اگر ہم آفات سماوی کے حوالے سے بات کریں تو جموں و کشمیر میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں آفات سماوی کبھی بھی اور کہیں بھی آ سکتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری انتظامیہ ان آفات سے لوگوں کو بچانے میں کتنی کامیاب ہوپاتی ہے؟جموں وکشمیر میں زلزلے،سیلاب ،پسیاںگر آنے اور سڑکیںکھِسک جانے جیسے مناظروقفہ وقفہ کے بعد دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں یہاں ٹریفک حادثات کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی رواں دواں ہے۔ لیکن ان آفات سماوی کیلئے جموں وکشمیرکا انتظامیہ کتنا تیار ہوتاہے، یہ ہر آنے والے مصیبت کے وقت بخوبینظر آتا ہے۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کا ایک پہاڑی علاقہ ہنزرؔ کے نام سے جانا جاتا ہے جو دچھنؔ کا ایک قریبی گاؤں ہے، یہاں حال ہی میں پیش آئے سانحہ نے انسانی دلوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں بادل پھٹنے کی وجہ سے دچھنؔ کا یہ گاؤں ہنزرؔ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے۔وہیںچاروں طرف سے پانی کی بہتی نہریں طوفان کا منظر پیش کر رہی تھیں جس کے نتیجہ میں دچھن کے ہنزر گاؤں کا رنگ بالکل بے رنگ ہو گیا ہے۔گاؤں کے ان حالات کو دیکھ کرایسا لگ رہا ہے کہ جیسے صدیوں سے یہاں پر کوئی بستی نہیں رہی ہوگی۔
حالانکہ اسی دچھنؔ کے گاؤں میں اس قدرقابلاور ذہین لوگ رہائش پذیر تھے جو خطہ کوخوشحال بنانےاور اس کی ہئیت بدلنے کاولولہ اور تاثیر رکھتے تھے لیکن افسوس ایک بادل پھٹنے سے دچھنؔ کے اس گاؤں کے کئی روشن چراغ بجھ گئے،کئی خاندان مکمل طور ختم ہوگئے۔کچھ ہی لمحوںمیں اس ہنستے بستےگاؤں کی ساری خوشیاں ختم ہوئی اورسارا گائوں ماتم میں تبدیل ہوا۔ضلع کشتواڑ کے اس گاؤں کے لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ شاید جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا دچھنؔ کے اس متاثرہ گاؤں کا دورہ کریں گے۔لیکن تاحال ایسا نہ ہواجبکہ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ ہماری آخری اُمید جموں وکشمیر کے گورنر انتظامیہ ہی ہے۔موجودہ تباہ شدہ صورت حالت کے پیش ِنظر کو گائوںوالوں نے امید جتائی ہے کہ مستقبل کیلئے انتظامیہ ضرورمتحرک رہے گی۔ظاہر ہے کہ اگر چناب ویلی کے پہاڑی علاقوں کے لوگوں کو آسمانی آفات اور ایسے حادثات سے بچانا ہے تو یہاں کے لوگوں کو بھی اس قدر تیار کرنا ہوگا کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئےوہ انتظامیہ کا ہی انتظار نہ کریں بلکہ بر وقت خود بھی بچاؤ کاروائیاں انجام دے سکیں۔گویااس طرح کے آئے روز آنے والےحالات میں یہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بہت زیادہ نقصان سے بچ سکیںاور انسانی جانوں کو تحفظ دے سکیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ جہاںوادی چناب کے لوگوں کو آسمانی آفات سے بچنے کے طریقے سکھائے جائیں کیونکہ یہاں اکثر و بیشتر مختلف نوعیت کےحادثات پیش آتے رہتے ہیں چنانچہ این ڈی آر ایف یا ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کے پہنچنے تک ایسے حادثات میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہوتی ہیں۔وہیں مقامی عوام کو بھی خبر دار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ موسمی صورتحال کے پیش نظر کبھی بھی کوئی بھی حادثہ پیش آنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔اس سلسلے میں جب ضلع ترقیاتی کونسل مڑواہ شیخ ظفر اللہ سے بات کی گئی تو اُن کا کہنا ہے کہ ایسے ناگہانی موقع پر کہیں نہ کہیں ضلع انتظامیہ بے کس دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ واحد ایک ابابیل تنظیم دچھنؔ کے اس ہنزرؔ گاؤں کی خدمت عام کرنے کے لیے سامنے آ رہی ہے۔ جہاں ضلع انتظامیہ کو یہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہاں ایک عام تنظیم یہاں لوگوں کی مدد کر نے میںجٹی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں جو اشخاص شدید زخمی حالت میں پائے گئے تھے انہیں تیسرے دن ضلع ہسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا۔موصوف نے کہا کہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر یہاں کے لوگوں کو اس قابل تیار کیا گیا ہوتا کہ وہ کسی بھی ناگہانی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ ہمت جُٹاسکتےکہ جس سے شاید اس قدر نقصان نہ اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑکی جانب سے اگرکچھ خاص اقدامات اٹھائے جاتے تو کافی بہتر رہتا۔شیخ ظفر اللہ نے بات کرتے ہوئے مزیدکہا کہ ایک ہفتہ پہلے مڑواؔ کے نو بچی ؔگاؤں میں سیلاب آنے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ زمین تباہ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین کی شکستہ صورت حالکے بارے میں جب ہم نے ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ فنڈز ریلیز ہونے سے پہلے ہم لوگوں کے لئےکچھ بھی دستیاب نہیں کر سکتے ہیں۔ایسے میں لوگوں کے دلوں میںیہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا تب تک یہاں کے لوگوں کو مرنے کے لئے اِسی حال پر چھوڑ دیا جائے؟
اس سلسلے میں جب ہم نے ایک مقامی فردعبدالمجیدسے بات کی تو انہوں نے کافی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے کہا کہ میرا سارا گھر بارلُٹ چکا ہےا،میری ساری زندگی تباہ ہوگئی اور میرا مال کسی کام کا نہیں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری زندگی اس قدر ٹوٹ گئی ہے کہاب جینے کی چاہت ہی باقی نہیں رہی ہے۔موصوف نے دورانِ گفتگو کہا کہ کئی لوگوں کی جانیں اس طوفان کی زد میں آکر خاک ہو گئی ہیں۔ جنہیں نہ ہی انتظامیہ بچا سکی اور نہ ہی عوام۔اور بذاتِ خود میں اپنی آنکھوں دیکھی صورتِ حال میں بھی کچھ نہ کر سکا۔انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں نے وہ سارے المناک ستم دیکھ لئے اور میں بے بس ہو کر ایک کونے میں بُت بن کرکھڑارہا۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ علاقہ کےعوام کو ایسی تربیت دی جائے کہ مستقبل میں ایسی کسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وہ کچھ نہ کچھ کر سکیں۔
یہاں یہ بات کہنا بہتر ہے کہ جس طرح سے ملک کی دوسری ریاستوں کی سرکاریں آفات سے بچنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں، اُسی طرح جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو چاہیے کہ ہر ضلع ہیڈکواٹر میں ایمرجنسی کے لئے ہوائی جہاز کا انتظام رکھے، جو کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوراًبچاؤ کاروائیاں انجام دے سکے اور متاثرین کو علاج و معالجے کیلئے ہسپتالوں تک پہنچا سکے۔ایسی اور دیگر تدابیرپر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس سے بروقت لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔اس سمت میں مرکز اور جموں و کشمیر انتظا میہ کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل کہ دیر ہو جائے،قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بہتر حکمت ِ عملی اپنانے اور ٹھوس اقدامات اٹھانے لازمی ہیں۔ (چرخہ فیچرس)
��������