عاقب شاہین
علامہ محمد اقبالؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اسلامی دنیا میں ایک مایہ ناز شخصیت ہے ، جنھوں نے قرآن و احادیث میں غوطہ زن ہو کر حالات حاضرہ کے پیش نظر مسلمانوں کو تعلیم و ہدایت دی ہے۔ علامہ اقبال کا ایک ایک شعر ایک ایک کتاب کے مانند ہے۔ اقبال کے جس مصرعہ پر اس وقت کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ وہ یوں ہے کہ ؎
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
اے مسلمان تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے اور تیرے ذریعے سےوہ دنیا والوں سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے۔یعنی اللّہ نے تجھے اپنے کلام کا حامی اور مبلغ بنایا ،تیرے پاس وہ ضابطہ حیات موجود ہے جواللہ تعـالی کے مشیت کا ترجمان ہے ،بس تو وہم وگمان کے بتوں سے نکل کر اللہ کی ہستی پر کامل یقین پیدا کر۔تیرا نصب العین اس قدر بلند ہے کہ آسمان کی بھی اس کے سامنے حقیقت نہیـــــں ہے۔تو اس کارواں سے مشابہہ ہے، جس کی منزل ومقصود کی رفت ستاروں کو بھی شرماتی ہیں۔یاد رکھ یہ دنیا فانی ہےاور اس میں تیرا قیام زندگی عارضی ہے ۔لیکن تو اپنی ذات کے اعتبار سے غیر فانی ہےاور تیرے بعد کوئی قوم پیدا نہیں ہوگی۔
اگر چہ علامہ نے ایک جگہ انسان جو ازل کہا ہے۔وگر نہ اقبال انسان کو ازل نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بات اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔تبلیغ کا چراغ لے کر کبھی ان ہواؤں کا مقابلہ کرنے کی جرأت کی، اب تیرا سرمایہ کیا ہے۔ نہ حوصلہ ، نہ ہمت ، نہ شجاعت ، نہ بہادری ، نہ دیدہ دلیری ، نہ مردانگی ، نہ اتحادِملی ، نہ خالق کا ڈر ، نہ خالق کی محبت ، نہ عشق محمدیؐ ، نہ نیکی کی آرزو ، نہ گناہ کا خوف ، نہ آخرت کی پرواہ اور نہ جنت سے رغبت ۔
اپنے گلستان حیات کا باغبان تو تھا ،تُو نے ہی اُسے اجاڑ دیا ۔تُونے ہی کلیوں کی مسکان چھین لی ۔تُونے ہی ملت کو بیدار کرنے والے بلبل خوش نوا کا گھلا گھونٹ دیا ، تُو نےہی اپنے گلشن کا گلچیں ہے ۔ زَن ، زَر ، زمین کی خاطر اپنے خاندان سے ،اپنے رشتہ داروں سے، اپنے بھائی بہنوں سے، اپنے جگر کے ٹکڑوں سے، اپنے والدین سے، اپنے سروردل سے کٹ کر رہ گیا ہے ۔ ہوس ، لالچ، خود غرض ، تیرا کمینہ پن ، تیرے پیروں کی زنجیریں بن گئی ہیں اور یوں تیرا خاندان اُجڑ کر بے آسرا ہوگیا ، بے سر و سامان ہوگیا۔
اقبال،تجھے بار بار پکار رہا ہے کہ تو قرآن کا حامی بن جاؤ ۔چونکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور تو اس کا حاصل ہے، اس لئے تو بھی قرآن مجید سے رابطہ قلبی کی بنیاد پر جاودانی ہے ۔تیرے اندر عشق مصطفیٰ کا جو وصف خون جگر پایا جاتا ہے۔اس کی بدولت تیری ذات اس کائنات کی رونق کا سبب بن گئی اور اس امت کو سیدنا حضرت ابراہیم ؑسے خصوصی نسبت حاصل ہے۔اس لئے تُو اس دنیا کا معمار ہے ،جس طرح انہوں نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا ۔تُو بھی ایک نئی اسلامی دنیا تعمیر کر۔
گناہوں کی سیاہی نے مسلمانوں کے دل و دماغ و روح کو تک سیاہ کردیا ہے ۔ اب ایک مرتبہ پھر تم کو اسی امتحان سے گزرنا ہوگا ،جس امتحان سے حضرت ابراہیمؑ کو گذارا گیا تھا ۔ آج تمہیں ایمان ابراہیمی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ خود کو اور آلِ اولاد کو اسلام پر قربان کر کے استقامت حسینؓ کی تاریخ دہرانا ہے ۔
اے مسلمان !اللہ نے تیری فطرت میں ترقی کے غیر محدود صلاحتیں متعین کی ہے۔اللہ تعالی نے اس کائنات میں بہت سی نعمہ مخفی کررکھی ہے ۔اگرتُو ان کو مسخر نہیں کرے گا، اس کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔اسی لئے علامہ اقبال وہ علم پڑھنے کی تلقین کر رہا ہے، جس علم سےتُو اِس دنیا میں ایک انقلاب برپا کرتا جو علم آپ کو دنیا کی قیادت عطا کرے گا ،جو علم آپ کو حق اور باطل میں تمیز کرنا سکھائے گا ۔وہ علم جو آپ کی راتوں کی نیند حرام کرے گا تب تک جب تک آپ اپنی اس بدحالی سے نہ نکل جاتا ۔ہم نے تو سارے علم پڑھے ہیں مگر اس علم سے ہم ہمیشہ دور رہے، جو علم ہمیں اپنی اصلی مقصد تک کے جا سکتا ہے ۔
اسی لئے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا۔ سبق پھر پڑھ شجاعت کا صداقت کا عدالت کا۔
تاریخ ِ عالم شاہد ہے کہ دنیا بھر کی تمام بڑی تحریکیں اور انقلابات انہی طلباء نوجوانوں کے عزمِ جواں ، بازؤے ہمت اور جذبہ ِ قربانی کا کرشمہ ہیں، بلکہ ان کا ولولہِ تازہ اورگرم خون بڑے بڑے عالموں ، سیاست دانوں اور باعمل فلسفیوں کو بھی میدانِ عمل میں لے آیا۔ غور و فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یوں امڈ آیا کہ منزلِ مراد ،ان کے قدموں کو بوسہ دینے پر مجبور ہوگئی۔ ایسے مرد اور درویش صفت جوانوں کی ضرورت ہے ہمارے اس قوم کو جو ہمیں زبوں حالی سے نکال سکتے ہیں۔ دنیا کی تواریخ میں انہی طلبہ نے قوموں کو عروج بخشا ،جن میںعزم و استقلال کے اوصاف تھے ۔اقبال نے تجھے شاہین کے نام سے پکارا اب ذرا تدبر کر کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنا کر بھیجا ،اللہ نے میرے ذمّہ ایک کام سونپا اور ایک نصب العین دیا اور اپنے اس نصب العین کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے ۔مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں کہ آج زلزلوں سے ڈرتے ہو کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیروں سے کانپتے ہو، یاد کرو کہ تمہارا وجود خود ایک اُجالا تھا۔ گھٹاؤں کا طوفان کیا ہے تم نے بھیگ جانے کے ڈر سے پائنچے چڑھالئے ہیں، وہ آخر تمہارے ہی اسلاف تھے جنہوںنے سمندروں میں اتر کر وہاں سے خزانے نکالے، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں لپکیں تو اُن پر مسکرائے، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ،صرصر اٹھی تو رخ پھیر لیا ،آندھیاں آئیں تو ان سے کہا لوٹ جاؤ۔ یہ ایمان کی جان کنی ہےکہ شہنشاہوں کے گریبانوں میں جھانکنے والے آج خود ہی گریباں کے تار بیچ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس درجہ غافل ہوگئے ہیں کے جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہ تھا اور جس کی حسرت علامہ اقبال کو ہمیشہ رہی۔
اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے۔آمین
(رابطہ۔9596402379)