راجوری +پونچھ //جموں وکشمیر کے دیگر حصوں کی ہی طرح خطہ پیر پنچال میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کے عین مطابق ہی خطہ میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سے ہی بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ۔پیر پنچال پہاڑیوں پر موسم کی پہلی برفباری ہوئی ۔دونوں سرحدی اضلاع میں بارش کے شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تھی جبکہ کئی دیگر علاقوں میں آنکھ مچولی جاری رہی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات درپیش رہی ۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ موسم کی خرابی کےساتھ ہی تباہ حال بجلی نظام بھی مفلوج ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے عام صارفین کو مشکلات درپیش رہتی ہیں ۔
راجوری ضلع میں جمعہ کی شام سے ہی بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کی گھاس اور فصلوں کی کٹائی کا عمل بھی متاثر ہو ا ۔تھنہ منڈی سمیت وادی درہال، کوٹرنکہ اور منجاکوٹ علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر رہی۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب میں اضلاع راجوری پونچھ کے تمام بالائی علاقوں پر برف باری کی شروعات ہوئی اور ضلع راجوری کے بدھل ، کوٹرنکہ ، کنڈی ، تھنہ منڈی ، درہال اور دہرہ کی گلی کے بالائی علاقوں میں برف باری ہوئی جبکہ ان اضلاع کے میدانی علاقوں میں ہلکے سے اوسط درجے کی بارشوں کا سلسلہ شام 4 بجے تک جاری رہا۔مکینوں نے بتایا کہ رات سے جاری بارش اور تیز رفتار ہواو¿ں کی وجہ سے اکثر مقامات پر بجلی کے کھمبے گر گئے اور تاریں ٹوٹ گئیں جس کی وجہ سے بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا اور بجلی ابھی بحال نہیں ہو سکی جس کی فوری مرمت کا کام جاری ہے۔ راجوری ضلع کے سب ڈویژن نوشہرہ اور سندر بنی میں بھی بارش کا سلسلہ شروع ہے جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کررہ گئی ۔کئی سرحدی علاقوں میں دن بھر بجلی غائب رہی ۔سرحدی ضلع پونچھ میں گزشتہ شب سے شروع ہونے والی برسات صبح تک جاری رہی جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔جمع اور سنیچر کی درمیانی شب پونچھ میں زبر دست بارش شروع ہوگئی جو صبح تک جاری رہی اس کے بعد پورے دن سیاہ گھنے بادل چھائے رہے اور ہلکی بونداباندی ہوتی رہی۔ موسم سرما کی پہلی بارش سے سردی کی شدت کی وجہ سے لوگوں کو گرم کپڑے پہننے پڑے ۔ سنیچر وار کو دن بھر وقفے وقفے سے بارش جاری رہیاس دوران ضلع کے بیشتر حصوں میں موسم سرد رہا ،کچھ مقامات پر لوگوں کو آگ جلا کر ان سے گرمی حاصل کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔
اُدھر ساوجیاں، لورن، اڑائی کے کچھ بالائی علاقوں میں برف گرنے کی بھی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔اس دوران کچھ مقامات پر گھاس اور مکی کی فصلیں بھی پڑی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کاشت کار پریشان ہورہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر موسم خشک نہ ہوا اور لگاتار بارش ہوئی تو ان کی گھاس اور مکی کی فصلی خراب بھی ہو سکتی ہیں۔مینڈھر سب ڈویژن کے اکثر علاقوں میں بارش کےساتھ ہی بجلی کی آنکھ مچولی بھی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔صارفین نے بتایا کہ جہاں بارش کی وجہ سے ان کو پریشانی کا سامنا کرناپڑا وہائیں بجلی کی عدم دستیابی نے خراب صورتحال میں مزید اضافہ کر دیا ۔تحصیل منڈی کے بالائی علاقوں میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سے تازہ برف باری جبکہ میدانی علاقوںمیں شدید بارش ہوئی ۔محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے سے ہی موسم خراب ہونے کی پیشنگوئی کی گئی تھی ۔دیگر اضلاع و علاقوں کی ہی طرح تحصیل منڈی کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی جبکہ میدانی علاقوں میں شدید بارش اگرچہ بعد دوپہر تحصیل کے کچھ حصوں میں ہلکی سی دھوپ لگی مگر بالائی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے ٹھنڈ میں شدید اضافہ ہوا جس سے عام لوگوں کو پریشانی اٹھانی پڑی۔تحصیل کے لورن ساوجیاں آڑائی اور چھلہ ڈھانگری میں تازہ برف باری ہوئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی ٹھپ ہو گئی ۔ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے فون پرکشمیر عظمی کو بتایا اگرچہ قدرت کی جانب سے اس برس موسم نے بہت جلد کروٹ لی اور برف باری ہوئی وہیں پر انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تحصیل کے بالائی علاقوں میں عوام کےلئے ہر طرح کی سہولت کو پیشگی مہیارکھیں تاکہ آنے والے وقت میں عوام کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ساوجیاں کے بالائی علاقہ نیڑیاں کے رہنے والے عبدل مجید نامی ایک شخص نے بتایا کہ برف باری کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ان کے علاقہ میں لوگوں نے گرم ملبوسات زیب تن کئے ۔لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بالائی علاقوں میں سردیوں سے قبل ہی تیل خاکی ،راشن و دیگران بنیادی سہولیات مہیا رکھی جائیں تاکہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں ۔