کتابیں کائنات کو روح، دماغ کو پنکھ ، تخیل کو پرواز اور ہر چیز کو زندگی دیتی ہیں. پڑھتے وقت ہمیں کرداروں کی ظاہری شکل سے پیار نہیں ہوتا۔ ہم ان کے الفاظ، ان کے خیالات اور ان کے دلوں سے پیار کرتے ہیں۔ ہم ان کی روح سے پیار کرتے ہیں. تمام اچھی کتابوں کا مطالعہ پچھلی صدیوں کے بہترین انسانوں کے ساتھ گفتگو کے مترادف ہے۔ کتاب سے محبت رومانوی محبت کی طرح ہے۔ جب ہم واقعی ایک عظیم کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں تو بوجھ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ پرواہ چھوٹی لگتی ہے۔
جدید دور میں ہمارے علم کو تقویت دینے کے بہت سے وسائل موجود ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کتابوں کی لازوال اہمیت اور افادیت مستقل اور بڑھتی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک میں کتابیں پڑھنے کا رجحان کم نہیں ہوا۔ اکثر گھروں میں کتابوں کا ذخیرہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کتابیں ان کی ضروریات زندگی میں شامل ہیں ۔
کتابوں کو ’’عجائبات کی دنیا‘‘ کہا جاتا ہے۔جب ہم اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم خیالی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں اور نئی چیزوں کو پڑھنے اور سیکھنے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوںمیں پڑھنے کی عادت ہے، وہ کتابوں کو کافی دلکش محسوس کرتے ہیں۔ ایک شوقین اور پُر جوش قاری لفظی طور پر دُنیا کی کسی بھی چیز پر کتابوں کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ ایسے شخص کے لیے کتابوں کی قدر و قیمت لوگوں اور ان کے خیالات کے برابر نہیں۔ پڑھنے میں دلکشی اور طاقت ہے کہ وہ ہمیں خیالی جگہوں کی مہمات پر لے جائے اور ہمیں ان چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتےہیں جو بصورت دیگر ہمارے ذہن پر کبھی نہیں اُترتیں۔’’جب ہم کتابیں جمع کرتے ہیں تو جیسے خوشیاں جمع کر رہے ہوتے ہیں‘‘ ہر کتاب ایک جادوئی ڈبہ ہے، جس کے لمس سے ہم خزانے کو کھول سکتے ہیں!
کتابیں ایک عام انسان کے لیے ضروری اور بے ہد اہمیت کے حامل ہیں جو قارئین کو علم ومعلومات کے حصول میں مدد دیتی ہیں، کتابیں اس شمع کی مانند ہیں جو انسانی ضمیر کو روشن کرتی ہیں، جب تک انسان کا دل و دماغ اچھے اور مفید کاموں میں مشغول نہیں ہوگا، اس کا میلان برائی اور معصیت کی طرف رہے گا۔ انسان تب ہی سچا انسان بن سکتا ہے جب وہ اپنے وقت پر نظر رکھے۔ کتابیں پڑھنا انسان کے وقت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں کتابیں علم و آگہی کی بہترین سیڑھی ہیں، تنہائی کی لمبی زندگی کی بہترین ساتھی ہیں، ناہموار راستوں میں مہربان ساتھی ہیں۔ زندگی میں اضطراب اور بے سکونی کا علاج ہیں۔اکثر کتابوں کے مطالعہ انسانی وسوسے اور غم کو دور ہوجاتے ہیں۔ دینی کتب کا مطالعہ ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔ کتابوں کی دوستی انسانی روح کو تازگی بخشتی ہے اور فطرت میں خوشی لاتی ہے، انسانی ذہن کو پروان چڑھاتی ہے، تہذیب و ثقافت کے عظیم نمونے کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب معلوم ہوتے ہیں اور تاریخی کتابوں کے مطالعہ سے ہم تاریخ کی چنیدہ شخصیات سے ملتے ہیں اور ان کے تجربات سے مستفید ہونے کا بھی موقع ملتا ہے۔’’کتابوں کے بغیر کمرہ روح کے بغیر جسم کی طرح ہے۔‘‘
کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید نے شروع ہی سے اپنا تعارف "الکتاب" کے نام سے کرایا۔ قرآن کا پہلا استعارہ ’’اقراء‘‘ ہے۔ دوسری بہت سی حکمتوں کے ساتھ ساتھ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ کتاب سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید کا نام ’’الکتاب‘‘ رکھا جس کا مطلب ہے علم کی طرف بیداری کی علامت۔امریکہ کی یونیورسٹی آف میڈیکل سنٹر کی تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد تحقیقی یا ذہنی سرگرمیوں جیسے پڑھنے وغیرہ میں وقت گزارتے ہیں ،ان میں نہ پڑھنے والوں کے مقابلے بڑھاپے یا درمیانی عمر میں ذہنی تنزلی کی شرح 32 فیصد کم ہوتی ہے۔ اسی طرح الزائمر کا مرض ان لوگوں میں ڈھائی گنا کم پایا جاتا ہے جو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں یا ایسی سرگرمیوں میں خود کو مشغول رکھتے ہیں۔ہر روز پڑھیں، وہ کچھ جو کوئی اور نہیں پڑھ رہا ہے۔ سوچیں، ہر روز، وہ کچھ جو کوئی نہیں سوچ رہا ہے۔ ہر روز ایسا کریں، جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔ کتابیں کھلتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں ہم گم ہو جاتے ہیں، خوش ہوتے ہیں ،جہاں ہم کبھی نہیں گئے ہوتے ہیںوہاں پہنچ جاتےہیں ۔ ایسی آوازیں سنیں جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔ دروازے پر دروازے سے دنیا تک پہنچیں۔تصورات سے باہر بند چیزوں کی غیر متوقع چابیاں تلاش کریں۔ سچی کتابیں آپ کو ہمت دلائیں گی، راز کی سرگوشیاں کریں گی، ہو سکتا ہے کہ آپ کو ان ضرورتوں کے لیے اداسی کے اس پار چیخیں جو کسی کتاب کے پڑھنے کی خواہش رکھتے ہوں۔جب آپ کتابیں کھولتے ہیں آپ خوش ہوتےہیں،سچی کتابیں مہم جوئی کرتی ہے ، قارئین کو ہمت دیتی ہے ۔تحریری صلاحیتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ آپ کی یادداشت اور توجہ کو بہتر بناتی ہیں۔ آپ کے تخیل کو بڑھاتی ہیں۔کتاب آپ کے ذخیرہ الفاظ کو بڑھاتا ہے۔آپ کے علم کو بڑھاتا ہے۔ آپ کے دماغ کو متحرک کرتا ہے۔ آپ کے مزاج کو بڑھاتا ہے۔ ہمدردی کو گہرا کرتا ہے۔ آپ کو آرام کرنے میں مدد کرتا ہےاور تناؤ کو کم کرتا ہے۔پڑھتے وقت، ہم کرداروں کی ظاہری شکل سے پیار نہیں کرتے۔ ہم ان کے الفاظ، ان کے خیالات اور ان کے دلوں سے پیار کرتے ہیں، ہم ان کی روح سے پیار کرتے ہیں۔جب بھی میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ ’’میں نہیں پڑھتا‘‘ تو میں اداس ہو جاتا ہوں، یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ ’’میں نہیں سیکھتا‘‘یا ’’میں ہنستا نہیں ہوں‘‘یا ’’میں زندہ نہیں رہتا‘‘۔
امریکہ، جاپان، چین، لندن، پیرس، کینیڈا، آسٹریلیا، اٹلی اور فرانس ایسے ممالک ہیں، جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت کی جاتی ہے ۔ دنیا میں 28 سے زائد ممالک ایسے ہیں، جہاں کتابیں سب سے زیادہ فروخت کی جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ممالک میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں ہے۔ علم و ادب سے دوری نے مسلمانوں کی عزتیں اور تخت چھین لئے۔
سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
( ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی) Instagram ID Ubi9305 [email protected]