اس وقت ہمار ے معاشرے میں تعلیمِ نسواں کا فقدان عجیب وغریب شکل اختیار کر تا جارہاہے ،ہر طر ف جہاں جائیے، لاعلمی اور جہالت سے ملاقات ہو تی ہے ۔تعلیمی سورج کی روشنی کے بجائے ہر جگہ مغربیت کے دلداد ہ ہونے کی بناء پر غروب آفتا ب جیسا سماں ہے۔ہماری ماؤں بہنوں کے لیے جس طرح ہمارے معاشرے میں تعلیمی ڈھانچہ تیار ہونا تھا ،اس سے ہماری قیادت ابھی کوسوں دورہے۔دین ودنیا دونوں اعتبار سے ہم تنزلی کا شکار ہیں ،یہی وجہ ہے کہ صنفِ نازک پر جس قدرظلم وستم ڈھایا جارہا ہے،یومیہ اخبارات کی خبریں پڑھ کر پورا بدن لرزاں وترساں ہو جاتا ہے۔تعلیم ایک ایسا ہنر ہے، جسے حاصل کرنے کے بعد عزت خود متعلم ومتعلمہ سے ملاقی ہو جاتی ہے ،اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تلمّذ طے کرنے کے بعد شرافت ورفعت صاحب ِدرس سے اس طرح ملحق ہو جاتی ہیں، جس طرح ایک لاحق سابق کے لیے لاز م وملزوم ہو اکرتا ہے ۔علم سے انسان بلندیوں کو چھوتا ہے ،عروج کی نئی جہات طے کرتا ہے ،تعمیری سوچ میں نمایاں تبدیلی آتی ہے ،پورامعاشرہ ایسے صاحبِ علم مردوزن کو سلام کرتا ہے ۔اس کے لیے شوق کا ہونا انتہائی ضروری ہے ۔
ہمارے یہاں صنفِ نازک کو صرف ،عمل کردن،طعام پختن اورپارچہ شُستن کے لیے رکھا گیا ہے۔بہت سی عورتیں بھی اس سے ناواقف ہو تی ہیں کہ دینِ اسلام نے ان پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں ۔حضرت فاطمہ ؓ کی تاریخ اٹھائیے تو پتہ چلے گا کہ اللہ نے ان کو کتنی خوبیوں سے نوازا تھا ،ایک طرف جہاں وہ عظیم صحابیہ تھیں تو دوسری طرف وہ ایک بہترین معلمہ بھی تھیں ۔قرآن وحدیث پر ان کا اتنا عمل تھا کہ ان کی پوری زندگی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے ،انھوں نے علم وعمل کی شہسوار بننے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی عظیم ماں ہونے کا ثبوت دیا کہ حسنین ؓ جیسے عظیم فرزندوں نے ان کے بطنِ مبارک سے جنم لیا ،پیغمبرصاحبؐ کی اس چہیتی لختِ جگر نے اپنے فرزندوں کی تعلیمی اعتبار سے اس قد ر عمدہ نشو ونما کی کہ اسلام کے نام اور اپنے نانا کے دین پر جان نچھاور کرنے والے حسین ؓ دنیا کے سبھی لوگو ں کو یہ پیغام دے کر شہیدہو گئے مگر باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے کہ:
پگھلنا علم کی خاطر مثالِ شمعِ زیبا ہے
بغیر اس کے نہیں پہچان سکتے ہم خدا کیا ہے
مسلمانوں میں اس وقت سب سے بڑا فقدان تعلیم کا ہے۔کیا مرد اور کیا عورت ؟شوقِ علم سے ابھی قومِ مسلم بہت دور ہے۔بہت سی بچیاں ایسی ہیں جو شوقِ کثیر لیے ہوئے بیٹھی ہیں مگر تعلیمی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی پرسانِ حا ل نہیں۔کتنی بچیاں اعلیٰ میدانوں میں مسابقت کرنا چاہتی ہیں مگر رقم اس قدر مطلوب ہے کہ ان کی مالی حالت انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔آج ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ اور دیگر بے جا رسومات میں اس قدر پیسہ ضائع ہو رہا ہے کہ اگر یہ پیسہ تعلیمِ نسواں پر لگ جائے تو پورا معاشرہ مثالی معاشرہ بن جائے گا ،کیوں کہ فرد کی تعلیم سے افراد کی تربیت ہو تی ہے مگر عورت کے پڑھنے سے پورا خاندان خواندہ شمار کیا جاتا ہے ،مخلص مسلمان ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح میری اولاد تعلیمی میدان میں نمایا ں کامیابی حاصل کرے ،وہ ہر وقت مقدور بھر طاقت اور سامانِ تعلیم کی فکر میں لگے رہتے ہیں ،خود ہماری ریاست میں دیکھ لیجئے کتنے ایسے افراد ہیں جو مزدوری کرکر کے اپنی اولاد کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔حلال کمائی کی فکر میں ان کی ڈاڑھیاں وقت سے پہلے سفید ہو چکی ہیں مگر ان کی اولاد جوں کی توں ناخواندہ ہے۔کتنے وہ حضرات ہیں جو اپنی بچیو ں کو تعلیمی زیور سے آراستہ ہی نہیں کرنا چاہتے ،کتنے وہ ہیں جو تعلیم کے نام پر اپنی بچیوں کو معاشرہ کے نام پر بدنما داغ بننے کے لیے اعلانیہ اجازت فراہم کر رہے ہیں ۔دنیوی ڈگریوں کے حصول کے لیے ہماری مائیں اور بہنیں مغربی تہذیب کی اس قدر دل دادہ بن چکی ہیں کہ ان کے مبارک جسم پر زیب تن کیے ہوئے مغربی لباس کو دیکھ ایک باحیا مرد وعورت کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔علم وہنر سے ضرور واقفیت حاصل کیجیئے مگر وہ علم جو اچھائیوں کی طرف لے جائے ،ایسے ہنر سے واقف ہوئیے جو ہر وقت دین ودنیا میں عزت وحوصلہ افزائی کا سبب بنے ،ہماری بہنیں علم وعمل کی ایسی فضا بنائیں کہ تعلیمِ نسواں کا ہر جگہ ماحول آفریدہ ہو جائے ۔
در حقیقت مسلمان عہد ِنبوت سے دوری اور قرب ِ قیامت کی وجہ سے نبی صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کے مطابق طرح طرح کے فتنوں کا شکار ہو رہے ہیں ،جن میں ہمارے مسلمان مردو ں کے ساتھ عورتیں بھی برابر کی شامل ہیں ۔فتنے ہر چہار جانب سے ابلتے رہے ہیں اور امتِ مسلمہ ان کے گھیرے میں آرہی ہے ،بہت سےفتنے ہمارے اندر سے ہی پھوٹتے ہیں ۔اس وقت شدید ضرورت اس بات کی ہےکہ مسلمانو ں کو فتنوں سے نمٹنے اور ان سے بچنے کی راہ دکھائی جائے تاکہ اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت ہو سکے ،اس کا سب سے مؤثر علاج یہ ہے کہ تعلیمی میدان میں ہم سب کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اسلامی ثقافت وتہذیب کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔مغربی اثرات کی تقلید کے بجائے اپنے اسلاف واکابر کے انوار وکمالات کے خزینوں کی جستجو کی ضرورت ہے۔علماء کی مثال حدیث کے مطابق زمین پر ایسی ہے جیسے آسمان پر ستارے ،کیو ں کہ علم وہی مؤثر ہے جو تقوی ٰ کی جانب لے جائے ورنہ معلومات کا خزینہ تو غیر مسلموں کے پاس بھی بہت ہے ۔
علم چنداں کہ بیشتر خوانی
چوں درتو عمل نیست نادانی
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت علمی ذرائع بے پناہ ہیں ،الیکٹرونکس اور پرنٹس دونوں طرح کے آلات میں علم محفوظ ہے ،سارا علم عمل کی دنیا سے غافل ہونے کی بناء پر امت کے سینو ں سے نکل کر کتب خانوں کی الماریوں میں آچکا ہے ،حق وباطل کی کشمکش میں ہم پستے جارہے ہیں ،کش مکش کا رنگ وآہنگ زمانے وجگہ کی تبدیلی کی وجہ سے تبدیل ہو تے رہیں گے،لیکن آخر حق نے غالب آنا ہے تو کیوں نہ ہم مائیں، بہنیںعالمہ بھی بنیں اور محققہ بھی۔اپنے اسلاف واکابر کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ کس طرح انھوں نے امت کی ماؤں اور بہنوں میں تعلیم کو عام کیا ۔رابعہ بصریہ ؒ ایسی عبادت گزار خاتون ،جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔امت کو ایسی تعلیم دی کہ آج بھی ہماری مائیں بہنیں قیامت تک ان کا یہ احسانِ عظیم چکا نہیں سکتیں ۔اس لیے خدارا پیش قدمی کیجئے ،تعلیمی دنیا میں مگن ہونے کا شوق پیدا کیجئے ،حوصلہ دکھائیے ،ہمت کیجئے ،اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے ،پھر دیکھ خداکیا کرتا ہے ،کی عملی تفسیر بنئیے اور رب کے دولارے اور آمنہ کے جگر پارے کے بتائے ہوئے فرمودات کو سارے عالم میں پہنچانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیے ،انشاء اللہ ضرور وہ دن بھی آئے گا کہ ہماری پوری ریاست تعلیمِ نسواں کا عملی نمونہ بنے گی ۔انشاء اللہ
(معلمہ مہدالمسلمات برزلہ باغات سرینگر )