گول//مرکزی سرکار کی جانب سے بجلی کی سپلائی اور بجلی ڈھانچوں کو زمینی سطح پر بہتر بنانے اور لوگوں کو بناء خلل بجلی سپلائی فراہم کرنے کے دعوے اُس وقت سراب نظر آ رہے ہیں جب ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول کے دوردراز علاقوں میں بجلی کی حالت کو دیکھا جاتا ہے ۔ گول کے اندھ نیابت وارڈ نمبر7میں آج بھی بجلی کی ترسیلی لائنیں سر سبز درختوں اور عارضی کھمبوں کے ساتھ لٹتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور کئی مرتبہ محکمہ پی ڈی ڈی سے استدعا کے با وجود کھمبوں کا کوئی انتظام نہیں کیاگیا اور وہیں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بجلی کی سپلائی اور ان کے ڈھانچوں کو بہتر بنایا جائے گا ۔ سرکار کی جانب سے لوگوں کو اُن کی دہلیز پر مسائل حل کرنے کی خاطر پہلے پنچایتی انتخابات کا ڈھونگ رچا گیا اور اُس کے بعد بی ڈی سی اور اب ڈی ڈی سی اور تینوں انتخابات کے بعد تمام نمائندے غائب ہوئے اور سرکار کے دعوے بھی اُن نمائندوں کے ساتھ ہی غائب ہوئے ۔ اب لوگوں کو اُمید جاگی تھی ان کے علاقے میں ہی اُن کا نمائندہ اُن کے مسائل حل کرے گا لیکن ایسا کچھ زمینی سطح پر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ مقامی لوگوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہم بجلی کی ترسیلی لائنوں کو پھلدار درختوں ودوسرے سر سبز درختوں کے ساتھ لٹکاتے ہیں اور کسی بھی وقت جان لیوا حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ محکمہ پی ڈی ڈی سے بھی مطالبہ کیا تھا ۔مقامی نمائندوں اور انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا تھا لیکن کسی نے اس علاقے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ محمد رستم نامی شہری کا کہنا ہے کہ علاقے کو ہر سطح پر نظر انداز کیا گیا ہے ۔ اور لوگوں کے ساتھ تمام وعدے سراب نظر آ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنچایتی انتخابات کے وعدوں اور یقین دہانیوں ، اُس کے بعد بی ڈی سی انتخابات اور اب ڈی ڈی سی انتخابات کا انتظار کیا تھا لیکن اب وہ دن دور نہیں جب یہاں کے لوگ صدر مقام پر آج پر انتظامیہ اور سرکار کے خلاف سراپا احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گی ۔ انہوں نے علاقے میں بجلی کی بہتری کے ساتھ ساتھ باقی مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دینے کی اپیل کی ۔