ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق پانی کی سکیمیں ناکارہ ہو چکی ہیں اور محکمہ جل شکتی ان کی مرمت کرنے میں ناکام رہا ہے۔گندنہ، گھٹ ،بھدرواہ ،مرمت ،فیگسو ،کاہرہ ،چلی پنگل و گندوہ کے متعدد علاقوں سے آئے عوامی وفود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی سے انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وفد میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں درجنوں سکیمیں متعلقہ محکمہ و تعمیراتی ایجنسیوں کے ناقص کام سے ناکارہ ہوئی ہیں وہیں کافی پرانی پائپیں زنگ آلود ہو چکی ہیں اور متعلقہ حکام ان کی مرمت کرنے میں ناکام ہوا ہے۔چیئرمین بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ محمد حنیف ملک نے سب ڈویڑن گندوہ میں محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال متعلقہ محکمہ مرمت کے نام پر لاکھوں روپے کی بلیں سرکاری خزانے سے نکالتا ہے لیکن زمینی سطح پر غیر تسلی بخش کام کے باعث غریب عوام کو پینے کے صاف پانی کی قلت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صاف پانی، بہتر زندگانی کا نعرہ دیتا ہے لیکن لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحصیل چلی پنگل کے بیشتر گاؤں میں پانی کی کمی کو لے کر متعدد بار متعلقہ محکمہ سے رجوع کیا لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ڈی ڈی سی کونسلر کاہرہ معراج الدین ملک نے اس حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اپنی ایریا ڈیولپمنٹ فنڈس سے تیس لاکھ روپے محکمہ جل شکتی کے لئے مختص کئے گئے لیکن ابھی وہ کام شروع نہیں کئے گئے ہیں۔انہوں نے ضلع و مقامی انتظامیہ سے پانی کی اسکیموں کی مرمت کرنے پر زور دیا ہے۔