کنگن// گاندربل ضلع میں اس سال 21ہزارمیٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ برس ضلع میں 19883میٹرک ٹن اخروٹ پیدا ہوئے تھے۔ ووسن، گنڈ، کلن اور کنگن میں اِن دِنوں اخروٹ درختوں سے اُتارنے کا کام زوروشور سے جاری ہے اور روزانہ ایک ہزار کوینٹل کے قریب اخروٹ درختوں سے اُتارے جارہے ہیںاور سینکڑوں مزدور اس کام میں لگے ہیں۔گزشتہ تیس برس سے اخروٹ کی تجارت سے وابستہ ایک ٹھیکیدار نے بتایا کہ وہ ہرسال اخروٹ درختوں سے اُتارنے کیلئے ایک سوسے زیادہ مزدوروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور روزانہ سینکڑوں کوینٹل اخروٹ کام پر لگائے گئے اُس کے مزدور اُتارتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5اگست2019اور اس کے بعد2020میں کوروناوائرس کی عالمگیر وباء کی وجہ سے اس کا کاروبار کافی متاثر ہوا۔انہوں نے مزیدکہا کہ گزشتہ سال اُس نے قریب بیس لاکھ روپے کے اخروٹ خریدے تھے اورجس کیلئے اُس نے بینک سے قرضہ بھی حاصل کیاتھالیکن کوروناوائرس لاک ڈائون کی وجہ سے اُس کے اخروٹ بک نہیں سکے اور اُسے لاکھوں کا نقصان اُٹھاناپڑااوروہ بینک کاقرضہ بھی واپس ادانہیں کرسکے۔ایک اورٹھیکیدار نے بتایا کہ اس سے ہرسال سینکڑوں لوگوں کو روزگار حاصل ہوتاہے۔ایک اورٹھیکیدار نے کہا کہ میں اس کاروبار سے گزشتہ دس سال سے جڑا ہوں اورگزشتہ سال جب کوروناوائرس کی وباء پھوٹ پڑی تومیں نے اخروٹ کا کوئی درخت نہیں خریداتھا۔امسال دوبارہ یہ کام شروع کیا اورایک سوکے قریب درخت خریدے ہیں اوراس سال اُسے اخروٹ کے کاروبارسے خاصامنافع کمانے کی اُمید ہے۔ضلع کے چیف ہارٹی کلچرافسرعبدالحمیدبٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گاندربل ضلع میں اس سال 21ہزارمیترک ٹن اخروٹ کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ برس ضلع میں 19883میٹرک ٹن اخروٹ پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ووسن کنگن میں محکمہ ہارٹی کلچر کی نرسری میں اخروٹ کی اعلیٰ قسم جسے ’کاغذی‘ کہا جاتا ہے ،کے بوٹے تیار کئے جاتے ہیں اور وہ پھر خواہشمند کسانوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ا س نرسری میں موسم سر ما میں اخروٹ کے درختوں کی پیوندکاری بھی ہوتی ہے۔