ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی سب سے پرانی تحصیل بھدرواہ میں تحصیلدار کی کرسی خالی پڑی ہے جس کے نتیجے میں عوامی وسرکاری کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے تحصیلدار کی عدم موجودگی سے پیدا مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر سوتیلے پن کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا۔سیاسی کارکن و سرپنچ پنچائت کلشاڑی ساجد میر کی قیادت میں وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تین ہفتے قبل تحصیلدار بھدرواہ سرکاری نوکری سے سبکدوش ہوئے ہیں لیکن ابھی تک ان کی جگہ نئے آفیسر کی تعیناتی عمل نہیں لائی گئی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو طرح طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھدرواہ کو مہاراجہ کے دور میں راجواڑے کا درجہ حاصل تھا لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور میں اس خطہ کو ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ساجد میر نے کہا کہ نائب تحصیلدار و گرداور کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہوئیں ہیں جس کے باعث عوامی کام کاج بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آفسر شاہی کے اس دور میں عام آدمی کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیموں کی عمل آوری کو یقینی بنانے میں محکمہ مال باالعموم و باالخصوص تحصیلدار کا اہم کردار رہتا ہے لیکن تحصیلدار کی عدم موجودگی سے چالیس ہزار سے زائد آبادی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے بھدرواہ ڈوڈہ شاہراہ پر تارکول بچھانے کے کام کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضلع ترقیاتی کونسل چیئرمین کا تعلق اسی قصبہ سے ہے لیکن ان کی عدم توجہی سے شاہراہ پر غیر تسلی بخش کام ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھدرواہ سے عوام کو کافی توقعات ہیں اور انہیں بھی لوگوں کے مسائل کا حل نکالنے کے لئے انتظامیہ کو جوابدہ بنانا چاہیے۔میر نے ضلع و صوبائی انتظامیہ سے بھدرواہ میں تحصیلدار، نائب تحصیلدار و دیگر خالی پڑی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے مو¿ثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔