ہر سال اکتوبر ۵ تاریخ کو عالمی یوم اساتذہ (World Teachers Day) منایا جاتا ہے – یہ دن نہ صرف تعلیم و تدریس کو اُجاگر کرتا ہے بلکہ دنیا کے سبھی اساتذہ کرام کو ایک عزت و اکرام کا مقام بھی بخشتا ہے ۔اس روز خاص طور پر اساتذہ کرام کی خدمات اور ان کے رول ، جو انہوں نے بچوں کی نشوونما اور سماج کی اصلاح کے لئے ادا کئے ہوں کو سراہا جاتا ہے ۔ یہ ایسی گھڑی ہوتی ہے ،جس میں ہم اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں تاکہ سماج کے ذہین اشخاص کو اس خاص اور مقدس شعبے کی طرف راغب کیا جائے۔ چونکہ تعلیم کے میدان میں استاد ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہےاور تدریس کا پیشہ ایک معزز اور قابل احترام پیشہ مانا جاتا ہے۔
معلم کا ہم سب کی زندگی میںاول سے ہی ایک بڑا احسان رہا ہے ۔ بچے کی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں اسکول میں درج ہوتے ہی استاد کے لئے ایک چلینج کی صورت حال رہتی ہےجو بڑے پیار و محبت، ایثار و ہمدردی ، صبر و تحمل اور پیشہ ورانہ انداز سے بچے کی شخصیت پر اپنا اثرڈالتا ہے جس کے نتیجہ میں کئی روز کے بعد ہی بچے کے اطوار اورنشوونما میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے ۔دراصل یہ تبدیلی ایک معلم کےتدریسی میدان میںرہ کر اپنے شاگردوں پر کئے گئے تجربات کی ہی مرہون منت ہوتی ہےجو بچوں پر اثر انداز ہوکر آہستہ آہستہ اُن کی زندگی میں ڈھل جاتی ہےاور اُن کی شخصیت باوقار طریقے پر آگے بڑھتی ہے۔ یہ معلم ہی ہے، جس کی بدولت تعلیم یافتہ لوگ چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں، زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں – راقم بذات خود آج معلم ہی کی بدولت یہ مضمون رقمطراز کر پایا ہے ۔ ایسے سبھی اساتذہ کا احسان مند ہوں، جنہوں نے راقم کی زندگی کو پروکر بہترین انداز میں ڈھالا ہے۔ اسی طرح مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی ایک شخصیت کے روپ میں ڈھالنے والا ایک معلم ہی ہے، جس کا کردار والدین کے بعد سب سے بڑا اہم مانا جاتا ہے ۔
یوں تو سبھی اساتذہ لائق تعریف، قابل ستائش اور قابل فخر ہوتے ہیں ۔لیکن ہر ادارے میں چند گنے چُنے لوگ ہی ہوتے ہیںجو ادارے میں ہر دلعزیز ہوتے ہیں ۔یہی صورت حال تعلیمی اداروں کی بھی ہے،جہاں کام کرنے والےکچھ اساتذہ ، جو اپنی خاص صلاحیتوں اور منفرد تدریسی تجربات کی وجہ سے باقی اساتذہ پر چھا جاتے ہیں اور ہر طرف ان کے چرچے سننے کو ملتے ہیں ۔ ایسے اساتذہ کرام کا کردار تا دیر یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا پہ ایسے کئی ویڈیوز وائرل ہوئےہیں،جن میں اساتذہ کی تبدیلی ہونے پر طلباء زور و قطار سے رونے لگتے ہیں جب کہ دوسری جانب کئی ویڈیوز اس کے بالکل برعکس دیکھنے کو ملے ہیں جہاں ایک معلم بے دردی کے ساتھ طلباء کو مارتے رہتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں ایک ہی محکمہ سے جڑی دو مختلف منظر پیش کر رہی ہیں ۔
قرآن کریم کی پہلی آیت مبارکہ میں بھی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا " (العلق:1)
اسی طرح خیر الانام، سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔
اس کائنات پر رب العالمین نے تاجدارِکائنات صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی دینی، اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی تربیت کے لئے معلم بنا کر تمام اُمت مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا ۔ اس طرح قرآن کریم اور حدیث مبارک سے تعلیم اور معلم کی اہمیت اُجاگر ہو گئی اور اس پیشہ سے وابستہ افراد کو وہ اعلیٰ و بالا مقام و مرتبہ حاصل ہوا جو شاید کسی دوسرے پیشے سے وابستہ افراد کو حاصل نہیں ہے ۔
ایک زمانہ تھا جب معلم کی بے حد عزت و تکریم کی جاتی تھی۔ طلباء میں معلم کے لئے شرم و حیا موجود تھا۔ معلم کر دیکھ کر طلباء کھانا وغیرہ کھا نہیں پاتے تھے اور آج زمانہ یہاں پہنچا ہے کہ معلم اور شاگرد آپس میں سگریٹ، کول ڈرنک و دیگر چیزیں مل بانٹ کر لیتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ فیس بک کی دوستی سے یہ دوریاں اور بھی قریب آکر رہ گئی ہے ۔آج کل شاگرد اپنے معلم سے مطالعہ کے بجائے زندگی کے مختلف دلچسپ میدان کے متعلق مشورہ لیا کرتے ہیں ،حالانکہ ایک معلم دوست سے بڑھ کر ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن اس میں کچھ حدود کو ملحوظ نظر رکھنا بھی توضروری ہے ۔ ایک باکردار، باضمیر اور با شعور معلم کے اثرات اس ادارے جہاں وہ اپنی خدمات کے لئے طعینات کیا گیا ہو، کے ساتھ ساتھ ارد گرد کے ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ محکمہ تعلیم میں ایسے بھی اساتذہ موجود ہیں جنہوں نے کبھی چاک یا بلیک بورڈ نہیں دیکھا، یعنی ان کی پوسٹنگ خاص الخاص اشخاص کے ساتھ دفتروں میں لگا دی گئی ہوتی ہیں ۔
ہر سماج میں معلم کا وقار بلند مانا جاتا ہے اور اسے قوم کا معمار اور اخلاق کا مینار تصّور کیا جاتا ہے لیکن یہ معلم ہی ہے جس نے اپنے کردار و گفتار سے اِس بلند پایہ وقار کو سماج میں کھو دیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی عظمت، عزت و تکریم اور رُتبے میں کمی محسوس ہونے لگی ہے ۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ معلم راقم کے لئے بھی محسن ثابت ہوا ۔ راقم الحروف کے ساتھ لوکل سطحی اسکول میں پنجم جماعت میں ایک واقع رونما ہوا،جو زندگی کو صحیح رُخ دے گیا ۔ استاد محترم نے چند طلباء کے سگریٹ نوشی کی شکایت پر سخت نوٹس لیا،اس بُرے فعل میں مبتلا ہم کئی دوستوں کو جماعت میں کھڑا کیا گیا ۔ سبھی سے الگ الگ تفتیش شروع کی گئی اور آخر کار استاد کو یہ بات ثابت ہو ہی گئی کہ ہم نے سگریٹ کے پھینکے ٹکڑوں سے سگریٹ نوشی کی طرف قدم ڈالنے شروع کر دئے ہیں ۔ اب سیزونکے یا نیخ لرونکے بوٹے (Stinging Nettle) کی گھاس لائی گئی، اس کے فوراً بعد ہمیں دو، دو دوستوں کی جوڑی بنا دی گئی اور ایک دوسرے کو اسی بوٹے سے مارنے کے لئے حکم صادر ہوا ۔ ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری جانب یہ درد دینے والی گھاس، اللہ اکبر ! ایسا لگتا تھا کہ جسم سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ۔
بالآخر کافی رونے دھونے کے بعد ہم سب نے مل کر استاد کے سامنے معافی طلب کی اور دوبارہ اس غلطی سے دور رہنے کے وعدہ کیا۔ اب یہاں استاد کی شفقت، درد اور بے انتہا محبت بھی دیکھیے ۔ آپ نے ٹھنڈا پانی، لیمن اور چینی منگوایا،اورہمیں میٹھے لیموپانی کے دو دو گلاس پلاتا رہا،جس کے سبب ہم نے رونا بند کیا، درد کو بھول بیٹھے اور غصّہ بھی چھوڑ دیا۔ یہاں استاد نے اس بات کا احساس دلا دیا کہ اُنہیںہم سے بے پناہ محبت ہے لیکن ہماری کی ہوئی غلطی نے اُنہیں ہمیں مارنے پہ مجبور کیا ۔ ورنہ ان کے دل میں ہمارے لئے والدین کی طرح انس موجود تھا۔ جولائی ۱۹۹۴ء کا وہ دن تھا کہ میرا معلم میرا محسن نکلا اور اس طرح میں نے سگریٹ کی طرف کبھی دوبارہ نہیں دیکھا ۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جہاںمعلم کو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا چاہئےوہیں طلبا کو بھی اپنے اساتذہ کا احترام و عزت کرنا چاہئے۔ایک معلم طلباء کے ساتھ والدین کی طرح مضبوط رشتہ استوار کرنا چاہیے، جو اُن کے متعلق ہمیشہ نیک خواہشات رکھتا ہو ، اُن کے مستقبل کی فکر لاحق ہو۔ معلم سماج میں مختلف مرحلوں پر لوگوں سے مل بیٹھ کر ان کے مسائل، ان کی پریشانیوں اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانا جانتا ہو، معلم تعلیمی اداروں کے احاطے سے باہر آ کر سماج کا ہمدرد اور خیر خواہ ہونے کا ثبوت دینا جانتاہو، وہ سماج میں تعلیمی، معاشی و اخلاقی ترقی کی ترغیب دینے کا ماہر ہو، وہ ماحول دوست شخصیت کا مالک ہو ،اور مثبت ومتاثر کن کردار ادا کرنا جانتا ہو،تو ایسے میںمعلم کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس کیوں نہیں مل سکتا؟۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ – 9858109109)