مینڈھر // سرحد ی ضلع مینڈھر کے بھٹہ دھوریاں جنگلاتی علاقے میں جمعہ کو9ویں روز ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اس دوران جنگجوئوں کی جانب سے جنگل میں زیر زمین بچھائی گئی 2بارودی سرنگیں بر آمد کر کے ناکارہ بنائی گئیں۔اس دوران سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ابھی بھی 2فوجی پورٹر، 4خواتین اور چار مرد ہیں جبکہ پہلے گرفتار کی گئی خاتون اور اسکے ایک بیٹے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔جمعہ کو46گھنٹے کے بعد صبح آٹھ بجے طرفین کے درمیان زوردار فائرنگ ہوئی لیکن اسکے بعد رک رک کر دن کے گیارہ بجے تک گولیاں کا تبادلہ ہوتا رہا۔فائرنگ تھم جانے کے بعد تلاشی کارروائی شروع کی گئی جس کے دوران جنگلاتی علاقے میں دو بیگوں میں چھپائی گئیں دو بارودی سرنگیں بر آمد کر کے انہیں ناکارہ بنایا گیا۔یہ دونوں سرنگیں ایک ہی جگہ پر نصب کی گئی تھیں۔ادھر سیکورٹی فورسز نے کئی روز قبل گرفتار ایک خاتون اور اسکے تینوں بیٹوں میں سے ایک بیٹے کو چھوڑ دیا ہے تاہم علاقے میں نیی 8گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ہیں جن میں بھٹہ دھوریاں کی 3اور اڑی مینڈھر کی ایک خاتون شامل ہیں۔ سرنکوٹ سب ڈویژن سے فوج کیساتھ منسلک 2پورٹروں کو بھی گرفتارکیا گیا ہے اورسبھی افراد سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔اسکے علاوہ 4مرد بھی فورسز کی حراست میں ہیں۔واضح رہے کہ بھٹہ دھوریاں میں عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک افسر سمیت 4فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔نار خاص جنگلوں میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان 11 اکتوبر سے جاری ان جھڑپوں میں اب تک دو جے سی اووز سمیت نو فوجی جوان جاں بحق ہوئے ہیں۔