اقوام متحدہ کے چارٹر برائے انسانی حقوق کی رو سے دنیا بھر کے انسانوں کو ہر طرح کے حقوق جن میں جینے کا حق، مساوات کا حق، اظہار رائے کی آزادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق جن میں روزگار، سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، ترقی اور حق خود ارادیت اور دیگر حقوق بلا امتیاز برابری کی سطح پر فراہم کرنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو یہ تمام حقوق نہ صرف فراہم کریں بلکہ انہیں مقدم جانیں۔ لیکن اس کے باوجود آج دنیا کے بیشتر ممالک میں کہیں رنگ ونسل کے نام پر، کہیںذات پات کے نام پر، توکہیں مذہب کے نام پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اپنے قانون پر عمل درآمد کروانے میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی کمزور ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے زیر اہتمام گزشتہ72 برسوں سے انسانی حقوق کا عالمی دن منارہے ہیں لیکن اس کے باوجود نامعلوم کیا مجبوریاں ہیں کہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی عروج پاتے رہی، کمزوروں کی جان ومال سے کھیلا گیا بالخصوص خواتین کی عصمت کی پامالی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ آج بھی ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے سب سے بڑے علمبردار ملک امریکہ میں انسانی حقوق کے معاملے میں پستی کا یہ عالم ہے کہ کالوں کے بچوں کے علیحدہ اسکول، علیحدہ بسیں، اسپتال، ہوٹل، کلب اور آبادیاں تک علیحدہ ہیں۔ امریکہ ہی کیا مغربی یورپ کے کسی بھی ملک میں کالی رنگت والوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ہمارا عظیم ملک بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ سیکولر اسٹیٹ ہونے کے باوجود، یہاں ذات پات کے نام پر انسانوں پر ظلم وجبرکا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جو اعلیٰ ذات کے گھر انے میں پیدا ہوگیا وہ چھوٹی ذات والوں پر ہر طرح ظلم روا رکھ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 10دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اب دنیا کی موجودہ صورتحال اور سسکتی بلکتی انسانوں کی مظلوم و بھوکی بستیوں پر رحم کھایا جاکر 10ڈسمبر1948ء کی اہمیت کو اجاگرتے ہوئے اب کی بار کے یوم پر ’’ تجدید عہد‘ ‘ کیا جاکر انسانی حقوق کی پامالی سے دنیا کو روکا جانا انتہائی ضروری ہے، ورنہ تہذیب کے علمبرداروں کیلئے باعث شرم اور نوع انسانی کیلئے ایک داغ ہے۔
اس سلسلہ میں مشہور قلمکار جناب رانا اعجاز حسین چوہان نے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اپنی بات یوںرکھی: ’’ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غور کریں کہ کیا اس سال بھی انسانی حقوق کے عالمی دن پر محض تقاریر ہوں گی، پرجوش نعرے لگیںگے، اجتماعات منعقد ہوں گے، ریلیاں نکالی جائیں گی، دور جاہلیت کا مقابلہ موجودہ جدید دور کے ساتھ کیاجائے گا، لیکن ہوگا وہی کچھ جو کچھ پہلے ہوتا رہاہے…؟ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے محض ایک دن انسانی حقوق کیلئے مناکر باقی تین سو چونسٹھ دن انسانی حقوق کی پامالی…! (اقتباس ختم)
یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ اہل مغرب انسانی حقوق کے تصور کو اور اس کی ارتقائی تاریخ کو پانچویں صدی قبل مسیح کے یونان سے جوڑتے ہیں۔
پھر آگے دیکھئے کہ اپنی سیاسی فکر کا رشتہ پانچویں صدی عیسوی کے زوال پذیر روم سے یہ جوڑدیتے ہیں، یعنی ایک ہی چھلانگ میں گیارہویں صدی میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح چھٹی صدی عیسوی سے دسویں صدی عیسوی کا تقریباً پانچ سوسالہ لمبا عرصہ اور عہد کا ذکر ان کی تاریخ کے صفحات سے غائب ہیں۔ آخر ایسا کیوں؟ شاید اس لئے کہ یہ اسلام کا بہترین عہد ہے۔
غرض یہ کہ برطانیہ ہویا امریکہ یا تہذیب کے دیگر دعویدار وعلمبردار ہوں، ان کے اپنے اپنے خودساختہ قوانین یا انسانی حقوق کے نام نہاد ضوابط و دساتیر اپنے شہریوں کو مطمئن نہ کرسکے، کمزوروں پر ظلم ہوتا رہا اور ردعمل کے طور پر مظلوم چیخ و پکارکرتے رہے، حقیقت یہ ہے کہ 17ویں صدی سے پہلے اہل مغرب کے یہاں حقوق انسانی اور حقوق شہریت کا کوئی تصور تک نہ تھا۔ 10 ڈسمبر1948ء کے منشور انسانی حقوق کے متعلق، جناب محمد صلاح الدین صاحب مرحوم ایڈیٹر جسارت نے لکھا ہے کہ ’’قومی سطح پر بنیادی حقوق کے تحفظ میں دستور کی ناکامی کے بعد اب یہ دیکھئے کہ اس سلسلہ میں بین الاقوامی سطح پر جو انتظامات کئے گئے ہیں وہ اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی نے 10 دسمبر 1947ء کو انسانی حقوق سے متعلق جس عالمی منشور کا اعلان کیاتھا وہ گویا اس ضمن میں انسانی کوششوں کی معراج ہے۔ یہ منشور30دفعات پر مشتمل ہے جو حسب ذیل ہیں:
(1) تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وقار وحقوق کے معاملہ میں مساوی الحیثیت ہیں۔
(2) ہرفرد نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا دوسرے نظریات، قومی وسماجی حیثیت املاک، پیدائش یا کسی اور حیثیت اور کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر اس منشور میں صراحت کردہ تمام حقوق اور آزادیوں کا مستحق ہوگا۔
(3) ہرفرد کو زندہ رہنے، آزاد رہنے اور اپنی جان کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے۔
(4) کسی بھی شخص کو نہ غلام بنایا جائے گا اور نہ محکوم رکھا جائے گا۔ غلامی اور غلاموں کی تجارت کی ہر شکل ممنوع ہوگی۔
(5) کسی بھی شخص کو تشدد وظلم وستم، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا جاسکے گا۔
(6) ہرفرد کو قانون کی نظر میں بحیثیت فرد ایک تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہوگی۔
(7) قانون کی نگاہ میں سب کی حیثیت مساوی ہوگی اور انہیں کسی امتیاز کے بغیر یکساں قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
(8) ہرفرد کو آئین یا قانون کے ذریعہ ملنے والے بنیادی حقوق کے منافی قوانین کے خلاف بااختیار قومی ٹربیونل کے ذریعہ موثر چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
(9) کسی شخص کو بلاجواز گرفتاری، نظر بندی یا جلاوطنی کی سزا نہیں دی جاسکے گی۔
(10) ہر شخص کو اپنے بنیادی حقوق وفرائض کے تعین یا اپنے خلاف عائد کردہ الزامات سے برات کیلئے آزاد وخود مختار اور غیر جانبدار ٹربیونل میںکھلی اور منصفانہ سماعت کا یکساں حق حاصل ہوگا۔
(11) (الف) کسی تعزیری جرم کی صورت میں ہر فرد کو اس وقت تک بے قصور سمجھے جانے کا حق حاصل ہوگا جب تک ایسی کھلی عدالت میں اسے قانون کے مطابق مجرم ثابت نہ کردیا جائے جہاں اسے اپنی صفائی کی تمام ضمانتیں فراہم کی گئی ہوں۔
(ب)کسی فرد کو کسی ایسے ارادی یا غیر ارادی فعل کی بناء پر قابل تعزیر جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا جو فی الواقع قومی یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل تعزیر نہ ہو۔
(12) کسی فرد کی خلوت، گھر یلو زندگی، خاندانی امور اور خط وکتابت میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور نہ اس کی عزت وآبروپر حملہ کیا جائے گا۔
(13) (الف) ہر فرد کو اپنی حدود ریاست میں نقل وحرکت اوررہائش کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
(ب) ہرفرد کو بیرون ملک جانے اور اپنے ملک واپس آنے کا حق حاصل ہوگا۔
(14) (الف) ہر فرد کو ظلم وتشدد سے بچنے کیلئے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔
(ب) غیر سیاسی جرائم یا اقوام متحدہ کے اصول ومقاصد کے منافی اعمال کے سلسلہ میں مقدمات سے بچنے کیلئے یہ حق قابل استعمال نہیں ہوگا۔
(15) (الف) ہر فرد کو شہریت حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
(ب) کسی فرد کو بلاجواز اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ شہریت کی تبدیلی کاحق سلب کیاجائے گا۔
مضمون جاری ہے
باقی آئندہ منگلوار شمار ے میںملاخطہ کیجئے
(سینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فو ن نمبر:9849099228)