مرکزی وزیر سماجی اِنصاف و امپاور منٹ کی جوڈو کھلاڑیوں کیساتھ ملاقات
جموں//مرکزی وزیر برائے سماجی اِنصاف اور امپاورمنٹ وریندر کمار نے پیر ا یتھلیٹس اور اُن کے کوچوں کے وفدکے ساتھ ملاقات کی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان بھی موجود تھے۔امسال 27؍ اکتوبر سے پہلی ورلڈ ڈیف جوڈو چمپئن شپ میں دو جوڈو کھلاڑی وِشال کھجوریہ اور رخشندہ مہک ورسیل فرانس میںحصہ لینے کے لئے جارہے ہیں۔دونوں کھلاڑی بالترتیب 8اور 10 بار گولڈ میڈلسٹ رہے ہیں۔وِشال کھجوریہ تین بار قومی بہترین جوڈو کھلاڑی بھی رہ چکے ہیں جبکہ رخشندہ مہک کو 2019ء میں بہترین جوڈو کھلاڑی ایوارڈ دیا گیا ۔وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ ٹوکیو اولمپکس اور پیرا لمپکس میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی غیر معمولی کارکردگی سے ملک کا نام فخر سے اونچا کیا ہے اور مستقبل کے ایونٹوں کے لئے زیادہ اُمیدیں دی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں کھیلوںکے بنیادی ڈھانچے ، سہولیات او رثقافت کو بہتر بنانے پر خاص توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ 19پیرا ایتھلیٹس نے ٹوکیو پیرا اولمپکس گیمز میں تمغے جیتنے کا حالیہ کار نامہ کھیلوں میں ترقی کا نتیجہ ہے ۔جوڈو کھلاڑیوں کو اَپنی آنے والی چمپئن شپ میں بہترین کارکردگی دِکھانے کی ترغیب دی گئی اور بتایا گیا کہ پوری قوم کو ان سے اُمیدیں وابستہ ہیں۔مشیر فاروق خان نے دونوں کھلاڑیوں کی کامیابیوں کوسراہا او ران کی حوصلہ افزائی کی ۔اُنہوں نے اُن سے کہا کہ وہ کھیل کو آگے بڑھائیں او ربین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کریں۔ اُنہوں نے اِس کھیل کے لئے جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے مدد اور سہولیات کی یقین دہانی کرائی۔
مرکزی وزیر سماجی اِنصاف اور امپاورمنٹ کا دورہ ٔ سانبہ | ڈرگ ڈی۔ ایڈکشن مرکز کا اِفتتاح کیا اور نکشتر اڈیان کا سنگ بنیاد رکھا
سانبہ//مرکزی حکومت کا عوامی رَسائی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر برائے سماجی اِنصاف اور امپاورمنٹ ڈاکٹر وریندر کمار نے اپنے دوسرے دِن کے دورے پر ضلع سانبہ کے پرائمری سکول بڑی برہمنا ، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر رام گڈھ ، نرسنگھ دیو مندر کمپلیکس کا دورہ کیا اور گھگوال کے مقامی لوگوں سے ملے۔مرکزی وزیر نے گورنمنٹ پرائمری سکول کا دورہ کیا ۔کرتولی بڑی برہمنا میں آج صبح حکومت بڑی برہمنا کے صنعتی علاقے میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچو ںکے لئے سکول تیار کیا گیا ہے جس میں سب کے لئے صد فیصد تعلیم کی بنیادی توجہ ہے ۔اُنہوں نے تمام کلاس روموں ، کچن روم ، کھیل میدان کا دورہ کیا اور اِنتظامیہ او رصنعتی ایسو سی ایشن کو معاشرے کے نچلے طبقے کی بہتری کے لئے ٹھوس اُٹھانے پر مبارک باد دی۔مرکزی وزیر موصوف نے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر رام گڈھ میں ڈرگ ڈی ۔ ایڈکشن اور کونسلنگ سینٹر کا اِفتتاح کیا ۔اُنہوں نے صحت اَفسران پر زو ردیا کہ وہ عام لوگوں اور دیگر متعلقہ آرگنائزیشنوں کے لئے بیداری باقاعدہ کمیونٹی کیمپ منعقد کریں۔وزیر موصوف نے نرسنگھ دیو مندر کمپلیکس میں ایک ایسٹرل گارڈن ’’ نکشترا ڈیان ‘‘ کا سنگ بنیاد بھی رکھا ۔ایسٹرل گارڈن یا نکشتر گارڈن کا تصور مشہور ہے اور بھارت کے مختلف گارڈن اور نیچر پارک میں اس پر عمل کیا جاتا ہے او رگھگوال میں ایسٹرل گارڈن کی بنیاد رکھنے سے یہ علاقے کے عام لوگو ں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ علم نجوم ، آیوروید ، نباتیات اور زمین کی تزئین کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ شیوم پیلس کے دورے کے دوران وزیر موصوف نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ مختلف سٹالوں اور بیداری کیوسک کا معائینہ کیا ۔وزیر موصوف نے 30مستحقین میں موٹرا ائزڈ ٹرائی سائیکل ، میکانیکل ٹرائی سائیکل اور مصنوعی اِمداد تقسیم کی اور اے ایل ایم آئی سی او کے اشتراک سے محکمہ سماجی بہبود کی مختلف سوشل سیکورٹی سکیموں کے تھت 20 مستحقین میں مالی اِمداد تقسیم کی۔بعد میں مرکزی وزیر موصوف نے گھگوال میں مختلف وفود سے ملاقات کی او رمختلف مسائل پر اِستفسار کیا ۔وزیر نے وفود کو یقین دِلایا کہ ان کے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔سیکرٹری سوشل ویلفیئر شیتل نندا ، ڈی ڈی سی چیئرمین کیشودت شرما، ڈی ڈی سی وائس چیئرمین بلوان سنگھ ،ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ انورادھا گپتا کے علاوہ مقامی بی ڈی سی چیئرمین ، سر پنچوں ، ضلعی اَفسران اور عام لوگ بھی موجود تھے۔
مرکزی وزیر پرلہاد جوشی کا ریاسی میں دو روزہ عوامی رسائی پروگرام اختتام پذیر
ریاسی// کوئلہ ، کانوں اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پرلہاد جوشی ، جو مرکزی حکومت کے عوامی رسائی پروگرام کے تحت ضلع ریاسی کے دو روزہ دورے پر تھے ، نے اپنے دورے کا اختتام کیا۔اپنے دورے کے دوسرے دن جوشی نے آنگی فش فارم ریاسی کا دورہ کیا جہاں مچھلی پالن سے وابستہ کسانوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مرکزی وزیر نے کسانوں بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مچھلی کی کاشت کریں اور اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے اپنے مچھلی فارم قائم کریں کیونکہ اس شعبے میں روزگار کی بہت گنجائش ہے جسے حکومت ہند کی جانب سے آتم نربھربھارت ابھیان کے تحت سپورٹ کیا جائے گا۔۔ مرکزی وزیر نے کہاکہ مچھلی کاشتکاری بے روزگاری اور غربت کے مسائل کو حل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے ضلع کے کسانوں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور روایتی کاشتکاری کے ساتھ تجارتی کاشتکاری کے لیے آگے بڑھیں جس سے نہ صرف ان کی کوششیں کم ہوں گی بلکہ وہ مختصر عرصے میں اپنی آمدنی کو دوگنا کرنے میں بھی مدد کریں گیمحکمہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام کٹرہ میں ہائر سکینڈری سکول اگر جتو میں محکمہ ریونیو اور سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے منعقد ہ سکالرشپ میلے کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر نے محکمہ سوشل ویلفیئر ، ریونیو ، ایجوکیشن ، لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لگائے گئے سٹالز کا معائنہ کیا۔ اپنے خطاب میں وزیر موصوف نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے کام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جو کہ جمہوری اور شراکت دار حکمرانی کے لیے ضروری ہے کیونکہ وہ اعتماد کی تعمیر اور سکیموں کے اثرات کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔وزیر موصوف نے سکالرشپ میلے کا انعقاد کرکے ضرورت مند اور ہونہار طلبہ کے حوصلے اور جوش کو بلند کرنے کے لیے فلاحی خدمات فراہم کرنے کی ضلعی انتظامیہ کی کوششوں کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ مختلف سکالرشپ سکیموں کے فوائد حاصل کریں جیسے ایس سی ، او بی سی ، ایس ٹی اور اقلیتی طلبہ کے لیے۔وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی سکالرشپ پورٹل پر عملدرآمد اورسکالرشپ کو آف لائن سے آن لائن موڈ میں منتقل کرنے سے طلبامیںسکالرشپ کے فوائد کی رسائی بڑھ گئی ہے۔مٹیریل ریکوری فیسیلٹی سنٹر میں ، صفائی کرمچاریوں کے ذریعہ سورس علیحدگی کے مختلف طریقوں کے ساتھ ساتھ فضلے کی علیحدگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ وزیر نے صفائی ستھرائی کے کارکنوں کو ضلع کو صاف رکھنے میں ان کی انتھک کوششوں کی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔وزیر نے ویسٹ ٹو آرٹ نمائش کا بھی دورہ کیا جہاں مختلف عمر کے بچوں نے شرکت کی اور فضلے سے بنائی گئی کئی خوبصورت مصنوعات پیش کیں۔ جوشی نے بچوں کی کارکردگی کی تعریف کی اور ان پر اور عام لوگوں پر زور دیا کہ وہ صفائی کی کوریج حاصل کرنے کی کوششوں کو تیز کریں اور صفائی پر بھی توجہ دیں۔بعد ازاں نمائش میں پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے بچوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔
مرکزی وزیر جل شکتی نے 15پروجیکٹوں کا اِفتتاح کیا اور 15 پروجیکٹوں کا اِی ۔سنگ بنیاد رکھا
جموں//مرکزی وزیر جل شکتی گجندر سنگھ شکھاوت نے 15 منصوبوں کا اِی ۔اِفتتاح کیا اور اُنہوں نے یہاں جل شکتی محکمہ جموںوکشمیر کے 15 نئے منصوبوں کا کا اِی ۔ سنگ بنیاد رکھا۔مکمل شدہ منصوبوں کی کل لاگت 59کروڑ روپے تھی اور نئے پروجیکٹوں کی لاگت 54.87 کروڑ روپے ہے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیور ائے بھٹناگر موجود تھے۔اِفتتاح کئے گئے منصوبوں میں جند رور کے لئے پانی کی فراہمی سکیم ،اودھمپور می چاری متل ، ڈبلیو ایس ایس ان کنگر ،جموں میں چک کیر پالپور،ڈبلیو ایس ایس کنسونولی ( شوپیان)، ڈبلیو ایس ایس نار پورہ ( شوپیان)، ڈبلیو ایس ایس نوگام رام گرگ ( شوپیان)، ڈبلیو ایس ایس شیرمال شیر پتھری ( شوپیان،ڈبلیو ایس ایس کارواسفنا گری،ڈبلیو ایس ایس فلٹریشن پلانٹ اَجس بانڈی پورہ ،لولاب میں سٹوریج ٹینک اور دیگر سکیمیں شامل ہیں۔ نئی سکیموں میں ڈبلیو ایس ایس اتربھنی( سانبہ) ، بالودے( سمن)، ہر سارتھ ( سانبہ) ، چننئی( رِیاسی)، دھرماری(رِیاسی)،سدل اور پنجار ( اودھمپور) ، اچھہ بل ( اننت ناگ)،نمبل ( اننت ناگ ) ، اچیگام ( بڈگام ،زین پنچل ( بڈگام)،راجل کنال ( راجوری)شامل ہیں۔کمشنر سیکرٹری جل شکتی محکمہ ایم راجو نے مکمل شدہ پروجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ نئے پروجیکٹ مقررہ وقت کے اَندر مکمل ہوں گے۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر محمد اعجاز اسد، مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ ، چیف انجینئر پی ایچ اِی کشمیر اِفتخار احمد اور دیگر اَفسران موجود تھے۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر موصوف نے اَفسران سے کہاکہ وہ آئندہ نسلوں کے لئے پانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے لگن اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔اُنہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں پانی ایک بڑا چیلنج ہوگا لیکن ہم مل کر ہر گھر میں پانی کے فعال کنکشن لے آئیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ایک مشن موڈ پر کام کررہی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو خوشحال زندگی فراہم کی جاسکے۔عوامی رَسائی پروگران کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر نے 10 ملین گیلن یومیہ ٹنگنار واٹر سپلائی سکیم پنتھہ چوک کا بھی دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں پنچایت نمائندوں اور پانی کمیٹی ممبران کے ساتھ ایک اَستفساری سیشن منعقد کیا تاکہ اَپنے اَپنے علاقوں میں جل جیون مشن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔اُنہوں نے واٹر فلٹریشن پلانٹ کے مختلف حصوں کا بھی معائینہ کیا جن میں ایلوم ٹینک ، کلور ی نیشن یونٹ اور واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریاں شامل ہیں۔مرکزی وزیر موصوف نے کہا مرکزی حکومت جموں وکشمیر کے لوگوں کو یقینی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے پُر عزم ہے اور اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہو رہا ہے اور جموںوکشمیر مختلف مصنوعات کا مینو فیکچرنگ مرکز بنا جائے گا۔مرکزی وزیر نے جے جے ایم کی عمل آوری کی پیش رفت میں جموں و کشمیر حکومت کی تعریف کی۔اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت معاشرے کے تمام طبقات کی مساوی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے پُر عزم ہے ۔مرکزی وزیر موصوف نے پی آئی کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ پنچایتی نمائندوں کا کردار اور ذمہ داری بڑھ جائے گی کیوں کہ حکومت کی سکیموں اور منصوبوں کو تیزی سے نافذ کیا جارہا ہے ۔ پی آر آئیز نے اَپنے اَپنے علاقوں کے مختلف مسائل بھی اُٹھائے اور اَپنے علاقوں میں مختلف سہولیات کی اَپ گریڈیشن کا مطالبہ کیا۔مرکزی وزیر نے انہیں یقین دِلایا کہ وہ ان کے مسائل اور مطالبات ان کے فوری حل کے لئے مناسب فورموں پر اُٹھائیں گے۔مرکزی وزیر موصوف نے سری نگر کے مضافات میں زاوورہ میں سینٹر آف ایکسی لینس کا بھی دورہ کیا اور ترقی پسند کسانوں اور تاجروں کے ساتھ بات چیت کی۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہا ر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت نے 2022ء تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وزیر اعظم کے خواب کو پورا کرنے کے لئے پہلے متعدداقدامات شروع کئے ہیں۔
مرکزی وزیر بھوپندر یادو کا بانڈی پورہ دورہ ، ولر کنزرویشن ورکس کا معائینہ ، ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح
بانڈی پورہ کو بین الاقوامی سیاحت کے نقشے پر لانے کیلئے سیاحتی امکانات کی تلاش ، و لر کنزرویشن پر زور دیا
بانڈی پورہ//مرکزی حکومت کے جاری عوامی رَسائی پروگرام کے حصے کے طور پر مرکزی وزیر ماحولیات ، جنگلات ، موسمیاتی تبدیلی ، محنت و روزگار بھوپندر یادو نے بانڈی پورہ ضلع کا دورہ کیا ۔ وزیر موصوف نے بحالی اور تحفظ کے کاموں کا معائینہ کیا ، کئی پروجیکٹوں کا ای۔ افتتاح کیا ، کئی پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھا اور عوامی وفود سے ملاقات کی ۔ وزیرموصوف نے بعد میں سنبل میں ہلال آباد نیسبل میں 3.00 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پبلک پارک کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ انہوں نے آرام پورہ بانڈی پورہ میں فلٹریشن پلانٹ کا بھی افتتاح کیا جو 1.53 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ مرکزی وزیر نے بیک ٹو ولیج پروگرام ، منریگا اور 14 ویں ایف سی کے تحت 2.62 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع بانڈی پورہ میں سڑکوں ، ٹائل راستوں اور پلوں کے ذریعے دیہی روڈ رابطے کا بھی افتتاح کیا ۔ قبل ازیں ڈی سی بانڈی پورہ نے ایک مختصر پاور پوائینٹ پرزنٹیشن دیا جس میں میگا وولر کنزرویشن پروجیکٹ سمیت ضلع میں ترقیاتی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا ۔ وزیر نے یو ٹی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جھیل کے تحفظ اور ضلع میں سیاحت کے شعبے کو بلند کرنے کی کوششوں کو سراہا اور افسران پر زور دیا کہ وہ زیادہ جوش کے ساتھ کام کریں تا کہ وولر جھیل کو بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر لایا جا سکے ۔ وزیر نے صفائی مہم میں بھی حصہ لیا اور ’[ آزادی کا امرت مہوتسو ‘] کے حصے کے طور پر شروع کی گئی وولر صفائی مہم کا افتتاح کیا ۔ مسٹر یادو نے ایک کتابچہ بھی جاری کیا جو کہ ’’ پرندوں کیلئے گائیڈر ‘‘ ہے جو سیاحوں کو جھیل میں موجود ہجرت کرنے والے پرندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ معلومات کے بارے میں جاننے میں مدد دے گا ۔ وزیر نے وولر جھیل کے کنارے رہنے والے مقامی لوگوں میں سولر لائیٹس ، سکول کٹس اور یتیم بچوں میں تعلیمی کٹس بھی تقسیم کیں ۔ بعد میںمتعدد وفود ، چیئر مین ڈی ڈی سی عبدالغنی ، ضلعی ترقیاتی کونسل کے اراکین بشمول ڈاکٹر غلام مصطفی خان اور دیگر ، بی ڈی سی کے چیئر پرسن ، سرپنچ اور دیگر پی آر آئی اراکین نے وزیر سے ملاقات کی اور انہیں مختلف عوامی مسائل سے آگاہ کیا اور مسائل کے حل کیلئے ان کی مداخلت طلب کی۔مرکزی وزیر نے تما م وفود اور اَفراد کو بغور سنا اور ان کی شکایات کے ازالے کے حوالے سے حکومت کی طرف سے مثبت جواب کی یقین دہانی کرائی ۔
وزارتِ قبائلی امورکا جموںوکشمیر میں مختلف منصوبوں کیلئے اتفاق
مرکزی وزیر ارجن منڈا کی زیر صدارت میٹنگ میں جموں وکشمیر کی تجاویز پر غور کیا گیا
نئی دہلی//مرکزی وزیر قبائلی امور ارجن منڈا نے جموں و کشمیر کے قبائلی امور کے محکمہ کی طرف سے پیش کی گئی منصوبہ تجاویز اور مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جس کا مقصد جموںوکشمیر میں قبائلی برادریوں کے لئے سماجی و معاشی اور فلاحی منصوبہ بندی ہے ۔مختلف پروجیکٹوں کے لئے لئے گئے مختلف تجاویز اور فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی مداخلت پر کئی اہم پروگراموں کی جموںوکشمیر تک بڑھایا جارہا ہے جن کے لئے قبائلی امور محکمہ نے تجاویز پیش کیں۔میٹنگ میں سیکرٹری وزارتِ قبائلی امور انیل کمار جہا ،جے ٹی سیکرٹری نوجوت کپور، سیکرٹری قبائلی امور محکمہ جموںوکشمیر ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری ، ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار اور دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔وزیر قبائلی امو رنے جموںوکشمیر حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں بشمول تعلیم ، ضروری خدمات ، قبائلی صحت منصوبہ ، معاش سکیمیں ، کاشت کاری ، بنیاد ی ڈھانچہ ، ٹرانزٹ رہائش ، آئی ٹی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں مع دیگر شعبوں کے تحت پیش کردہ تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔اُنہوں نے وزارت میں متعلقہ صوبوں سے کہا کہ وہ منظوری کے لئے تجاویز پر تیز سے عمل در آمد کریں تاکہ جموں وکشمیر میں قائلی آبادی کے لئے ضروری سہولیات اور خدمات کو بڑھایا جائے ۔ فنڈنگ کا معاملہ بھی آرٹیکل 275 (1) کے تحت جلد حل کرنے کے لئے زیر بحث آیا۔مرکزی سیکرٹری قبائلی اَمور انیل کمار جہا نے مختلف سکیموں کے تحت منصوبوں کی منظور اور مائیگرنٹ قبائلی آبادی کی منفرد ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اُنہوں نے نقل مکانی کرنے والی آبادی کے لئے کئے گئے جامع سروے کو سراہا جو طویل مدتی منصوبہ بندی میں مدد گار ثابت ہوگا۔سیکرٹری قبائلی اَمور محکمہ جموںوکشمیر ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے انٹگریٹیڈ وِلیج ڈیولپمنٹ سکیم پر عمل در آمد اور 302دیہات کی مرکزی فہرست کے علاوہ اِضافی 65 دیہاتوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی اور سکیم کے تحت پہاڑی چراگاہوں کی بستیوں کا نوٹیفکشین ان مقامات پر رہائش پذیر مائیگرنٹ آبادی کو دیکھتے ہوئے مختلف سہولیات کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے وزارت کو مختلف اضلاع میں انٹگریٹیڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ اتھارٹیوںکے قیام کے لئے شروع کئے گئے منصوبہ بندی کے عمل اور وزارت کی جانب سے منظوری کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔وزارت کو پیش کئے گئے منصوبوں میں 07 مزید ایکلویا ماڈل رہائشی سکولوں کا قیام ، 02 ماڈل ڈے بورڈنگ سکول ، کھیلوں کے 02 مراکز ، قبائلی سمارٹ سکولوں کے لئے گرانٹ ، مختلف اضلاع میں 80 ہوسٹلوں کا قیام اور قبائلی بھون کے لئے گرانٹ شامل ہیں۔ وزارت کے سامنے غور اور منظوری کے لئے رکھے گئے دیگر اہم منصوبوں میں قبائلی نوجوانوں اور خواتین کی خاطر معاش کے منصوبے ، قبائلی تحقیقاتی ادارے میںاَسامیوں کی معرض وجود میں لانے کی منظوری اور ٹریفیڈ کے تحت مختلف سکیموں میں توسیع شامل ہیں۔اجلاس میں قبائلی آبادی کے لیے خاص آمدنی پیدا کرنے کے ذرائع اور جموں و کشمیر میں نقل مکانی کرنے والے قبائلی آبادی کے لیے وقف کوششوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ مزیدہوہوسٹل اور رہائشی سکولوں کے قیام کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ یہ فیصلہ لیا گیاکہ قبائلی امور محکمے جموںوکشمیر کی جانب سے جمع کردہ جامع منصوبہ بندی کے پیش نظر مرکزی وزارت متعلقہ محکموں کے ذریعے معاونت کے لئے مختلف وزارتوں کے ساتھ بین شعبہ جاتی منصوبے شروع کرے گی۔
۔ 111 کلومیٹر کٹرہ بانہال ریلوے سیکشن پر کام صحیح سمت میں جاری
ریاسی ، رام بن کے ڈپٹی کمشنروں کوکام کی تکمیل کیلئے رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت
جموں // صوبائی کمشنر جموں ڈاکٹر راگھو لنگر نے ریاسی اور رام بن کے ڈپٹی کمشنروںکو ہدایت کی کہ وہ ریلوے حکام کے ساتھ باقاعدہ یٹنگ کریں اور اودھم پور۔سرینگر۔بارہمولہ ریلوے لائن سے متعلق رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔صوبائی کمشنر نے یہ ہدایات ادھم پور۔سری نگر۔بارہمولہ ریلوے لائن منصوبے پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے والے مسائل کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ریلوے افسر نے ایک تفصیلی پریزینٹیشن دی اورصوبائی کمشنر کو صف بندی ، کام کی تازہ پیش رفت ، منصوبے کی نمایاں خصوصیات ، چیلنجز ، مسائل کے بارے میں آگاہ کیا جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہیںبتایا گیا کہ ادھم پور بارہمولہ ریلوے لائن کی کل لمبائی 272 کلومیٹر ہے جس میں سے 161 کلومیٹر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے جبکہ کٹرہ سے بانہال تک 111 کلومیٹر کی باقی لمبائی پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبہ 27،949 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس منصوبے کے تحت دریائے چناب پر 359 میٹر کی اونچائی والا دنیا کا بلند ترین ریلوے پل بن رہا ہے۔ اسی طرح ریاسی کے انجی نالہ پر ہندوستان کا پہلا کیبل اسٹڈ ریلوے پل بھی لنک کے ساتھ آرہا ہے۔ڈویژنل کمشنر نے زمین کے حصول ، معاوضے کی ادائیگی ، معمولی معدنیات کی دستیابی وغیرہ پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔انہیںبتایا گیا کہ زمین کا حصول مکمل ہوچکا ہے اور دونوں اضلاع میں ریلوے کو کام کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔صوبائی کمشنر نے زمین کے معاوضے کی ادائیگی میں التواء کا سخت نوٹ لیا اور ڈپٹی کمشنروںکو ہدایت کی کہ وہ مالکان کو معاوضے کی 100 فیصد تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے عمل کو تیز کریں۔معمولی معدنیات کی دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریلوے کو مختلف معدنی بلاکس کے ذریعے تعمیراتی مواد دستیاب ہے جبکہ تازہ قلیل پرمٹ جاری کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ڈائریکٹر جیولوجی اینڈ مائننگ اور ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا کہ وہ قلیل مدتی اجازت نامے جاری کریں تاکہ ریلوے مستقبل میں بھی بغیر کسی پریشانی کے ضروری تعمیراتی مواد خرید سکے۔ریلوے کے انجینئروںنے صوبائی کمشنرکو بھی آگاہ کیا کہ رام بن ضلع میں کچھ یوٹیلٹی شفٹنگ کا کام زیر التوا ہے۔صوبائی کمشنرنے جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے انجینئروں کو ہدایت کی کہ وہ لائنوں کی تبدیلی کے کام کو تیز کریں تاکہ ریلوے کے پراجیکٹ پر کام آسانی سے چل سکے۔انہوںنے ضلعی انتظامیہ رام بن اور ریاسی کو ریلوے انجینئروں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کرنے اور تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی تلقین کی۔
رام بن میںمیترا جھولا پل پر | 24ٹن لوڈ والی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی
رام بن// ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رام بن مسرت الاسلام نے میترا جھولاپل پر 24 ٹن سے زیادہ لوڈ والے سامان کیریئر کی نقل و حرکت کو محدود کردیا ہے۔لوگوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور رام بن ٹاؤن کے میترا مارکیٹ میں نالہ پر 60 فٹ کے ڈبل سنگل بیلی برج (ڈی ایس بی بی) کی لوڈنگ کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے پل پر 24 ٹن سے زیادہ بوجھ والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔ اس سلسلے میں جاری آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حکم کی کوئی خلاف ورزی قانونی کارروائی کو دعوت دے گی جس میں جرمانے کے ساتھ ساتھ گاڑی کو ضبط کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر23ہزار کا جرمانہ | 1815 ٹیکے لگائے گئے ، 1368 نمونے جمع کئے گئے
رام بن//ضلع رام بن میں کوویڈ پروٹوکول کے نفاذ کے لیے نفاذ مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک نہ پہننے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر کئی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔نافذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنہ کے دوران 23ہزار700 روپے جرمانہ وصول کیا ۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ اپنے قریبی سی وی سی پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ ڈسٹرکٹ امیونائزیشن آفیسرڈاکٹرسریش نے بتایا کہ ضلع رام بن میں آج 1815 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراک دی گئی۔چیف میڈیکل آفیسرڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1368 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 292 RT-PCR اور 1076 RAT نمونے شامل ہیںجبکہ اس کے علاوہ 1815 افراد کو ضلع کے مخصوص ویکسی نیشن سینٹروں میں کوویڈ ویکسین کا انتظام کیا گیا ہے۔
کلید پوہی سڑک انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار
عاصف بٹ
کشتواڑ//
کشتواڑ قصبہ کے قریب منی سیکریٹریٹ سے چند سو میٹر کی دوری پر کلید پوہی سڑک انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے اور اس سڑک پر گاڑیوں میں سفر کرنا تو دور پید سفر کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس سڑک پر ڈینج کا کوئی نظام ہے اور بڑے بڑے گڑھے بن گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے کئی مرتبہ انتظامیہ سے اس سڑک کی حالت بہتر بنانے کی اپیل کی لیکن آج تک سڑک کو بہتر نہیں بنایا گیا جسکے سبب اس سڑک پر سفر کرنا دشوار ہورہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چند سومیٹرکی سڑک انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس پر عوام کاسفر کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔انہوںنے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس سڑک کو بہتر بنایا جاسکے ۔
ٹھکرائی سرعاوہ سڑک پر کریش بیریئروں کی تعمیر | مقامی لوگوں کا غیر معیاری مواد استعمال کرنے کا الزام
عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے علاقہ ٹھکرائی میں ٹھکرائی سرعاوہ سڑک پر لگائے گئے کریش بیریئروں کی تعمیر میں مقامی لوگوں نے غیرمعیاری مواداستعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پہاڑی سرعاوہ علاقے میں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے تعمیر کی گئی سڑک پر جہاںچند ماہ قبل میکڈم بچھایا گیا وہیں اس پر سڑک حادثات کو روکنے کیلئے کریش بیریئر لگائے گئے تاہم لوگوں کا الزام ہے کہ ان بیریئروں میں غیر معیاری مواد استعمال کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ محکمہ کو معیاری سامان استعمال کرنا چاہئے تھاتاکہ سڑک حادثات کو روکا جاسکتا لیکن مسلسل غیر معیاری مواد استعمال ہونے کی شکائتیں موصول ہورہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سرعاوہ سڑک پرکریش بیریئراگرچہ لگائے گئے تاہم ان میں غیر معیاری مواد استعمال ہوا ہے اور ان مقامات پر لگائے گئے ہیں جہاں کوئی فائدہ نہیں ہے جبکہ بیشتر مقامات پر کوئی بھی کریش بیریئر نہیں لگایاگیا ہے جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ انہوںنے انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ وہ متعلقہ ایجنسیوں کو معیاری سامان استعمال کرنے کی ہدایت دے تاکہ حادثات کو روکا جاسکے۔
ڈی ڈی سی چیئرپرسن کی یقین دہانی سراب،جمن گاگرہ سڑک 20برسوں سے تشنہ تکمیل
تین پلوں کیلئے2018میں ٹینڈر نکلے تھے ، پی ایم جی ایس وائی کی لاپرواہی سے لوگ پریشان
زاہد بشیر
گول//سب ڈویژن گول کے دور دراز علاقہ پنچایت کلی مستا گاگرہ کو سڑک رابطے سے جوڑنے کے لئے 2001ء میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت جمن سے ہوتے ہوئے ہارہ کلی مستا 15کلومیٹر سڑک تعمیر کرنے کی منظوری ملی تھی اور سال2002میں علاقہ ہارہ تک قریب پانچ کلو میٹر پی ڈبلیو ڈی کے تحت بنی اور وہاں سے آگے اس سڑک کی تعمیر پی ایم جی ایس وائی نے کی اور دس سال تک صرف کوٹ علاقہ تک ہی اراضی کی کٹائی کی اور دس سال وہاں سے آگے کلی مستا تک کٹائی کی اور یہ بیس سال صرف کٹائی کو ہی لگے لیکن اس کے با وجود سڑک کی کٹائی مکمل نہیں ہوئی اور 2018میں اس سڑک کی دیواریں ، اور تین پلوں کے لئے ٹینڈر نکلے تھے لیکن نا معلوم وجوہات کی بناء پراس پر کام شروع نہیں کیاگیا ۔اگر چہ کلی مستا تک بمشکل گاڑی جاتی ہے لیکن تھوڑی سی بارش پڑنے پر سڑک بند ہوجاتی ہے اور ایک سال سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کام مکمل طور پرٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔مارچ اپریل کے مہینے میں ضلع رام بن کی ڈی ڈی سی چیئر پرسن نے گول میں ایک دربار کے دوران لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ جلد یہاں پر تینوں پلوں پر تعمیری کام شروع کیا جائے گا اور چند ماہ قبل یہاں ٹھیکیدار آیا اور تھوڑا کام شروع کیا اور پھر بند کر دیا گیا ۔ اگر چہ اس کام کی شروعات خود ڈی ڈی سی چیئر پرسن نے کیا لیکن کام بند ہونے پر انہوں نے بھی خاموشی اختیار کی ہے ۔مقامی لوگوں کے وفود نے کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے بھی مطالبہ کیا تھا ۔ یاداشتیں پیش کیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا ۔یہ سڑک قریباً ایک ہزار چولہوں کوملاتی تھی جوہارہ ، کوٹ ، کلی مستا ، گاگرہ وغیرہ شامل ہیں اور وہاں سے آگے اس کا ایک اور پروجیکٹ بھی متعارف کرایا گیا تھا، جو آستان مرگ سے ہوتے ہوئے بھیمداسہ کے ساتھ یہ سڑک ملتی تھی لیکن علاقے کے ساتھ اتنا سوتیلا سلوک رکھا گیا کہ بیس سال گزرنے کے با وجود یہ سڑک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائی ۔اس پندرہ کلومیٹر سڑک میں تین پل بھی اہم ہیں جب تک یہ پل تعمیر نہیں ہوں گے تب تک یہاں اس سڑک پر ٹریفک بحال کرنا نا ممکن ہے جن میں گوڈری پل، ہارہ پل اور کوٹ پل شامل ہیں جن پر کم از کم تین کروڑ روپے کے ٹینڈر بھی2018مارچ میں نکلے تھے اور ایک پل پر چند ماہ قبل تعمیری کام بھی شروع کیا تھا لیکن ساتھ ہی کام بند کر دیا گیا ۔ مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد پلوں کی تعمیر کو مکمل کیا جائے اورگاگرہ تک سڑک کی تعمیر کیا جائے تا کہ لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے ۔
ڈوڈہ میں جمعہ کو کوئی نیا کوروناکیس نہیں | 3 مریض صحتیاب، 410448 ٹیکے لگائے گئے
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں جمعہ کوکووڈ 19 کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔اس دوران قرنطینہ میں رکھے گئے مریضوں میں سے 3 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد سمٹ کر 42 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی 7629 پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک کورونا وائرس سے 133 ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور 410448 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔