سرینگر// انسداد رشوت ستانی ادارے اینٹی کورپشن بیورو نے خصوصی جج انسداد کورپشن بارہمولہ کے سامنے سابق وارڈن کستورباگاندھی بالیکا ودھیالہ سمیت 3 ملزم سرکاری ملازمین کے خلاف عدالتی تعین کے لیے چارج شیٹ پیش کیا۔ اینٹی کورپشن بیورو ذرائع نے بتایا کہ مقدمہ الزامات کی جانچ پڑتال کے نتائج پر درج کیا گیا ہے کہ ان سرکاری ملازمین نے اپنے سرکاری عہدوں کا غلط استعمال کیا ہے اور حکومت کی بھاری رقم کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2013-14کے دوران ’کے جی بی وی‘ بونیار میں ضروری تعلیمی ، غیر تعلیمی ، نصابی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں کو پورا کرنے کے لیے جاری رقومات کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حکومت نے62لاکھ18ہزار767 روپے کی رقم ایس ایس اے سکیم کے تحت مالی سال 2013-14میں’’کے جی بی وی‘ بونیار میں وردی ، کتابیں ، سٹیشنری اشیاء ، ادویات ، بس کرایہ ، گھومنے پھرنے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں کے اخراجات کیلئے واگزار کی جبکہ اس کے علاوہ92ہزار857روپے کی اضافی رقم بھی سرکاری کھاتے میں دستیاب تھی اور مجموعی طور پر یہ رقم63لاکھ11ہزار624روپے کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیش سے پتہ چلا کہ صرف 8 لاکھ26ہزار620 روپے کی رقم’کے جی وی بی‘ بونیار میں مختلف ضروریات،سرگرمیوں کو پورا کرنے کے لیے خرچ کیا گیا جبکہ 3 ملزمان سرکاری ملازمین نے اپنے سرکاری عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اور آپس میں رچی گئی مجرمانہ سازش،بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے29 لاکھ55ہزار50 روپے کی رقم کا غلط استعمال کیا اور اس طرح سرکاری خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ اے سی بی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2013-14کے دوران سکول کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بقایا کے مد میں’کے جی وی بی‘ بونیار میں20لاکھ روپے کی اضافی رقم بھی نکالی گئی اور متعلقہ اساتذہ میں مذکورہ رقم تقسیم کرنے کے بجائے ، ملزم سرکاری ملازمین اس وقت کے وارڈن نے مذکورہ رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع کیا۔سماعت کی اگلی تاریخ 7اکتوبر2021 مقرر کی گئی ہے۔