سرینگر // شہر سرینگر سے یو میہ نکلنے والے 400میٹرک ٹن ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کا منصوبہ 4برسوں سے کھٹائی میں پڑا ہے۔شہر میں ہر روز صبح میونسپل کارپوریشن کی سینکڑوں گاڑیاں گھروں سے نکلنے والے قریب 400میٹرک ٹن کوڑا کرکٹ جمع کر کے اسے اچھن سعد پورہ لیجاتے ہیں۔لیکن ماہرین کے مطابق 10فیصد کوڑا کرکٹ جس میں پالی تھین لفافوں کی تعداد زیادہ ہے،دریائے جہلم، آبی ذخائر، کھلے کھیتوںاور ندی نالوں کی نذر کیا جا رہا ہے ۔ دریائے جہلم اور جھیل ڈل کو ڈسٹ پن بنایا گیا ہے،جبکہ آنچار جھیل ، ہوکسر ،ولر اور دیگر آبی ذخائر بھی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ سڑکوں کے کناروں اور گلی کوچوں کے مخصوص جگہوں پر ڈالے جانے والا یہ کوڑا کرکٹ غفونت پھیلنے کا موجب بھی بن رہا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے گھروں سے نکلنے والے ٹھوس فضلہ کو سائنسی طور پر ٹھکانے لگانے کیلئے منظور ہوئے کلسٹروں کی تعمیر کھٹائی میں ہے۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شہر سرینگر میں کچڑا جمع کرنے کیلئے 575 پوائنٹس قائم کئے گئے ہیںاور اْن کو ڈمپ کرنے کے110 جگہیں موجود ہیں۔تاہم اْس کے باوجود بھی کچڑے کو کھلے عام سڑکوں اور چوراہوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔4سال قبل نیشنل گرین ٹربنل (این جی ٹی ) نے ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے جدید پلانٹ لگانے کس منصوبہ بنایا تھا اور اس کو مکمل کرنے کیلئے 18 ماہ کا وقت مقرر کیا تھا۔ منصوبے میں یہ بھی شرط رکھی گئی تھی کہ مقررہ وقت پر منصوبہ مکمل نہ کرنے کی صورت میں50ہزارکا جرمانہ بھی عائد ہو گا ۔مجوزہ پلانٹ کو جموں و کشمیر کی ، اس وقت کی ریاستی کابینہ نے 2017 میں منظوری دی تھی اور اس مجوزہ پلانٹ سے ٹھوس فضلہ سے 5 میگاواٹ بھی بجلی پیدا کی جاسکتی تھی۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا اور اچھن ڈمپنگ سائٹ پر 'ویسٹ ٹو اینرجی' یعنی سائنٹفک طریقے پر کچرے سے توانائی پیدا کرنے کا یہ منصوبہ بھی کاغذوں کی نذر ہوگیا ۔ذرائع نے بتایا کہ حکام ابھی تک پروجیکٹ ڈویلپر کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدے (پی پی اے) پر دستخط نہیں کر سکے ہیں۔شہر میں پھر بھی ڈسٹ بن موجود ہیںاورمیونسپل گاڑیوں کے ذریعے کچڑا اٹھایا جاتا ہے بھلے ہی پورا نہ سہی لیکن گائوں، دیہات اور قصبہ جات کی حالت انتہائی ابتر ہے وہاں سے کچڑا کہاں جاتا ہے یہ ایک سوال ہے ۔ 2017میں صرف شہر میں ہی نہیں بلکہ کئی اضلاع کیلئے ٹھوس فضلے کو سائنسی طور ٹھکانے لگانے کیلئے کلسٹروں کی منظوری دی گئی تھی لیکن ان کلسٹروں پر کہیں پر بھی کام ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ پروگرام کے تحت جموں وکشمیر میں ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے 19کلسٹربنانے کیلئے زمین کی نشاندہی بھی کی گئی، ان 19کلسٹروں کے دائرے میں 80چھوٹے بڑے قصبوں کولانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اننت ناگ ، پلوامہ ، کولگام ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، کپوارہ کے ڈی پی آر پر نظر ثانی بھی کی گئی ،جبکہ اننت ناگ ،کولگام اورسرینگر کے ڈی پی آر کو سرکار کی طرف سے منظوری بھی مل گئی تھی لیکن یہ کلسٹر تیار نہیں ہو سکے ۔ اربن لوکل باڈیز کشمیر کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں 6جگہوں پر کلسٹر تعمیر کرنے کیلئے زمین حاصل کی گئی ہے اور اْس کی ٹنڈرنگ کا کام بھی مکمل ہے ،بہت جلد ان جگہوں پر کام شروع کیا جائے گا۔شہر کے حوالے سے میونسپل کارپویشن کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اچھن کے مقام پر سرینگر بڈگام کلسٹر جہاں پر ویسٹ انرجی پلانٹ نصب کرنا ہے، پر کام ہو رہا ہے ۔