سرینگر //کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے جمعرات کو ’’European Literary Genres اور کشمیری زبان‘‘ کے موضوع پر دو روزہ سمینار کا افتتاح کیا۔ اس قومی سطح کے سمینار کا انعقاد شعبہ کشمیری نے کیا تھا ۔اپنے صدارتی خطاب میںپروفیسر طلعت نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بیان کردہ زور کے پس منظر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زبان سیکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری ادب کو فروغ دینے اور اسے مقبول بنانے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر طلعت نے کہا کہ کشمیری یونیورسٹی کا شعبہ کشمیری ایک فلیگ شپ شعبہ ہے اور اسے تمام طرح کی سہولیات فراہم کرنے کی تمام کوششیں کی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ شعبہ میں ایک ٹرانسلیشن سنٹر کا قیام یونیورسٹی کے زیر غور ہے۔انہوں نے نوجوان طلباء اور اسکالروں پر زور دیا کہ وہ کشمیری ادب کو پڑھیں اور کشمیری زبان میں بھی لکھیں تاکہ اس کی زیادہ تر ترویج ہو۔کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار اے میر جو کہ وہاں مہمان خصوصی تھے، نے یونیورسٹی انتظامیہ کو کشمیری زبان و ادب کے فروغ کیلئے کی جانے والی تمام کوششوں میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے کشمیری زبان و ادب کے مختلف پہلوؤں پر سالانہ سمینار منعقد کرنے کی روایت کو زندہ رکھنے پر محکمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا’’میں اس سیمینار میں نوجوان طلبہ کو کشمیری زبان و ادب کے باشعور حامیوں اور فروغ دینے والوں کے طور پر حصہ لیتے ہوئے دیکھتا ہوں۔‘‘سابق سربراہ شعبہ کشمیر پروفیسر شفیع نے کلیدی خطبہ پیش کیاجس میں European Literary Genres کے زمروں اور کنونشنز اور کشمیری ادب میں ان کے اطلاق پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصناف کشمیری سمیت دنیا کے ادباء تک پہنچی ہیں ۔حبہ خاتون سنٹر فار کشمیری لینگویج اینڈ لٹریچر IUST اونتی پورہ کے چیئرمین پروفیسر مجروح رشید نے اپنے خصوصی خطاب میں کشمیری زبان و ادب کی ترقی اور معیاری تحقیق کے فروغ کے لیے شعبہ کشمیر کے کردار پر روشنی ڈالی۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیر کی سربراہ پروفیسر مفوزہ جان نے دو روزہ سمینار کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تحقیقی شعبوں میں شعبہ کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔افتتاحی سیشن کی کارروائی ڈاکٹر شفقت الطاف نے انجام دی جس کے دوران معروف کشمیری ادیب اور فوکلورسٹ ناجی منور کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جن کا حال ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔وائس چانسلر نے شعبہ کے ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جریدے ’’انہار‘‘ کا 42 واں ایڈیشن بھی جاری کیا۔ پروفیسر طلعت کے علاوہ شعبہ نے پروفیسر شوق، پروفیسر مجروح اور ڈاکٹر شفقت الطاف کو بھی اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔افتتاحی اجلاس میں جن نامور سکالروں نے شرکت کی ان میں پروفیسر محی الدین سنگمی، پروفیسر گلشن مجید، پروفیسر جی این خاکی، پروفیسر ارشاد ضیاء، ظریف احمد ظریف، مشتاق مہدی، شمشاد کرالواری، ایم وائی مشور، محمد معروف شاہ اور عابد احمد شامل تھے۔ پہلے ٹیکنیکل سیشن کی صدارت پروفیسر گلشن مجید نے کی جبکہ مشتاق مہدی اور ظریف احمد ظریف نے بطور مبصر شرکت کی۔ پروفیسر فاروق فیاض، رنجور تلگامی، معروف شاہ اور شمشاد کرالواری نے اپنے مقالے پیش کیے۔