مخمور حسین بدخشی داغِ مفارقت دے گیا ۔ وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور جہاں ہم سب کو جانا ہے ۔ مخمور اور میں ایک ساتھ پلے، بڑھے ، بچن ایک ساتھ گذارا اور جوانی میں ایک ساتھ قدم رکھا۔ میر محلہ ملارٹہ میں ہمارے رہائشی مکان آمنے سامنے تھے ۔ دونوں کے صحن جڑے ہوئے تھے، جنہیں ایک دیوار نے تقسیم کر رکھا تھا۔ دیوار کے بیچ میں ایک دروازہ تھا جو دن رات کھلا رہتا تھا۔ اسکول سے واپسی کے بعد ہمارا وقت ایک ساتھ گذرتا یہاں تک کہ شام ہوجاتی ۔ چھٹی کا پورا دن ہم ایک ساتھ گذارتے تھے۔ مخمور کے والد مرحوم عزیز الدین بدخشی اُس زمانے کے گریجویٹ تھے اور سرکاری ملازم ۔ حُقہ کے ساتھ خاص لگائو تھا اور اکثر و بیشتر انہیں حقے کے کَش لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا ۔ بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ۔ اخبارات کا مطالعہ پابندی سے کیا کرتے تھے۔ ہم سب بشمول مخمور انہیں بھائی لالہ کہتے اور اُن کا سلوک بھی ہمارے ساتھ برادرانہ ہی ہوتا ۔ مخمور کی والدہ سیدھی سادھی گھریلو خاتون تھی ۔ مخمور اور مجھ میں کوئی فرق نہ کرتیں۔ کھانے کا وقت ہوتا تو کھانا کھلاتیں اور چائے کے اوقات میں چائے پینے کی ضد کرتیں۔ مخمور کے والد اور چچا ایک ساتھ رہتے تھے اور ان کا کنبہ پیار و محبت اور یگانگت کی مثال تھا۔ دو مکان تھے ، پچھلے مکان میں رہائش تھی اور آگے کے مکان تقریباً خالی رہتا تھا۔ اس میں ایک کمرہ مخمور کیلئے مخصوص تھا اور مکان کی نچلی منزل میں ایک چھوٹی سی کوٹھری ہماری سرگرمیوں کیلئے موجود تھی۔ اس کوٹھری میں ہم پڑھائی بھی کرتے ، شمع بیسویں صدی اور دیگر رسائل کی ورگردانی بھی کرتے اور فلم و ادب کے حوالے سے باتیں بھی ۔ یہاں ہمارے دوست بھی تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ وقت گذارتے ۔ اس دوران زیادہ تر ادب کے حوالے سے ہی بات چیت ہوتی تھی ۔ ان دوستوں میں خاص طور حکیم منظور اور جی این برسات جو بعد میں غلام نبی خیال کے نام سے مشہور ہوئے قابل ذکر ہیں۔
بچپن کی حرکتیں بھی بچگانہ ہوتی ہیں۔ ذہن کچا ہوتا ہے اور سوچ محدود ۔ غالباً ہماری عمر دس سال کی ہوگی کہ مخمور کے ذہن میں گھر سے بھاگنے کا خیال آیا کیوں ؟ وجہ کوئی نہیں تھی بس خیال آگیا تو آگیا ۔ دوپہر کا کھانا کھا کر قریباً دو بجے گھر کے باہر ملے اور مخمور نے فیصلہ سُنا دیا کہ گھر سے بھاگنا ہے ۔ میں نے کیوں کا لفظ بولنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ یا پھر یوں سمجھئے کہ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر تھی ۔بس ہم نے اپنا ’’سفر‘‘ شروع کر دیا۔ ڈلگیٹ سے آگے ہم چلتے گئے یہاں تک کہ پانپور پہنچ گئے جہاں سے ہم بلا سوچے سمجھے دائیں طرف مُڑ گئے اور اُس راستے پر چل پڑے جو پلوامہ کی طرف جاتا ہے۔ بھوک لگی تو دُونیّ (دو آنے کا سِکہ) جو میری جیب میں تھا سے سیب خرید کر کھالئے۔ شام کو کاکہ پورہ پہنچے کیونکہ بہت زیادہ تھک چکے تھے اس لئے فیصلہ ہوا کہ رات کاکہ پورہ کی مسجد میں گذاری جائے۔ مسجد کے نزدیک پہنچے تو یہاں مرحوم پروفیسر محمد امین اندرابی کے مامو ںعمر صاحب نظر آئے جو پیر مُریدی کے سلسلے میں یہاں موجود تھے اور ہمیں خوب پہچانتے تھے۔ کہیں ان کی نظر ہم پر نہ پڑ جائے ہم سر پَٹ بھاگے اور آگے کا سفر اندھیرے میں جاری رکھا۔ پاہو کے مقام پر مجھے یاد آیا کہ رتنی پورہ میں ہمارے رشتہ دار موجود ہیں۔ چنانچہ اُدھر کا رُخ کیا ۔ رات گئے رشتہ دار کے دروازے پر دستک دی ، دروازہ کھُلا تو اندر داخل ہوئے۔ ان خدا کے بندوں نے ہم سے کچھ بھی نہیں پوچھا کہ رات گئے تم کیسے اور کیوں آئے ، کھانا کھلایا اور بس ۔ تھکاوٹ کے سبب نیند نے آدبوچا ،صبح دیر سے آنکھ کھُلی۔ پورا دن یہیں گذارا اور اگلے دن پلوامہ کی طرف چل پڑے ۔ پلوامہ سے آگے بڑھے تو کچھ معلوم نہ تھا کہ منزل کہاں اور جانا کہاں ہے ۔ کچھ اور آگے چلے تو اچانک ایک بس ہمارے پاس آکر رُک گئی ۔ بس کا دروازہ کھُلا تو مخمور کے چچا مرحوم سلام الدین نیچے اُترے ۔ ہماری یہ حالت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔ کہا کچھ بھی نہیں ،ہمیں بس میں چڑھا دیا۔ بس شوپیان پہنچی تو سلام الدین صاحب ہمیں لے کر ایک جاننے والے کے ہاں پہنچے۔ شام کے سائے پھیل رہے تھے ۔ رات ہم نے شوپیان میں گذاری او ر علی الصبح بس میں بیٹھ کر سرینگر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر پہنچے تو ہماری خوب ’’خاطر تواضع‘‘ ہوئی ۔مخمور کے گھروالوں نے فیصلہ سُنا دیا کہ یہ سب میری کارستانی ہے اور میں نے ہی مخمور کو ورغلایاہے ۔ میری اتنی جرأت کہاں تھی کہ میں اپنے بے قصور ہونے کی بات کرتا ۔ بہر حال ہفتے بھر صورتحال ’’کشیدہ ‘‘رہی اور پھر معمول پر آگئی۔ نویں جماعت میں پڑھ رہے تھے کہ ایک اور جذباتی فیصلہ لیا گیا ۔ ادیبِ عالِم کا امتحان دینے کا فیصلہ۔ کچھ کتابیں لائبریری سے حاصل کیں اور پڑھائی شروع کی ۔ بحیثیت پرائیوٹ امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔ پاس ہونے کی اگر چہ اُمید نہیں تھی لیکن معجزاتی طور پاس ہوگئے۔ شمع بیسویں صدی ہمارے پسندیدہ رسائل تھے اور اُن کا مطالعہ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ ان میں شامِل تخلیقات پر ہم رائے زنی بھی کرتے اور اس سلسلے میں کبھی اختلاف رائے بھی ہوتا ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم نے قلم کو جمبِش دی اور لکھنے کا آغاز کیا۔ مجھے طنز و مزاح سے بھر پور تحریریں پسند تھیں اور مخمور کو افسانے۔ شعرو شاعری سے بس سطحی لگائو تھا۔ مجھے تُک بندی کا شوق تھا اور مخمور کی دلچسپی بس واجبی تھی۔ نثر میں لکھی جانے والی تحریریں ہم باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کو دکھاتے ، سُناتے اور پھر اِن پر ’’تنقید ‘‘ بھی کرتے۔ ایک بار طے ہوا کہ دونوں شاعری کے میدان میں بھی کوشش کر کے دیکھ لیں۔ چند دن بعد ہم دونوں اپنی ’’تخلیقات ‘‘لے کر ملے ۔ مخمور ایک غزل لکھ کر لائے تھے اور میں نے چار مصرعوں والی دو عدد کوششیں کی تھیں۔ جنہیں میں بڑے فخر کے ساتھ رُباعی کا قطع سمجھتا تھا۔ مخمور نے پہلے میرا کلام سننے کی فرمائش کی جو میں نے پوری کر دی۔ اس کے بعد مخمور نے اپنی غزل سنائی ۔ اس حوالے سے غالباً یہ اُن کی پہلی اور آخری کاوِش تھی کیونکہ اس کے بعد انہوں نے اپنی ساری توجہ افسانے پر مرکوز کر دی۔
غزل ملاحظہ فرمائیں:
ستاروں کو کیا مدہوش بھی اُن کی ادائوں نے
نسیمِ صبح کی لَے توڑ دی شیریں صدائوں نے
کبھی میرے بھی ہونٹوں پر تبسم تھا رواں لیکن
کیا بے زار دنیا سے محبت کی فضائوں نے
گئے دیدار کو اِک روز سرتاپا وفا بن کر
مگر شرمندہ کر کے ہی نکالا کج ادائوں نے
جنونِ عشق کی حالت یہاں دیکھی عجب ہمدم
بنایا اُن کا گِرویدہ فقط اُن کی جفائوں نے
خیالِ یار کو چھوڑوں یہ ناصح ہو نہیں سکتا
میرے دِل پر کیا جادو ہے اُن کی کَج ادائوں نے
میری واہ واہ اور داد کے باوجود مخمور کو احساس تھا کہ شاعری اُن کے بس کی بات نہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اس تخلیق کو پھاڑ دینے کی بھی کوشش کی تھی لیکن میں نے کاغذ اُن کے ہاتھ سے چھین کر اپنے پاس رکھ لیا۔
اس دوران ہمارے درمیان تخلص رکھنے کے سلسلے میں بحث ہوتی رہی۔ آخر کار مخمور نے پروانہؔ اور مستانہؔ تجویز کئے ۔میں نے پروانہؔ پسند کیا تو انہوں نے ضِد پکڑ لی کہ پروانہؔانہیں پسند ہے۔ بہر حال سِکہ اُچھال کر ہیڈ ٹیل کے ذریعے فیصلہ ہوا تو پروانہ اُن کے حصے میں آیا ۔ چنانچہ وہ محمدحسین پروانہ بن گئے اور میں وجیہہ احمد مستانہ۔ مجھے چونکہ مستانہ بالکل پسند نہیں تھا اسلئے چند ہی دنوں میں وجیہہ کشمیری ؔہوگیا ۔ اب مخمور کو بھی پروانہ بُرا لگنے لگا اور انہوں نے اپنے لئے مخمور پسند کیا۔ اس طرح وہ محمد حسین سے مخمور حسین بن گئے۔ مخمور بننے سے پہلے ہم سب جن میں اُن کے گھر والے بھی شامل تھے انہیں حُسہ لالہ کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کے بعد سب کی زبان پر آسانی سے مخمور چڑھ گیا۔
میری پہلی تخلیق لکھنو سے شائع ہونے والے ادبی جریدے فروغِ اردو میں شائع ہوئی تو مخمور کو محسوس ہوا کہ میں پیچھے رہ گیا۔ چنانچہ چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس نے کئی افسانے بیسویں صدی کے مُدیر خوش تر گرامی کو ارسال کئے۔ جن میں سے ایک افسانہ اشاعت کیلئے قبول کر لیا گیا۔ اس طرح بیسوی صدی میں جگہ پاکر انہوں نے افسانہ نگار کی حیثیت منوالی۔ یہ سلسلہ سالوں یو ں ہی چلتا رہا اور اُن کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ اس دوران موئے مبارک کی گمشدگی کی تحریک کے دوران میں نے سیاست کے میدانِ خارزار میں قدم رکھا تو میرا ادبی سفر رُک گیا ۔ پھر قید و بند کا سلسلہ شروع ہوا اور اس میں اور بھی رُکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اس دوران صحافت میں میری دلچسپی اس قدر بڑھ گئی کہ میں نے اِسے پیشے کے طور پر اپنا لیا۔ اگر چہ ادب سے میرا تعلق بہت کم رہ گیا تھا لیکن شکر ہے کہ میں ’’بے ادب‘‘ ہونے سے بچ گیا ۔ کئی سالوں کی دوریوں نے ہمارے ملنے ملانے کے امکانات بھی کم کر دیئے ۔ زیادہ تر فون پر ملاقات ہوتی ۔ انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر لکھنا کم کر دیا تھا اور رفقاء اور چاہنے والوں کے فرمائشوں کے باوجود وہ لکھنے سے کترا رہے تھے۔ میں نے اپنی کتاب ’’قلم برداشتہ‘‘ اپنے ایک دوست کے ہاتھ بھیجی توبہت ہی خوش ہوئے اور فون پر مبارکباد دی۔ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے قلم میں پختگی آگئی ہے اور تحریر متاثر کئے بنا ء نہیں رہتی۔ گھریلو پریشانیوں اور صحت کے مسائل نے اتنا گھیر لیا تھا کہ مہینوں تک فون پر بھی ایک دوسرے سے رابطہ نہیں ہوتا ۔ انہیں شوگر کے مرض نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن پھیپھڑوں کی تکلیف اس شدت کے ساتھ اچانک گھیر لے گی کہ موت کا باعث بنے گی اس بات کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔ آخری ملاقات برادرم ڈاکٹر اشرف آثاری کے کلینک پر ہوئی۔ ہشاش بشاش نظر آرہے تھے ۔ مزاح اِن کے مزاج میں رَچ بس گیا تھا اور دورانِ گفتگو وہ اکثر اس کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ اُس دن بھی دیر تک وہ گفتگو کے دوران مزاح کی پھُلجڑیاں چھوڑتے رہے ۔ مجھے مخمور کے جانے کا کتنا افسوس ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ بچپن کے ساتھی کا بچھڑنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن اس تکلیف کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں ۔
اللہ تعالیٰ اس کی روح کو ابدی سکون عطا کرے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل۔
رابطہ:9797015597