جہاں ایک طرف کشمیر کی خوبصورتی نے ہر زبان کے ادیب کو اپنی خوبصورتی سے متاثر کیا اور انہوں نے اپنی غزلوں،نظموں،افسانوں،ناولوں وغیرہ میں اس جنت بے نظیر کا نقشہ کھینچا۔ لیکن وہیں دوسری طرف نویں کی دہائی سے چلے آرہے کشمیر کے پر آشوب حالات ادیبوں کے لیے زیر بحث رہے موجودہ دور میں ہر ایک کہانی کار کسی نہ کسی طرح ان حالات کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ راجہ یوسف کے افسانوی مجموعے نقش فریادی میں بھی بہت سارے ایسے افسانے ہیں جو کشمیر کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں، راجہ یوسف خود ایک کشمیری ہیں اسی لیے ان کی کہانیوں میں کشمیر کا درد کچھ زیادہ ہی چھلکتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے بہت قریب سے ان حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اُن کے اِن افسانوں میں خاص کر’’چیل چنار اور چوزے‘‘،’’سبیل‘‘،’’قرعہ فال‘‘، ’’خواب گراں‘‘، ’’پلکوں میں چھپے خواب ‘‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اگرچہ افسانہ چیل چنار اور چوزے کا عنوان دل کو چھو لیتا ہے۔ لیکن افسانے کے مطالعہ کے بعد دل میں ایک خلش سی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ شاید اس لیے کیونکہ راجہ یوسف نے افسانے میں کشمیر کے درد کو نچوڑ کر قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک علامتی نوعیت کا افسانہ ہے۔ یہ یہاں کے ان نوجوانوں کی داستان ہے جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جیسے وہ جوزے جو پر نکلنے سے پہلے ہی چیل کے شکار ہو جاتے ہیں۔ یہاں کے شرپسند انسان چیل کا کردار نبھا رہے ہیں جو اپنے مطلب اور کسی لالچ کے لیے انہیں نشانہ بناتے ہیں اور چنار وادی کشمیر ہے جہاں یہ چیلیں کھلے عام اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔
افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’ایک عرصے سے سارا شہر چیلوں کا اسیر تھا۔ یہ چیل اب عام جیسی نہیں لگ رہی تھیں۔ پتہ نہیں کس نے اور کن سازشوں کے تحت ان کو آدم خور بنا دیا گیا تھا۔ اب چوزے، چرند پرند، انسان، سب ان کے شکار تھے۔ شہر کی مکین ان کے سامنے خود کو بے بس اور لاچار سمجھ رہے تھے۔ پورے شہر پر خوف اور مایوسی کا سایہ چھایا ہوا تھا۔ چیلیں چنار سے اتر آتی تھیں اور کسی بھی ذی روح پر جھپٹا مار کر چنار کی گھنی شاخوں میں چھپ جاتی تھیں اور نوکیلے پنجوں سے چیرپھاڑ شروع کر دیتی تھیں‘‘۔
''سبیل'' راجہ یوسف کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے.یہ افسانہ جذباتی نوعیت کا ہے۔اس افسانے کا اسٹائل باقی افسانوں سے تھوڑا مختلف ہے۔ افسانے کا پہلا اور آخری حصہ اس کہانی کی جان ہے۔ مصنف نے کہانی کے پہلے اور آخری حصے میں ساری کہانی کا مفہوم پوشیدہ رکھا ہے۔ کہانی میں سرتاج نامی کردار کشمیر کے حالاتوں کی زد میں آکر اپنے گھر کا روزگار چلانے کے ذریعے کو اپنی مجبوری کے نام کر دیتا ہے۔ افسانے سے اقتباس:
’’آج رات دیر گئے جب ماں اور بچے سو گئے،سرتاج نے سارہ کو ساتھ لیا،اور دونوں تبیلے میں راکا کے پاس پہنچ گئے۔ گھوڑے نے مالک اور مالکن کو آتے دیکھا تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ ہنہنایا،لیکن اس کے منہ سے نحیف آواز نکل رہی تھی۔ راکا بہت زیادہ لاغر اور کمزور ہوچکا تھا۔ سرتاج نے بڑے دکھ کے ساتھ اس کی گردن پر ہاتھ پھیرا تو گھوڑے نے مستی سے سر اوپر اٹھایا اور پیار سے تھوتھنی سرتاج کے کاندھے پر رکھ دی۔ناسرتاج نا۔۔۔ میرا راکا نہ لے جا۔۔۔ میرا بیٹا میرا سہارا نہ لے جا۔۔۔!
میں مجبور ہوں سارہ، میں مجبور ہوں۔ بچوں کی بھوک مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ مجھ سے تیری اداس آنکھوں کی ویرانی اور ماں کے سوکھے ہونٹوں پر بھوک سے جمی کایا دیکھی نہیں جاتی۔ راکامیرا گھوڑا نہیں میرا بیٹا ہے، میرا بڑا بیٹا، میرا سہارا، پر میں کیا کروں۔ تم اسے میری خود غرضی کہہ لو لیکن مجھے میرے بچوں کی جان راکا سے زیادہ پیاری ہے اور تم لوگوں کی خاطر اگر مجھے اپنی جان بھی بیچنی پڑے تو میں وہ بھی کر لوں گا۔ راکا ہمارا آخری سہارا ہے اور جاتے جاتے بھی یہ ہمیں سہارا دے کر ہی تو جا رہا ہے۔''
عورت کا سرمایہ ایک مرد ہوتا ہے جب وہ اس کی پناہ میں ہو اور وہ پناہ اور زیادہ مضبوط تب ہو جاتی ہے، جب ان کا پریوار بڑھنے لگتا ہے۔لیکن کشمیر واحد بستی ہے ،جہاں کی عورت کو اپنے سر کے سایے اور مرد کی پناہ اور پریوار کی مضبوطی کو ہاتھوں کی مہندی کا رنگ فیکے ہونے سے پہلے ہی مٹی میں دفن کرتے دیکھا گیا ہے ۔نقش فریادی میں شامل افسانہ ''خواب گراں'' بھی ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کے لب سل گئے،جس کے ارمان ڈوب گئے،جس کا مستقبل ویران ہوگیا،جس کی امیدیں خاک ہو گئیں۔جوبس اب پرانی مگر بہت قلیل یادوں کو کسی ندی کے کنارے پر پانی کے عکس میں تلاش کرتی ہر آنے جانے والے کو بس ایک ٹکٹ دیکھتی رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کی زندگی میں آنے والی نئی خوشیاںکچھ لمحے ساتھ دے کر بے وفا ہوگیں۔ ارمانوں کی سیج سجانے والا اس کا شوہر کشمیر کے برُے حالات کی نظر ہوگیا اور پھر اس کی اولاد جو اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے چلتے جوانی کی دہلیز پار کرنے سے پہلے ہی اپنی ماں کے خواب اندھیروں کی نظر کر گیا۔ افسانہ خواب گراں سے ایک اقتباس :
’’ماں اپنا خیال رکھنا….. ماں مجھے واقعی بہت دکھ ہے۔میں آپ کا زیادہ ساتھ نہ دے سکا،ماں میں اپنے ابو کے پاس جا رہا ہوں،ماں ابو کو تیری ساری باتیں،تیرے سارے دکھ ،سارے درد بتا دوں گا… ماں میں اسے بتا دوں گا۔میری ماں آپ کو بہت مس کرتی ہے… ماں،میں اسے بتا دوں گا میری ماں آج بھی روز چشمے پر جاتی ہے اور وہاں گھنٹوں تیری یاد میں آنسو بہاتی رہتی ہے۔میری ماں آپ کو قریب سے محسوس کرنے کے لئے مجھے اپنے قریب رکھنا چاہتی ہے۔ وہ مجھ میں آپ کا عکس تلاشتی رہتی ہے۔ میری ماں۔۔۔ میں اسے بتا دوں گا میری ماں میرے بغیر نہیں جی پائے گی۔ میری ماں نے سارے جہاں سے آپ کے بعد مجھے چن لیا ہے۔ لیکن میں آپ کے چنے راستے کا شیدائی ہوں۔میں نے آپ کا راستہ چن لیا۔‘‘
یہ داستان صرف ایک ماں کی نہیں ہے بلکہ یہ ہر اس کشمیری کی داستان ہے، جس نے ان پُر تشدد حالات سے جو زخم کھائے، وہ وقت نے کبھی بھرے ہی نہیں۔ وہ کونسا دن نہیں جب ایک ماں، ایک باپ، اک بیوی، ایک بہن، ایک بھائی اپنی آنکھوں کے سامنے کسی اپنے کو مٹی کے حوالے نہیں کرتے۔ چاہے وہ بندوق سے نکلنے والی گولی ہو یا بھیڑ میں مسکراتے چہروں کے بیچ ہونے والے دھماکے ہوں، ہر طرف ہے تو کشمیر کا ہی لہو۔ نقش فریادی میں شامل اسی نوعیت کا ایک اور افسانہ'' پلکوں میں چھپے خواب'' میں سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو :۔
‘‘میں کچھ دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔میں نے بس اتنا دیکھا،ہوا میں دھول کے ساتھ ساتھ انسانی اعضاہ بھی تیر رہے تھے۔ ان میں وہ سب معصوم چہرے بھی تھے جن کی کھلی آنکھوں میں تشویش کے سائے لہرا اٹھے تھے۔ ایک چہرہ راجو کا بھی تھا جس کی آنکھوں میں وہ سارے خواب سمٹ کر یاس اور ناامیدی میں ڈھل چکے تھے۔ جن کو وہ اپنی ذہانت اور عزم سے پورا کرنا چاہتا تھا۔ زمین پر آتے آتے وہ اداس آنکھیں بند ہو چکی تھیں کہ کھلی رہ گئی تھیں، مجھے نہیں معلوم۔‘‘
افسانہ آسودہ حال موجودہ دور کے اہم مسا?ل کی عکاسی کرتا نظر آ رہا ہے، جہاں ایک طرف سائنس کی بدولت سے انسان زمین سے آسمان تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن وہیں دوسری طرف انسان کو برائی کے گہرے کھڈے میں ڈال دیا ہے۔ جہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب مرد آنکھیں سیکنے اور تن کی پیاس بجھانے بازار حسن اور کوٹھے پہ بجنے والے تبلوں اور گھنگروں کی آوازوں کے پیچھے پیچھے اپنی پاکدامنی کا جنازہ نکالتا تھا۔ لیکن وقت نے کتنی ترقی کر لی ہے ،زمانہ پہلے سے بہت بدل چکا ہے ،خاص کرکے انٹرنیٹ اور موبائل فون نے انسان کو تبلوں اور گھنگروں کا غلام نہیں رکھا بلکہ عیاشی کے سارے شغل اب اس کے جیب میں ہی ہے۔
افسانے سے اقتباس :
’’تف ہے۔۔۔ آدمی کو ایسا کیا نیم البدل ملا ہے۔۔ جو یہ بازار حسن، کے گھنگرو اور تبلے سے اتنا بیزار ہو گیا ہے۔بوڑھی اماں شاید اس بات سے بے خبر لگتی تھی کہ آج کا انسان آسودہ حال ہو چکا ہے عیاشی کے سارے شغل اب اس کے چارٹ بکس میں محفوظ ہیں اور دوری صرف ایک کلک۔۔۔''
نقش فریادی میں راجہ یوسف نے افسانوں کے علاوہ افسانچے بھی شامل کیے ہیں۔ان افسانچوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں موجودہ دور کے مختلف موضوعات کو بڑی سنجیدگی سے پرویا گیا ہے۔یہ افسانچے گھر گھر کی کہانیاں ہیں اور علامتی انداز سے بہت دور ہیں اسی لیے قاری ان سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس افسانوی مجموعہ میں تقریبا تیس افسانچے شامل ہیں ،جن پر اس مضمون میں تفصیلی بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن کچھ ایک افسانچہ کا نام ضرور لینا چاہوں گا جو اس افسانوی مجموعہ میں اپنی الگ پہچان رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں ان میں دل بدل، اولڈ ایج ہوم، انسانیت، بیٹی نہیں چاہیے، بوُ، کرونا، توکل، ہمزاد وغیرہ شامل ہیں۔
رابطہ۔9906700711