بارہمولہ//رضاکار تنظیم ہیومن ایڈ سوسائٹی کشمیر کی جانب سے پیشہ وارنہ تربیت اور غریب و یتیم بچیوں کی بحالی کے پروگرام کے تحت قائم سات مراکز میں 70 سے زائد لڑکیوں کو تربیت دینے کے بعد 35 تربیت یافتہ لڑکیوں کو اسناد پیش کی گئیںجن میں چار غریب لڑکیوں کو اپنی روزی کمانے کے لیے سلائی سامان فراہم کیاگیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی شمالی کشمیرسجیت کمار مہمان خصوصی تھے جبکہ سیکریٹری لیگل سروس اتھارٹیز (ڈی ایل ایس اے) اور سب جج بارہمولہ صائم قیوم اور پروگرام لیڈر پیرمل فاؤنڈیشن اور نیتی آیوگ ریکھا ملک بطور مہمان ذی وقارکی حیثیت سے موجود تھے۔چیئرمین سوسائٹی بشیر احمد میر نے اس موقع پر کہا کہ سکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور خود اعتمادی کو بڑھانا ہے تاکہ وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکیں۔ سیکریٹری لیگل سروس اتھارٹیز (ڈی ایل ایس اے) اور سب جج بارہمولہ صائم قیوم نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا گھر سے شروع ہوتا ہے کیونکہ ہمیں اپنی بیٹیوں ، بیویوں اور ماؤں کو گھر ں میں جاکربااختیار بنانا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم انہیں نظر انداز کرتے ہیں اور ان سے مشورہ کیے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ہیومن ایڈ سوسائٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مہمان خصوصی ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے فیصلہ سازی اور مہارت کی ترقی میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا جو معاشرے کی ہم آہنگ ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ہماری خواتین اور بچیاں ہمارا فخر ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت ، فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے‘‘۔انہوں نے سوسائٹی کے زیر اہتمام طلباء میں کرکٹ کٹ اور ٹوپیاں تقسیم کیں۔