اپنی دسویں جماعت میں ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ لیکن آج مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ بچے مستقبل ہی نہیں بلکہ ماضی اور حال بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ارد گردکے بچوں پر جب میں نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے صرف تباہی نظر آتی ہے۔ میں اس آنے والے کل کو ان کاموں میں ملوث پاتا دیکھ کر سوچتا ہوں جن سے اُن کا دور کا بھی واسط نہیں ہونا چاہئے تھا ۔بذات ِ خود میں ایک طالب علم ہوں اور ایک نجی کوچنگ سنٹر میں پڑھاتا بھی ہوں ، جہاں میں بچوں کو زیادہ قریب سے دیکھتا ،جانتا اور پرکھتا ہوں اورزیادہ تر میں اُن کے خیالات جاننے کی کوشش کرتارہتا ہوںاور پھر میں اُن کے وہ خیالات سُن کر اوراُن کے مشغولات دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں جو صرف تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔خاص ظور میں مسلمان بچوں کی ایسی صورت حال دیکھ کر افسردہ ہوجاتا ہوں کیونکہ ان کے سامنے تو مستقبل کے بارے میں کسی قسم کا احساس ہی نہیںہے۔ تو ایسے میں ایک ذی شعور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر یہ ہمارا مستقبل کس مقصد کے لئے ہے اور وہ اصل میں کیا کر رہے ہیں۔ خیر اس صورتحال کے پیچھے بہت سارے وجوہات ہوسکتے ہیں،جن میں ہمارا معاشرےاورہمارے والدین کے تاثرات، غیر ذمہ دارانہ رول ،کردار و عمل اور غلطیوں کا عمل دخل بھی شامل ہے۔
غلطی یا غلطیاں جو ہم نے کی ہیںیا جو ہم کررہے ہیں، وہ ایک آج سے نہیںبلکہ صدیوں سے چلی آرہی ہماری خباثت ہے، جس نے اب اپنے غلیظ پَر کھولنے شروع کر دئے ہیں۔ مندرجہ ذیل سطروں میں ہم ان چند وجوہات کا ذکرضرور کریں گے جس کی وجہ سے ہمارا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔
پہلا ہے مذہب سے دوری۔ دنیا کے ہر مذہب خصوصاً اسلام میں دنیا کی زیادہ محبت کو گناہوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ مگر ہم ہیںکہ مذہبی قواعد و ضوابط کو تاک پر رکھ کے دنیا کی لذتوں میں ایسا کھو گئے ہیں کہ ہمیں نہ تو اپنے آج فکر رہی اور نہ آنے والے کل کی۔ ایک بچہ جب اپنے باپ کو دنیا کے ہنگاموں میں ایسا مگن دیکھتا ہے کہ اُسے آنے والی تلخ حقیقت کا کوئی اندازہ بھی نہیں ہے، تو بچے پر اس بہت بڑا اثر پڑتا ہےاور وہ بھی یہی رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ جب باپ نے دین کو دنیاوی مفاد کے لئے استعمال کر رکھا ہے تو ایسے میں بچہ بھی اپنی فیملی کا اثر لےکر اسی دوڑ میں لگ جاتا ہے کہ جتنا کمایا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔اُس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ حق پرستی اور جائز اقدار سے انسان مفلس رہتاہے یا بے عزت ہوجاتا ہے، تو ایسے میںوہ اپنے اقدار کی پرواہ نہیں کرتا ہے اور اس زندگی کا مقصدیہی رہ جاتا ہے کہ جتنا فائدہ اٹھایا جاسکے اُتنا ہی ٹھیک ہے اور آنے والے کل کی فکر ذہن کے پچھلے حصے میں دب کر رہ جاتی ہے۔
دوسرا ہے ہمارا نظام تعلیم۔ تعلیم کسی بھی قوم کے لئے آکسیجن کا کام کرتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ ہم اس معاملے میں کہیں بھی نہیں پہچانے جاتے۔ ہمارے یہاں جو تعلیمی نظام ہے وہ صدیوں پرانا ہے۔ کلاس روم کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔حتیٰ کہ کلاس کے ماحول بچوں کے مواقف بھی نہیںہیں، سماج کے موافق ہونا تو بڑی بات ہے۔ بچے جو پڑھتے اور پڑھائے جاتے ہیں، اس کا اُن کی اصل زندگی میں کہیں چلن بھی نہیں ہوتا ہے۔ جو چیزیں انسان کو انسان بناتی ہے، جب وہیں چیزیں تعلیمی اداروں میں فراموش کی جاتی ہے، تو اس کا براہ راست اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ ایسے بچے کسی بھی لحاظ سے طالب علموں کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس کے علاوہ یہ پاکیزہ نظام بھی مادیت کا شکار ہوگیا ہے۔ ہر مذہب میں مادیت سے دور رہنے کی تلقین کئی گئی ہے، مگر ہم نے اس چیز کو اِسی نظام میں داخل کردیا جو انسانوں کا تیار کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔
تیسرا ہے دوسروں کی نقالی۔ ہر سماج کے فرد الگ الگ ہوتے ہیں۔ اُن کا سماجی نظام، سیاسی نظام، اقتصادی نظام، وغیرہ الگ ہوتا ہے۔ ان کے زندگی کے مقاصد بھی الگ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارا بھی کوئی مقصد ہے جو ان سے میل کھاتا ہوں یا ان کے خلاف ہوں۔ وہ لوگ تو اپنے مقاصد کے لئے جیتے ہیں، مگر ہم کس کے لئے جیتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی طرح بننا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی سنگیت کار بننا چاہتا ہے، تو یہ اس کا شوق ہے، مگر میرا شوق تو کچھ اور ہے۔ اس سے کیا ہوتا ہے ہماری زندگیاں ہماری نہیں رہتی۔ ان لوگوں اس کام کے لئے سراہا جاتا ہے اور ہمیں ہر جگہ طعنے سُننے پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ ہم خود رہتے ہیں اور نہ آنے والا کل رہتا ہے۔ یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا جاتا ہے آخر پر ہم اس سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے واپس لوٹنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور ہمارا مستقبل نقالی کی دنیا میں کھوکھر اندھیروں کا شکار ہوجاتا ہے۔
چوتھا ہے پرانی سوچ۔ جب ذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا ہے، ہم پھر بھی ان راستوں پر چل رہے ہیں، جن راستوں نے ہمیں تباہی کے سوا کچھ نہ دیا۔ یہ طریقہ ہر کسی کے لئے مہلک ہے اور خاص کر بچوں کے لئے بہت ہی زیادہ۔ آج کے ترقی یافتہ دنیا میں بچوں کو پتھر کے زمانے کی باتیں کہی جاتی ہے، جس کی وجہ سے بچے اپنے آپ اور سماج سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اقبال نے اسے طرزِ کہن سے تشبیہ دی تھی۔ ہم حیات نو کے لئے تیار نہیں ہےاور اگر تیار بھی ہے، تو ہم اپنے آپ کو کھو دیتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہمارے لئے اُس ہڈی کی مثال ہوئی، جو نہ ہم نگل سکتے ہیں اور نہ باہر پھینک سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے ہمارے تاریک مستقل کی۔ اقبال کی یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ یہی وقت مشکل ہوتا ہے قوموں کی زندگیوں کا۔
پانچواں اور آخری ہے ہماری سستی۔ اس زندگی کا اصول ہے کہ جدوجہد کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ جنگل میں ہرن بھی اور شیر بھی دوڑتا ہے تاکہ بھوک سے اس کی موت نہ ہو۔ ہمارے یہاں سستی کا رواج ہے۔ جو چل رہا ہے، اسے چلنے دو اورجو آنے والا کل، اس کے بارے میں سوچنا اور کرنا چھوڑ دو۔ اس کا نتیجہ اس شکل میں نکلتا ہے کہ آنے والی خوشیاں اور ترقیاں ہم سے منہ موڑ لیتی ہیں اور یہ سماج کچھ بھی کرنے کے لائق نہیں رہتا۔
وقت کی نزاکت یہ کہ ہم آنے والے کل کے لئے محنت کریں۔ چین اور اسرائیل اپنے مستقبل کے لئے فکر مند ہے، مگر ہم ہیں کہ چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ بچوں کو صرف ڈاکٹر، سول سرونٹس اور کاروباری آدمی کے علاوہ سب سے پہلے انسان بنایئے اور انسانوں کی طرح رہنا سکھایئے۔اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لے، ورنہ پھر بہت دیر ہو جائے گی۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کریں۔
رابطہ:حاجی باغ، زینہ کوٹ
�����