دینی مدارس تعلیم و تدریس کا عنوان ہیں۔ ان کی اہمیت و افادیت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی مدرس کے نظام و نصاب میں اصلاح کی بہت گنجائش موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالہ سے ہمارے یہاں افراط و تفریط کی فضا غالب ہے۔ اہل دانش کی ایک تعداد مدارس کے انتفاع کی سرے سے قائل نہیں، دوسری جانب اہل علم و فضل کی ایک خاصی تعداد مدارس کے نظام و نصاب میں کسی قسم کی ترمیم و اصلاح سے انکاری ہے۔ اس افراط و تفریط کے ماحول میں صدائے اعتدال اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی زیر نظر تصنیف ’’اسلام کے قلعے۔ دینی مدارس ترمیم اور اصلاح کی ضرورت‘‘اسی جادۂ اعتدال کی ایک کڑی ہے۔ مصنف خود ایک عظیم دینی مدرسہ کے فاضل ہیں۔انہوںنے نہایت درد مند دل سے دینی مدارس کی بعض کمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ دینی مدارس معاشرے میں پھر سے اپنا قائدانہ رول ادا کریں۔
کتاب کی شروعات میں مؤلف اس بات پر سخت حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ غیر مسلموں نے ایسے ادارے بنائے ہیں جہاں اسلام کا ’’تنقیدی مطالعہ‘‘ کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے مذہبی اداروں اور مدرسوں میں اس کا تصور نہیں ہے کہ خالص دعوتی نقطہ ٔ نظر سے مذاہب کے مطالعہ کا شعبہ قائم کیا جائے اور ان مذاہب پر علمی زبان میں اور ان مذاہب کے ماننے والوں کی زبان میں تنقید کی جاسکے۔ ندوی صاحب لکھتے ہیں:
’’ذرا غور فرمائیے! دہلی میں قرول باغ میں دین دیال اپادھیائے انسٹیٹیوٹ ہے، یہ آر ایس ایس کا قائم کردہ ادارہ ہے، اس ادارہ کا مقصد اسلام کا تنقیدی مطالعہ ہے، اسلامی موضوعات پر قدیم و جدید کتابیں اس ادارہ کی لائبریری میں مل جاتی ہیں، یہاں ریسرچ اسکالر اسلامی موضوعات پر ریسرچ کرتے ہیں، اسی طرح سے عیسائیوں کا مقدس مقام اٹلی میں ویٹکن سٹی ہے، یہاں عیسائیت کی تعلیم و تبلیغ کی قدیم درسگاہ قائم ہے، یہاں عیسائیت کے مبلغ تیار کئے جاتے ہیں، اس ادارہ میں بھی اسلامیات کا شعبہ موجود ہے، تاکہ نظریاتی تنقید کے لئے اسلام کا مطالعہ کیا جاسکے، اس ادارہ میں بہت سی دوسری زبانوں کے ساتھ اردو زبان کی بھی تعلیم کا انتظام ہے۔‘‘(صفحہ ۶۔۷)
علمی، فکری، تحقیقی کام کی عہد حاضر میں زبردست ضرورت ہے۔اسلام کی نورانی تعلیمات کو موجودزمانہ میں اس انداز سے پیش کرنا کہ بہترین دماغ اس طرف مائل ہوںاور اسلامی افکار و نظریات کا غلغلہ چہار دانگ عالم میں مچ جائے وقت کا اہم تقاضا ہے۔ تاہم مصنف اس بات پر ماتم کناں ہیں کہ وہ دور ختم ہوچکا جب علماء کے تصنیفی کام میں جدت ہوتی تھی، تخلیقی قوت ہوتی تھی ، فکر میں ندرت ہوتی تھی اور ابداع و اختراع کی شان ہوتی تھی (الا ماشاء اللہ)۔
مصنف کا ماننا ہے کہ اس وقت شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ(دینی مدارس کے) طلبہ کوباشعور اور صاحب ادراک بنایا جائے،تاکہ ان کو حالات کی سنگینی کا ادراک ہوسکے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو خارجی مطالعہ کا پابند بنایا جائے۔اپنے مسلک و حلقہ سے باہر کے علماء و مفکرین کی کتابیں پڑھنے کی ان کو ترغیب دی جائے تاکہ ان کا ذہنی افق وسیع ہوجائے اور مسلکی شدت میں کمی آجائے ۔
مذکورہ کتاب میں مصنف نے اس چیز پر سخت نقد کیا ہے کہ مدارس سے جو علماء پڑھ کر نکلتے ہیں وہ اتحاد کی کوششوں کے بجائے مسلکی اختلافات اور نزاعِ باہمی کے شکار ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر قرآن فہمی کا ذوق پیدا نہیں ہوتا، انہیں قرآن کے نظامِ سیاست و تمدن ار نظام مالیات و معاشیات کی کوئی خبر نہیں ہوتی نہ اس موضوع پر ان کا کوئی مطالعہ ہوتا ہے، قرآن کے اسرار و عجائبات پر غور کرنے اور تذکیر کے بجائے فروعی اختلافات اور فقہی جزئیات میں ان کی دلچسپ زیادہ ہوتی ہے۔ چناں چہ مصنف رقم طراز ہیں:
’’دنیا میں کہیں اگر کفر اور الحاد غالب اور سربلند اور شعلہ زن ہو اور دین و شریعت خاک بسر اور خاکستر ہو اور کہیں اہل دین پر ظلم ڈھایا جارہا ہو تو ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، ان کے دل میں کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوتا ہے، لیکن حیف کہ اپنے خاص مسلک سے ہٹ کر دوسرے مسلک کا وجود انہیں برداشت نہیں ہوتا ہے اور ان کی بیخ کنی کی فکر انہیں سب سے زیادہ لاحق ہوتی ہے۔‘‘(صفحہ۔۱۴)
مصنف نے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی بعض خامیوں پر بھی نپے تلے انداز میںاظہار خیال کیا ہے۔اس حوالہ سے وسائل کی کمی کا جو رونا رویا جاتا ہے مصنف نے اس کونکارتے ہوئے ایک پتے کی بات کہی ہے کہ ’’وسائل کی کمی کا عذر صحیح نہیں ، وسائل کی کمی ہے تو مدرسہ میں عالیشان عمارتیں کیسے وجود میں آجاتی ہیں۔‘‘ مصنف نے اس بات کو بھی حوالۂ قرطاس کیا ہے کہ مدارس میں روحانی اور اخلاقی تربیت کا نظام بھی ناقص ہے ۔
دینی مدارس کی اہمیت و افادیت اور اس کے نظام و نصاب میں ترمیم و اصلاح کے سلسلے میں گراں قدر تجاویز دینے اورایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنے پر گویا مصنف نے اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔اس تالیفِ دلپذیر میں مصنف نے اپنا ایک الگ مستقل فکر انگیز مضمون’’شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات‘‘کے عنوان سے بھی شامل کیا ہے۔ اس مضمون کی ابتداء میں فاضل مصنف نے مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ کی ایک عبارت نقل کرکے اپنی معروضات پیش کی ہیں۔’’وہ نبوت کے چشمۂ حیواں سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے کشت زاروں میں ڈالتا ہے‘‘۔ اس فصیح و بلیغ جملہ میںمولانا علی میاں ؒ نے واقعی سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ چشمہ حیواں کیا ہے؟ کشت زاروں سے مولانا کی مراد کیا تھی؟ اس پر مصنف نے علی میاں کی فکر کے حوالے سے موثر پیرایہ اور ادبی چاشنی سے لبریز مضمون قلم بند کیا ہے۔ امر واقعہ ہے کہ یہ مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
بہ ہر حال ۴۳ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کو مصنف نے غم کی روشنائی میں آہ کے قلم کو ڈبو کر دینی مدارس کے ذمے داروں سے چند باتیں تحریری طور پر عرض کردی ہیںاس گذارش کے ساتھ کہ ’’چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر‘‘۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے موئدین ، ہم دردان بالعموم اور دینی مدارس کے ذمے داروں اور علماء و فضلاء بالخصوص اس تحریر( جو ایک تجربہ کار عالم اور معلم کے قلم سے نکلی ہے)میں پیش کی گئی آراء پر سنجیدگی سے غور و خوض کریں اس جذبے کے تحت کہ ؎
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد