کام کسی بھی قسم کا ہو، کام کام ہوتاہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ حلال کمائی کی جائے۔ استاد کا معاملہ بھی ایسا ہے، مگر بہت حدتک الگ بھی ہے۔ بلا شبہ اللہ نے ہی انسان کو بنایا۔ والدین کےذریعہ اس کی پرورش کروائی ، ماں کی گود،اس کی پہلی درس گاہ بنائی اور ماں باپ کی سرپرستی میں اس کا ذہن اس حد تک بیدار کروایاکہ وہ کہ وہ دینی اور دُنیوی طور پر ذی شعور بننے کے لئےکسی درس گاہ یا اسکول جاسکے۔پھر اس انسان کے لئے کوئی معلم یا اُستاد ہی وہ شخصیت ہوتی ہے جو اُ س کا رہبر بن کراُسے جینے کی راہیں دکھاتا ہےاور مکمل انسان بننے کا شعور دلاتا ہے۔گویا اُستاد ہی وہ اعلیٰ رہبر ہوتا ہے جو انسان کو وہ حقیقی انسان بناتا ہےجو قوم و ملت، معاشرےاور انسانیت کی فلا ح و بھَلاکے کام آتا ہے۔ جبکہ حق بات تو یہی ہے کہ جو انسان ، اِسےقابلِ قدر بناتا ہے ،اُسی انسان کی پہچان ایک استاد کی حیثیت سےہر خاص الخاص میںہوجاتی ہے۔ بغور دیکھا جائے تو پوری دنیا میںایک اُستاد کی قدر ومنزلت دن بہ دن پروان چڑھتی جارہی ہے مگر ہمارے یہاںاس کی قدر وقیمت مسخ کردی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں برسوں سے یہ ریت سی چلی آرہی ہے کہ اُستاد کو ایک غلام کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔جبکہ پچھلے دو ڈھائی برسوں کی وبائی صورت حال کے دوران اس کا مشاہدہ زیادہ ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے یہاں نجی تعلیمی شعبے کازیادہ دبدبہ ہے۔ جس کے نتیجے میں بیشتر اساتذہ اُنہیں کے رحم و کرم پرہیں۔جبکہ معاملہ اس بات پر زیادہ منحصر ہے کہ طلاب فیس ادا کرتے ہیں کہ نہیں!
سچ تو یہ بھی ہےکہ وبائی صورت حال کے دوران جہاں ہر طرف زندگی رُک گئی، وہاں تعلیمی نظام بھی اس کا شکار ہوگیا۔ وادیٔ کشمیر میںنامساعد حالات کے باعث وقفہ وقفہ کے بعد تعلیمی ادارے بند پڑے رہتے تھے، مگر کووِڈ ۔۱۹تو اس کے لئےتابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ مہنگائی کے اس دور میں نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین تواتر کے ساتھ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گئے ہیں۔ چند ہزارروپےپر گزارا کرنے والے یہ قوم کے معمار، دوسرے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے ہیں۔ اس کے برعکس سرکاری تعلیمی شعبے میں کام کرنے والے اساتذہ تو پیسوں کے معاملے میں آزاد تھے، لیکن وہ بھی آنکھوں سے اوجھل ، ذہنی کشیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ ہاں! نجی اداوں میں کام کرنے والوں کے ذہنوں پر ایک عجیب قسم کی بے چینی کا پائی جاتی ہےجو نہ دکھائی دینے والی پریشانی ہے۔یہ لوگ بہت ساری اُلجھنوں کو چھپائےہوئے ہیں۔ بظاہر تو دونوں(سرکاری و غیر سرکاری) اساتذہ تندرست لگتے ہیں، مگر اندر ہی اندر ناامیدی اور ڈر کے سیلاب میںتیر رہے ہیں، کناروں تک پہنچنے کے لئے ان قوم کے سپاہیوں کو ناامیدی، ڈر، بے چینی اور بے حسی کی ایک ایسی جگہ پر لے جا رہا ہے، جہاں سے لوٹ کے آنا ناممکن تو نہیں، مگر مشکل ضرور ہے۔
کووِڈ وبا کے دوران متاثرہ لگ بھگ ہر طبقہ کی بات ہوتی رہی، مگر اساتذہ کا کسی نےبھی ذکر نہیں کیا۔ گورنمنٹ اسکولوں کے اساتذہ تو زندگی کا گذارہ کرنےکے معاملے میں ٹھیک ٹھاک تھے، مگر نجی اسکولوں نے اساتذہ کو پیسے کی عدم دستیابی کی بنا پر رخصت کیا۔ اس صورت ِ حال میں ان کے گھر والوں پر کیا بیتی، یہ خدا ہی جانتا ہے۔ کچھ گھرانوں میں فاقہ کی نوبت تک بھی آپہنچی۔جس سے ان لوگوں کے ذہنوں پر بہت گہرے نشان پڑگئے۔ کام کی عدم دستیابی اور والدین کی کفالت، بچوں کی ضروریات، بیوی کی پرورش، رسوماتِ زمانہ وغیرہ کی ادائیگی نے ان کے قابل ذہنوں کو ذہنی مریض بنا ڈالا۔ تاریک حال اور مستقبل نے اُن کو اب اس پیشہ کو خیرباد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میں خود اس بات کامشاہدہ کرچکا ہوں کہ نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ایسے کتنے اساتذہ ہیں، جو کچھ پیسوں کے لئے کہیں بھی کوئی کام کرنے کے لئے تیارہیں۔ وہ صرف چاہتے ہیں کہ کام ملے اور ہاں کوئی بھی کام وہ اس کے لئے بھی کرسکتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ گھر والوں کی اداسی و برہمی ، سماج کے طعنوں نے اور اپنی ملامت نے انسانیت کے معماروں کو اب انسانیت کے معیار سے بھی نیچے اُتارنا شروع کیا ہے۔ ایک اَن پڑھ مزدور مہینے میں کم از کم تیرہ ہزار کماتا ہے، مگر ایک نجی تعلیمی ادارہ کا اُستاد پانچ ہزار بھی نہیں کماپارہا ہے۔ اَن پڑھ خوش حال زندگی گزار رہا ہے، مگرپڑھا لکھا اُستاد پریشان حال زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
اس ضمن میں سب کو سوچنا ہوگا۔ ہاں! یہ حقیقت ہے کہ آج کل ہر کوئی فرد کسی نہ کسی لحاظ سے پریشان ہے، مگر نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ٹیوشن سنٹرس میں گورنمنٹ اساتذہ کی جگہ نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والےاساتذہ کوجگہ دے سکتے ہیں۔ اپنے محلے یا بستی میں ان کے لئے کچھ ایسے انتظامات کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا بھلا ہو۔ ہم اپنے بچوں میں یہ بات بٹھا سکتے ہیں کہ اُستاد ،اُستاد ہوتا ہے، اس کی عزت کرنا واجب ہے۔ دوسروں کے پیشوں کی طرح اس پیشہ کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر اِن اساتذہ کو پیسوں کے لحاظ سے نہ تولا جائے بلکہ اخلاق کو اول درجہ دیا جائے۔ ان کو اپنے درمیان بٹھایا جائے۔ساتھ ہی گورنمنٹ اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کا بھی بھر پور خیال رکھا جائے۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے کہ پیسوں کی بھر مار سے ساری زندگی نہیں چلتی ہے۔ اس کے لئے محبت، ہمدردی، سچائی اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہیں۔ اس وبائی صورت حال میں اِن لوگوں نے گھر سے دُور بہت وقت گزارا اوربُرے اوقات میں بھی قوم کی خاطر جانوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام بخوبی انجام دیتے رہے، ان کا بھی ہم پر احسان ہے۔ مگر ایک بات جو دونوں میں پائی جاتی ہے، وہ ہے ذہبی تھکاوٹ، لگاتار خوف نے دونوں طبقوں کو ایک عجیب دنیا میں پہنچا دیا ہے، جہاں سے واپس آنے میں تھوڑا سا وقت ضرور لگ سکتا ہے۔تو آیئے! ہم ایک باشعور قوم ہونے کے ناطے ان اساتذہ کو سمجھنے کی کوشش کریں،یہ بھی ہمارے اپنے ہیں، معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کو ہماری ضرورت ہے اور ہم کو ان کی ضرورت ہے۔ تو دیر کس بات کی! قوم کے سپاہیوں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
(مدرس حسینی پبلک اسکول ایچ ،ایم ،ٹی، زینہ کوٹ، سرینگر)
رابطہ۔788934676