سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ غریب لوگوں کو مفت فلو ویکسین فراہم کرے تاکہ آنے والی سردیوں میں فلو کا اثر کم ہو اور قیمتی جانیں بچ جائیں۔ غریب عوام فلو ویکیسن نہیں لے سکتے ہیں کیوں کہ اس کی قیمت ان کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے ،اس لئے سرکار کو چاہئے کہ غریب عوام کیلئے ویکسین مفت دستیاب رکھیں ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے ایک بیان میں کہا کہ فلو مخالف ویکسین کی قیمت 1680روپے ہے، جوغریب عوام کی قوت خرید سے باہر ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگ فلو ویکسین نہیں لے رہے ہیںجس سے ان کے فلو سے متاثر ہونے کے آثار بڑھ جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ ویکسین کی زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے غریب لوگوں کی زندگیوں کو بہت زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے ۔انہوںنے اس بات پر زوردیا کہ ویکسین فلو سیزن شروع ہونے سے پہلے لینا بہتر ہے اور فلو سیزن ماہ اکتوبر سے شروع ہوجاتا ہے اور مئی کے آخر تک اس کااثر رہتا ہے ۔فلو ویکسین لینے سے ایک تو اموات کی شرح کم ہوجاتی ہے، دوسرے بیماری بھی کم ہی اثر کرتی ہے جس سے لوگ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بھی بچ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ امسال ویکسین لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ اس سے فلو سے تو بچاہی جاسکتا ہے بلکہ اس ویکسین سے کووڈ وائرس کے انفکشن سے بھی کافی حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ فلو ویکسین سے کوورناوائرس کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے اور امسال اہلیان وادی کو دہرے وائرس کا خطرہ ہے ،ایک تو یہاں پر اب ہر برس سوائن فلونمودار ہوتا ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہے دوسرا اب کوروناوائرس بھی سر پر ہے۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اگرچہ ویکسین تمام لوگو ں کیلئے ضروری ہے تاہم ، بچوں ، حاملہ خواتین ، عمر رسیدہ اشخاص، یا پہلے سے کسی مہلک مرض میں مبتلاء افراد کیلئے یہ ویکسین لینا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فلو سیزن شروع ہونے کے دوران سکولوں کے کھلنے سے بچے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں اس لئے بچوں کوویکیسن دینا ضروری ہے اور 6ماہ کے بچے سے لیکر یہ ویکسین 8برس تک کے بچوں کو بھی دیا جاسکتا ہے اور اب یہ ویکسین انجکشن کے علاوہ ناک کے سپرے کی صورت میں بھی دستیاب ہے ۔انہوںنے لوگوں پر زور دیا کہ وہ دوہرے وائرس سے بچائوکیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔