بانہال//منگل کے روز ریچھ کے ایک حملے میں ایک زخمی خاتون کو قاضی گنڈ تک لیجانے والی critical careایمبولینس ڈرائیور نے خاتون کے ساتھ آئے تیمارداروں کی طرف سے مارپیٹ اور ایمبولینس گاڑی کو نقصان پہنچانے کی ایک شکایت درج کی ہے اور پولیس سٹیشن قاضی گنڈ میں ایک کیس درج کیا گیا ہے ۔محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ GPSاور انسانی بچائو کیلئے دیگر ضروری آلات سے لیس کریٹیکل کئیر ایمبولینس کا پورا کنٹرول ہیڈ آفیس دہلی سے چلایا جاتا ہے اور اس ایمبولینس کو صرف ضلع رام بن میں ہی مریضوں کو لایا اور لیجایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب جبکہ اننت ناگ کا میڈیکل کالج نزدیک ہے اور مریضوں کی ترجیح کے پیش نظر اس ایمبولینس میں لئے جانے والے مریضوں کو قاضی گنڈ اور اننت ناگ تکنیکی حدودِ تک ہی لیجانے کی اجازت ہے اور وہاں سے منتظر دوسری ایمبولینس گاڑی میں مریض کو سرینگر بھیجا جاتا ہے۔ منگل کو بھی ایسا ہی ہوا اور بانہال کے گنڈ ٹھٹھاڑ میں ریچھ کے حملے میں شدید زخمی خاتون کے تیمارداروں نے پہلے بانہال میں آدھے ہی راستے تک دی جانے والی ایمبولینس اور ڈرائیور کی مبینہ من مرضی کے خلاف اعتراض بلند کیا تھا اور بعد میں ایمبولینس میں مریض کے ساتھ گئے تیمارداروں نے مبینہ طور پر ڈرائیور کی مارپیٹ کی اور گاڑی کے پردے اور سٹریچر اکھاڑ دیئے۔ اس انتہائی نگہداشت والی ایمبولینس گاڑی نمبر JK02BX/9293کے ڈرائیور نظر محمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مجھے ہیڈ آفیس سے ہی فون کے ذریعے ریچھ کے حملے کی مریض خاتون کو قاضی گنڈ تک چھوڑنے کا حکم ملا تھا اور وہاں سے سرینگر کے صدر ہسپتال پہنچانے کیلئے قاضی گنڈ ہسپتال کے ایک میڈیکل اسسٹنٹ اور ایمبولینس کو سرینگر کیلئے تیار رکھا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ قاضی گنڈ پہنچے اور انہوں نے دوسری ایمبولینس گاڑی کے ڈرائیور کو بلا لایا تو ایمبولینس میں سوار تیمارداروں نے مبینہ طور پر اس کی مارپیٹ شروع کردی اور اسے گھسیٹ کر سٹیرنگ تک لایا گیا۔ ایمبولینس ڈرائیور نظر محمد نے الزام لگایا کہ سٹیرنگ پر چڑھا کر بھی مارا پیٹا گیا اور ایک شخص ایمبولینس ڈرائیور کی برابر والی سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت نہ دینے کا غصہ لاتوں ، گھونسوں اور گالیوں کے ذریعے خوب اتار رہا تھا اور کئی افراد یکے بعد دیگرے مار رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مدد کیلئے دی گئی کریٹیکل کئیر ایمبولینس کے پردے مبینہ طور پر پھاڑ دیئے گئے اور سٹریچر اکھاڑ دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارپیٹ کے بعد انہوں نے ہیڈ آفیس میں فون کیا اور انہوں نے پولیس کیس درج کرنے کیلئے کہا ۔ انہوں نے کہا پہلے وہ پولیس سٹیشن بانہال گئے لیکن جائے وقوعہ قاضی گنڈ ہونے کی وجہ سے بانہال میں کیس درج نہ ہوسکا جبکہ بعد میں انہوں نے پولیس سٹیشن قاضی گنڈ میں تحریری شکایت درج کی ہے ۔ادھر اس سلسلے میں پولیس تھانہ قاضی گنڈ میںایک ایف آئی زیر نمبر229سال 2021زیر دفعہ 506، 427اور353انڈین پینل کوڈ کے تحت درج کی گئی اور پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی ہے ۔