ڈوڈہ //دو روز قبل ڈوڈہ ٹھاٹھری شاہراہ پر پیش آئے سڑک حادثہ میں زخمی ہوئے دو مزید افراد گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے اور اس طرح سے اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 14 پہنچ گئی۔اطلاعات کے مطابق پرویز احمد (34)ولد خورشید احمد ساکنہ ٹھاٹھری بدھ کے روز منی بس حادثہ میں شدید زخمی ہوا تھا جسے ابتدائی طبی علاج کے بعد جی ایم سی ڈوڈہ سے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں بذریعہ ہیلی کاپٹر منتقل کیا تھا جہاں ہفتہ کے روز وہ دم توڑ بیٹھا۔بتایا جاتا ہے کہ مہلک نوجوان منی بس کا ڈرائیور تھا۔اسی طرح جی ایم سی جموں میںہی زیر علاج اس حادثہ میں زخمی ہونے والا ایک مسافرپچیس سالہ بابر حسین ولد اللہ داتا ساکن تھلیلا ٹھاٹھری زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے بالآخر زندگی کی جنگ ہار بیٹھا۔ اس طرح سے اس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد 14 پہنچ گئی ہے۔سی ایم او ڈوڈہ ڈاکٹر محمد یعقوب میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آج گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں زیر علاج زخمیوں میں سے 2 افراد نے دم توڑ دیا ہے اور اس طرح سے اس حادثہ میں مہلوکین کی تعداد 14 پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس حادثہ میں کل 15 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں 8 کو جی ایم سی ڈوڈہ اور 7 کو گورنمنٹ میڈیکل جموں منتقل کیا گیا تھا جس میں ایک خاتون سمیت مزید 3 افراد فوت ہوئے اور اب جی ایم سی جموں میں صرف4 مریض زیر علاج ہیں۔
اے ڈی سی تحقیقاتی آفیسر مقرر
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //صوبائی کمشنر جموں نے اے ڈی سی ڈوڈہ کو ٹھاٹھری بٹوت قومی شاہراہ پر ہوئے منی بس حادثہ کے لئے تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اے ڈی سی ڈوڈہ نے حادثاتی والے آس پاس کے لوگوں سے ایک ہفتہ کے اندر مذکورہ دفتر میں اپنے بیانات قلمبند کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر سیول سوسائٹی نے صوبائی کمشنر کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ضلع میں سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔