عاقب سلام
سرینگر// جمعہ کی شب ہونے والی مختصر بارش نے سرینگر کی معروف بلیوارڈ روڈ پر نکاسی آب کے کمزور نظام کی قلعی کھول دی، جہاں سڑک کے بڑے حصے کیچڑ بھرے پانی میں ڈوب گئے اور سیاحوں و مقامی افراد کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔بلیوارڈ روڈ، خصوصاً گھاٹ نمبر 3 اور 4 اور ان سے ملحقہ علاقوں میں صرف چند منٹ کی بارش کے بعد پانی جمع ہو گیا، جس سے کشمیر کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک کے نکاسی آب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے۔رات کا وقت ہونے کے باوجود یہ علاقہ سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، کیونکہ بلیوارڈ روڈ کے اطراف ہوٹل، ریستوران اور رہائشی ہاؤس بوٹس موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ رات گئے تک بھی مصروف ترین سیاحتی مرکز رہتا ہے۔مقامی رہائشی منظور احمد نے کہا، ’’بارش زیادہ دیر نہیں ہوئی، لیکن پوری سڑک پانی میں ڈوب گئی۔ پانی کھڑا رہا اور پورا علاقہ کیچڑ سے بھرے تالاب میں تبدیل ہو گیا۔
ہر بار بارش کے بعد یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے، حالانکہ بارہا یقین دہانیاں کرائی جا چکی ہیں۔‘‘پانی جمع ہونے کے باعث متعدد سیاح بھی پھنس گئے اور کئی افراد کو ٹخنوں تک کیچڑ بھرے پانی میں چل کر سڑک عبور کرنا پڑی۔دہلی سے آئے ایک سیاح نے کہا، ’’ہم نے کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور بلیوارڈ پر شام گزارنے کے لیے بے حد پرجوش تھے، مگر سڑک عبور کرتے ہوئے ہمارے جوتے اور بیگ پانی سے بھر گئے۔ اتنی اہم سیاحتی جگہ بہتر بنیادی ڈھانچے کی مستحق ہے۔‘‘مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بار بار پانی جمع ہونے سے نہ صرف سیاحوں کو مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ سری نگر کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سیاحتی راستے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔جمعہ کی رات کی بارش کے باعث سری نگر کے دیگر کئی علاقوں، خصوصاً شہر کے قدیم حصوں میں بھی عارضی طور پر پانی جمع ہو گیا، جس سے شہر کے ناقص برساتی نکاسی آب کے نظام کی ایک بار پھر نشاندہی ہوئی۔کشمیرعظمیٰ اس سے قبل بھی متعدد رپورٹوں کے ذریعے بلیوارڈ روڈ کے شہری مسائل اجاگر کرتا رہا ہے، جن میں ٹوٹے پھوٹے اور دھنسے ہوئے فٹ پاتھ، خستہ حال پشتے، بحالی کے کاموں میں تاخیر اور مجوزہ فور لین منصوبے کی سست رفتار پیش رفت شامل ہیں۔اس سے قبل ان خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) کے ایک سینئر افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا تھا کہ،محکمہ بلیوارڈ روڈ پر موجود مسائل کی نشاندہی کر رہا ہے، جبکہ مجوزہ فور لین منصوبے کے تحت دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل بھی مرحلہ وار حل کیے جائیں گے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زیر التوا ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے اور مؤثر نکاسی آب کا نظام قائم کیا جائے تاکہ بار بار پانی جمع ہونے کا مسئلہ ختم ہو سکے، کیونکہ سری نگر کی اس اہم سیاحتی شاہراہ کو اس کی عالمی شہرت کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔