سرینگر// گپکار الائنس نے دفعہ 370و35 اے کی منسوخی کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی عرضی کی فوری شنوائی کیلئے درخواست دائر کردی ہے۔گپکار الائنس کے ترجمان اور سی پی آئی ایم کے سینئرلیڈر محمدیوسف تاریگامی نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ انصاف کے مفاد میں کیس کی سماعت کی جائے درخواست میںکہا گیا ہے کہ صدارتی حکمCO 272 مورخہ 5اگست2019 ، اعلامیہ CO 273 مورخہ 6،اگست2019 اور جموں و کشمیر (تنظیم نو) ایکٹ ، 2019 جو کہ پارلیمنٹ نے5 اگست 2019کو منظور کیا تھا، غیر آئینی اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ رٹ پیٹشن میں کہا گیا ہے کہ اختصار کی خاطر ، رٹ پٹیشن کے حقائق ، مندرجات اور بنیادوں کو دوبارہ پیش نہیں کیا گیا ہے اور درخواست دہندگان اسی کا حوالہ دیتے ہیں اور اسی پر انحصار کرتے ہیں۔درخواست میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ5اگست2019 کے آرڈر کے فورا ًبعد جموں و کشمیر میں سخت سیکورٹی اور لاک ڈاؤن کیا گیا جو ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا ، اس کے ساتھ ساتھ مواصلاتی بلیک آؤٹ اور مہینوں تک انٹرنیٹ بند رہا۔ رٹ پیٹشن میںمزید کہاگیا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ5اگست2019اور6اگست2019 کے ساتھ ساتھ جے اینڈ کے (ری آرگنائزیشن) ایکٹ ، 2019 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے کی عرضی اس معزز عدالت کے سامنے زیر التوا ء ہے،حکومت نے دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کئی ناقابل تلافی اقدامات کئے ہیں ، جن میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے سے قبل تمام حلقوں کی حد بندی کے لئے ایک کمیشن کا قیام شامل ہے ۔ جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے غیر مقامی افراد کوجموں و کشمیر کی زمین خریدنے کا اہل بنایا گیا ہے نیز زرعی اراضی کے بغیر انہیں زمین خریدنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اسٹیٹ ویمن کمیشن ، احتساب کمیشن ، اسٹیٹ کنزیومر پروٹیکشن کمیشن اور جے اینڈ کے اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن جیسے اداروں کو بند کیا گیا۔مرکزی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا اقدامات کے پیش نظر آئینی جواز کے چیلنج کو فوری بنیادوں پر سنا جانا چاہیے۔ تاریگامی کی دائر کردہ رٹ پیٹشن میں مزید کیا گیاہے کہ اگر معاملے کو فوری طور پر نہیں سنا گیا تو ، درخواست گزار کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوگی۔ اس معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے ، درخواست گزار اس رٹ پٹیشن کی جلد سماعت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مذکورہ بالا حقائق اور حالات کے پیش نظر یہ معزز عدالت انصاف کے مفاد میں جواب دہندگان کو ہدایت دے سکتی ہے ورنہ درخواست گزار کو ناقابل تلافی نقصان ، چوٹ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔