اول تا آخر قربانی ہی قربانی مطلوب ہے، کبھی نفس کی اور کبھی مال کی۔ داستان حرم کی ابتدا کس قدر سادہ ہے۔ بس ایک خواب ہے اور وہ بھی بیدار آنکھوں کا نہیں بلکہ سوتی ہوئی آنکھوں کا، پھر بوڑھے باپ کی طرف سے جواں سال بیٹے سے اجازت طلب کرناہے اور پھرجیسے ہی بیٹے کی طرف سے مثبت جواب ملتاہے خواب میں حاصل ہونے والا اللہ کا حکم عملی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ یعنی صرف تین ذات ہیں، اللہ، باپ اور بیٹا۔ اللہ نے حکم دیا، خلیل اللہ نے جواں سال بیٹے سے اجازت طلب کی اورپھر اس کے معا بعد حکم کی تعمیل کے وقت زمین و آسمان لرزاُٹھے۔ یہ منظر نہ اس سے پہلے کبھی کائنات کی آنکھوں نے دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد۔ یہ پوری کائنات میں اپنی نوعیت کا صرف ایک ہی واقعہ پیش آیا تھا۔اور جب اِس داستانِ حرم کی انتہاہورہی ہے تو منظر بدلا ہوا ہے۔ یہ منظر ہزاروں اور لاکھوں نفوس تک وسیع ہے۔ اس میں ارادے کا دخل ہے، گومگو کی کیفیت ہے، دھوکہ وفریب بھی ہے۔ حضرت حسینؓکو بلایا جاتا ہے، آپؓ کے خیر خواہ آپؓکو روکنے کی کوشش بھی کررہے ہیں اور کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں کہ آپ ؓ ارادہ تبدیل فرمالیتے ہیں اور واپس لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ مگر آسمان کی آنکھوں کو یہ منظر دیکھنا تھااور اللہ کو پوری انسانیت کے لئے آپؓ کے عزم و حوصلے کو مثال بنانا بھی تھا۔ داستانِ حرم جس کی ابتدا انتہائی سادہ تھی اپنی اِنتہا کو پہنچتے پہنچتے رنگین ہوگئی۔
حرم کی داستان حضرت اسماعیل ؑکے جذبہ قربانی سے شروع ہوتی ہے اور حضرت حسینؓ کے جذبہ ?شہادت پر منتہی ہوتی ہے۔داستانِ حرم ابھی ختم نہیں ہوئی، البتہ یوں کہہ سکتے کہ اس کا ایک با ب شہادت حسینؓ پر مکمل ہوگیا۔ حرم کی داستان وقت کی زبانی قیامت تک رقم ہوتی رہے گی اور اسی طرح کبھی غربت و سادگی اور کبھی تہہ داری اور رنگینیوں کے ساتھ افتاں خیزاں آگے بڑھتی رہے گی کہ ابھی وقت تھما نہیں ہے اور ابھی کن فیکن کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔دس محرم الحرام کا اب تک اشک ولہو سے کچھ رشتہ نہ تھا مگر شہادت حسین ؓ کے بعد اس دن کا اشک و لہو سے بھی رشتہ جڑ گیا۔تاہم یہ بات اپنے آپ میں بڑی تعجب خیز ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ غم منانے میں بہت آگے چلا گیا ہے۔ چونکہ غم منانے کی روایت کے پیچھے کچھ خاص ہدایات اور اصول و ضوابط نہیں ہیں، اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ غم منانے کے رسم ورواج ترقی کرتے چلے گئے۔شیعہ برادری کے لوگ اس تاریخ کو سال بہ سال اشک تو بہاتے ہیں ساتھ ہی خون بھی بہاتے ہیں۔ا شک و لہو بہانے کی ریت روایات آج بہت مستحکم ہوچکی ہیں۔ 10محرم الحرام، یوم عاشوراء اور 12 ربیع الاول، یوم ولادت رسول ﷺ کے مواقع پر دنیا بھر میں ہونے والے ماتم وعزاء اور جشن وچراغاں کی تقریبات، مجالس اور جلوس میں ہائے ہو اور ہڑبونگ کا حال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کے تیوہار منانے کے طور طریقوں اور ہندوؤں کے مذہبی تیوہار منانے کے طور طریقوں میں اب کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔جشن منانے یا نہ منانے کے تعلق سےیہ بھی اپنے آپ میں بڑی عجیب سی بات ہے کہ مسلمانوں کی دو بڑے گروہ نانا(حضرت محمدؐ)کا یوم ولادت مناتے ہیں اورپوتے(حضرت حسین ؓ) کا یوم شہادت۔ ایک میں خوشی مناتے ہیں اور ایک میں غم۔ حالانکہ ولادتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورشہادت ِ حسین ؓ کے درمیان کم وبیش ایک سو دس سال پر محیط وقت کی طویل بسا ط بچھی ہوئی ہےاور وقت کی اس طویل مدت میں ہزاروں ولادتیں ہوئیں اور ہزاروں شہادتیں ہوئیں۔ یہاں تک کہ خود حضرت حسینؓ کے والد حضرت علی ؓبھی شہید ہوئے ہیں اور آپؓ کے پیش رو حضرات عمر وعثمان رضی اللہ عنہما بھی شہید ہی ہوئے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے کسی بھی طبقے میں ان میں سے کسی کا بھی یوم شہادت منانے کا رجحان یا روایت نہیں ہے بلکہ بیشتر مسلمان یہ تک بھی نہیں جانتے کہ کس کا یوم شہادت کب ہے اور کس کا یوم ولادت کونسا ہے۔حالانکہ اسلام میں شہادت وجہ غم نہیں اور نہ ہی ولادت وجہ جشن ہے۔ اسلام میں ولادت اور موت دونوں بالکل سادہ امور ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ہی اللہ کے اِذن اور امر سے ہیں۔ رسول اللہ ؐسے پہلے لاکھوں انبیاء کرام اس دنیا میں تشریف لائے اور چلے گئے مگر رسالت مآبؐ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی نبی کی ولادت یا موت کے واقعے کو جشن کے طور پر نہ منایا اور نہ ہی منانے کا حکم دیا۔
680 عیسوی تک10 محرم الحرام کا اشک و لہو سے کچھ رشتہ نہ تھا بلکہ اس کا رشتہ شکر گزاری کے جذبات سے تھا کہ اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو صدیوں کی غلامی سے نجات عطا فرمائی تھی اور ڈھائی تین ہزار سال بعد جب 680 عیسوی میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا غم انگیز واقعہ پیش آیا تو اس دن سے یوم عاشوراء کا رشتہ اشک و لہو کی روایت سے جوڑ دیا گیا۔ ابتدا میں اس رشتہ ?غم واندوہ میں سادگی تھی مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا غم منانے کی روایت میں غم کو برانگیختہ کرنے والے محرکات اور داعیات اور لہو بہانے کی رسم ورواج ترقی پاتے چلے گئےاور تواتر کے ساتھ یہ رسم پھیلتی اور وسیع ہوتی چلی گئی۔
۔ریپورہ ،لارگاندر بل سرینگر
رابطہ۔9469411580
����