ہندوستان آج کس قدر نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے وہ عالم آشکار ہے۔ آے دن یہاں مسلمانوں پر طرح طرح کے کذب وافترا اور بہتان عائد کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کر اسلام کی شبیہ کو مجروح کرنا ہے، اسی پاداش میں کبھی ان لوگوں کا نشانہ مسلمانوں کی پاکیزہ شریعت ہوا کرتی ہے تو کبھی ہندوستان پر کی گئی مسلم حکومت۔ ہم پر ان کی افترابازی اور کذب بیانی کی ایک لمبی فہرست ہے، میرے قلم میں اتنی طاقت اور میرے مضمون میں اتنی وسعت نہیں جو ہر ایک پر مفصل روشنی ڈال کر عوام کو اس سے روشناس کرا سکے، لیکن آج ان کے ایک اہم منصوبہ کو بے نقاب کرنے کی جسارت کرتا ہوں، جس میں وہ ہمارے گزشتہ مسلم سلاطین پر ہندوؤں کو جبرا مسلم بنانے کی تہمت لگا رہے ہیں اور اس گھٹیا منصوبہ کے پیش نظر گھر واپسی کے نام پر بھولے بھالے مسلم حضرات کو ہندو بنانے کی مہم کھولے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ تاریخ سے ادنی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس طرح کے سارے الزامات حقیقت سے کوس و دور محض جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اور یہ بات مسلم ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں اکثریت غیر مسلموںکی ہو، وہاں ظلم وتعدی ، جبر واستبداد اور امتیازانہ برتاؤ کے ساتھ تقریباً ساڑھے چھ سو سال تک حکومت کرنا ناقابل تصور اور عقل سے نہایت ہی بعید ہے۔ اور اگر بالفرض ہم اس بات کو تسلیم کر بھی لیں کہ مسلم سلاطین نے تلوار کی زور سے ہندوستان پر حکومت کی اور لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا تو عقل سلیم رکھنے والا ہر فرد برجستہ بول اٹھے گا کہ تب تو ہندوستان سے غیر مسلموں کا سرے سےخاتمہ ہو جانا چاہیے تھا، تب تو ملک کے کسی گوشے میں ایک بھی ہندو بچنا نہیں چاہیے تھا،اور اس وقت جو ملک کے گوشے گوشی میں اتنی کثیر تعداد میں مندر وغیرہ ہیں،یہ بھی سلامتی کے ساتھ قائم نہ ہوتے،لیکن معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے، اتنے طویل عرصے حکومت کرنے کے باوجود آج مسلمان اقلیت میں ہیں، صدیوں حاکم رہنے کے بعد بھی یہ تعداد میںمسلمانوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور آج ہندوستان میں قدیم زمانے کے مندروں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔
یہ ساری چیزیں بلا شک وشبہ اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے، یہ ساری تلمیحات ببانگ دہل اس بات کی معلن ہیں اور الحمد للہ یہ کہتے وقت ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے گزشتہ سارے مسلم حکمراں امن و آشتی پر قائم تھے، عدل وانصاف ان کی حکومت کی بنیاد تھی، اپنی پوری رعایا سے بلا تفریق مذہب وملت أخوت و رواداری اور میانہ روی ان کے ثبات واستقلال کا سب سے بڑا ہتھیار تھا، ہر طبقہ کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گرارنے کی حریت فراہم کرنا ان کا شیوہ تھا، اور ایسا کیوں کر نہ ہو، کیونکہ رب لم یزل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لا إكراه في الدين( سورة البقرة آيت ٢٥٦. )کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں یعنی اسلام قبول کرنے کے لیے کسی پر زور مت ڈالو، کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور زبردستی تلوار کی زور سے صرف زبان پر قابض ہوا جا سکتا ہے نہ کہ دل پر۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم سلاطین کی ذرہ نوازی ،ان کی اعلی درجہ کی خاکساری ، عدل و انصاف اور رواداری پر مبنی طرز حکمرانی سے متاثر ہوکر غیر مسلم جوق در جوق ان کی بارگاہوں میں حلقہ بگوش اسلام ہوا کرتے تھے،
لہٰذا اسے ظلم وجبر سے تعبیر کرنا اعلی درجہ کی حماقت ہوگی۔ اس کے علاوہ تاریخ کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مغل حکمران ظہیر الدین بابر نے اپنے بیٹے نصیرالدین محمد ہمایوں کو قبل از موت وصیت کی تھی کہ جہاں تک ہوسکے، ہندؤوں کا دل جیتنے کی کوشش کی جائے اور گؤ کشی سے پرہیز کیا جائے۔ (اسلامی مسلمان ) نصیر الدین ہمایوں کے بڑے بیٹے شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر جو صرف نام کا ہی مسلمان تھا، اس نے تو مذہبی رواداری کی خاطر دین الہٰی کے نام سے خود ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی تھی۔
قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں نے بھی مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خاطر کافی تگ ودو کی، جس کا ایک زمانہ قائل ہے۔ (اسلامی مسلمان ) اس کے علاوہ بھی مزید سیکڑوں دلائل و شواہد ہیں، جن سے بھارت کے مسلم سلاطین کی اپنی رعایا کے تئیں بلاتفریق مذہب وملت عدل و انصاف اور میانہ روی کا ثبوت ملتا ہے ۔ لہٰذا ایسی بے بنیاد باتوں کو ڈھال بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے والے شر پسندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی حماقت بھری باتوں سے رجوع کریں، اسلام نہ کل زور زبردستی کا قائل تھا اور نہ ہی آج اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی کو بھی اس کا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے، لیکن یہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کی واضح دلیل ہے کہ مذہب اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال کی قلیل مدت میں پوری دنیا میں اپنی جگہ بنالی اور آج اس مذہب کے ماننے والے دنیا کے ہر حصہ میں پائے جاتے ہیں اور مذہب اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس مذہب کو قبول والے لوگ بغیر کسی زور زبردستی،فقط اسلام کی خصوصیات کی وجہ سے اس سے متاثر ہو کر اسلام کے دامن سے وابستہ ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ اسلام کو بدنام کرنے والے بہت زیادہ ہیں ،لیکن اس کے باوجود مذہب اسلام اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رہا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق مذہب اسلام اکیسویں صدی عیسوی میں سب سے تیزی کے ساتھ قبول کیا جانے والا مذہب ہے۔
(ریسرچ اسکالر۔البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ)
رابطہ۔8840061391