جموں کشمیر، نئی دلی اور مدھیہ پردیش میں 41مقامات پر تلاشیاں
سرینگر//جعلی بندوق لائسنس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (سی بی آئی) نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے سابق مشیر بصیر احمد خان کی سرینگر رہائش گاہ واقع بلبل باغ باغات پر چھاپہ مارا اور کئی گھنٹوں تک یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔ بصیر احمد خان کو ایک ہفتہ قبل ہی لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔سی بی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ جعلی بندوق لائسنس کیس کے سلسلے میں جموں کشمیر، نئی دلی اور مدھیہ پردیش میں 41مقامات پر تلاشیاں لیں جن میں14 سابق آئی اے ایس /کے اے ایس افسران (ضلع ترقیاتی کمشنر یا ضلع مجسٹریٹ) شامل ہیں ۔سی بی آئی نے کہا ہے کہ چھاپوں کے دوران2012سے 2016تک2لاکھ 78 ہزارسے زیادہ جعلی گن لائسنس اجراء کی گئیں۔سی بی آئی کے مطابق چھاپوں کے دوران لائسنس کی اجرائی سے متعلق کئی دستاویزات کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کے دفاتر میں کام کررہے کلرکوں،5ایجنٹوں یا درمیانہ داروں اور 10گن ڈیلرس کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ضبط شدہ دستاویزات میں لائسنس اجرا کرنے کے کاغذات،مالکان کے نام، بنک کھاتوں کی تفصیلات،فکسڈ ڈیپازٹ چیکیں، کاروباری لین دین کے دستاویزات،موبائل فون،پرانی کرنسی،لاکروں کی چابیاں، اور منقول و غیر منقول جائیداروں کی تفصیلات شامل ہیں۔جعلی گن لائسنس کیس کے سلسلے میں سی بی آئی نے جموں کشمیر سرکار کے کہنے پر رجسٹر شدہ دو ایف آئی آر کے تحت چھاپے مارے۔اس کیس کی تحقیقات پہلے ویجی لنس آرگنائزیشن کررہی تھی لیکن بعد میں یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کیا گیا۔