ہم اپنی زندگی میں چیزوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر اہمیت دیتے ہیں۔ کبھی دین و مذہب کی وجہ سے، کبھی قوم وملت کی وجہ سے، کبھی سماج اور معاشرے کی وجہ سے،کبھی قیمتی ہونے کی وجہ سے اور کبھی اس وجہ سے کہ پھر کبھی دوبارہ نہیں ملنے والی مگر یہ تمام وجوہات بیک وقت اگر کسی چیز میں پائی جارہی ہیں تو وہ ہے وقت۔
وقت ایک ایسا مسافر ہے جو دنیا کی ہر شیٔ سے بے پرواہ ہو کر اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ نہ تو بادشاہوں اور حکمرانوں کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی فقراء ومساکین کی آہ و فغاں پر کان دھرتا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں نے وقت کو اپنا تابع و فرمانبردار بنانے کی کوششیں کیں، مگر ناکام و نامراد رہے۔ اللہ تعالی نے اس کے اندر ایک ایسی طاقت رکھی ہے کہ ہر شخص وقت کے ساتھ ساتھ چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں وقت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے بڑے بڑے بادشاہوں کو پل بھر میں فقیر اور فقیروں کو بادشاہ بنتے دیکھا ہے۔ تو جس نے وقت کے ساتھ دوستی رچائی اس نے ستاروں پہ کمندیں ڈال لیں، فضاؤں پر قبضہ جمالیا، صحراؤں کو گلشن میں تبدیل کر دیا، پہاڑوں کے جگر پاش پاش کر دیا اور جس نے وقت کے ساتھ دشمنی مول لی تو وقت اسے ذلت و رسوائی کے تحت الثریٰ میں اس طور پر دھکیل دیتا ہے کہ پھر اس کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ بلاشبہ وقت اللہ کی طرف سے ہر انسان کو عطا کیا ہوا ایک ایسا تحفہ ہے۔ یہ انسان کو بنا بھی سکتا ہے اور برباد بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے کامیاب انسان بننے کے لئے وقت کی دہلیز کو بڑی احتیاط سے پار کرنے کی ضرورت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وقت کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں ’’وقت تلوار کی طرح ہے پس اگر تم وقت کو نہیں کاٹو گے تو وقت تمہیں کاٹ دے گا‘‘۔ یعنی اگر ہم تلوار بازی سے آشنا ہیں تو ہم کسی کو قتل کرسکتے ہیں ورنہ خود ہم اپنے آپ کو ہی زخمی کرلیں گے۔ اسی طرح وقت کا صحیح استعمال کرکے ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں، مصیبتوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ وقت سے ذرہ برابر بھی بے اعتنائی اور لاپرواہی ناکامیوں کو ہمارے نصیب کا حصہ بناسکتی ہے۔
جس دور سے ہم گزر رہے ہیں بڑا نازک ہے۔ بہت سے چیلنجز امت مسلمہ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور ہم آنے والی مصیبتوں سے بے خبر ان پر کان دھرنے کو تیار نہیں ۔ وقت بھی انھیں نظر انداز کیے جانے والے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ ہمارے حال پر عقابی نگاہ رکھنے والے صاحب عقل و دانش پر عیاں ہوگا کہ ہماری قوم کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک اس دور میں بھی وقت سے زیادہ حقیر، بے وقعت، ارزاں اور کم تر کوئی چیز نہیں ۔ آج مختلف ذرائع سے وقت کا جو استحصال ہورہا ہے کہ شاید ہی اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ میں کوئی ایسا دور ہوا ہو۔ موبائل، گیمز، انٹرنیٹ، سوشل میڈیااور جدید ٹیکنالوجی نے ٹائم پاس اور بربادی وقت ایسے گوناگوں طریقے متعارف کروائے ہیں کہ ان سے بچنا آج امت محمدیہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
یورپی معاشرہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود کامیابی اور حیرت انگیز ترقی سے ہم کنار ہے۔ علم و فن، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ہر ایک کا امام و مقتدیٰ بنا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ وقت کا قدر دان ہے۔ اس نے پابندی وقت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالیا ہے۔ یاد رہے کہ وقت ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ شاہ و گدا، عالم وجاہل، کمزور و شہ زور سب کو یکساں عطا ہوئی ہے۔ تو جو لوگ اس سرمائے کو معقول اور مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہیں صفحہ دہر میں نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اور جنہوں نے تضیع اوقات کو اپنا محبوب مشغلہ بنا لیا۔ وقت ان کے ساتھ ایسا کھیل کھیلتا ہے جس کا نتیجہ ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر افسوس! امت مسلمہ آج اسی کا شکار ہے جس کی طرف متوجہ ہونا خصوصا موجودہ دور میں ناگزیر اور نہایت ضروری ہے۔