نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی کے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے اعلان کا حکمراں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے خیرمقدم کیا ہے ۔ جب کہ کانگریس اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے ان قوانین کی مخالفت کررہے کسانوں کو ان کی تحریک کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔بی جے پی کسان مورچہ کے صدر راج کمار چاہر نے کہا کہ مودی نے یقینی طورپر کسانوں کے مفادات کو دیکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ قدم اٹھا کر ایک ماہر سیاست دان ہونے کا مظاہرہ کیا ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جگت پرکاش نڈا نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پورے ملک میں بھائی چارے کی فضا پیدا کرے گا۔اتر پردیش کانگریس کی انچارج و جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ کسانوں پر ایک سال کے مظالم اور جبر کے بعد مودی حکومت کو حالیہ ضمنی انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد کسانوں کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے ۔کانگریس شعبہ موصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک کے دوران 700 سے زائد کسانوں نے اپنی شہادتیں دیں۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی-ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ ان زرعی قوانین کی واپسی کا سارا کریڈٹ کسانوں کو جاتا ہے ۔ انہوں نے تینوں قوانین کا دفاع کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ قوانین ‘کالے قوانین’ ہیں۔تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور دراوڑ منیترکشگم (ڈی ایم کے ) کے صدر ایم کے اسٹالن سمیت مختلف رہنماوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کسانوں کے پرامن احتجاج کو ان کی جیت قرار دیا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ اتر پردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شکست خوردگی کے خوف سے مرکزی حکومت نے مجبوری میں یہ قدم اٹھایاہے ۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ انتخابات میں شکست کے خوف سے قوانین واپس لینے والی حکومت سے کسانوں کو ہوشیار رہنا ہوگا۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ الیکشن کے بعد وہ ایک بار پھر ان قوانین کو کسانوں پر مسلط نہ کرے ۔راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا کہ زراعت کے تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان جمہوریت کی جیت اور مودی حکومت کے تکبر کی شکست ہے ۔