اس سے معلوم ہوا کہ تہجد پڑھنے سے تو ایک تہجد کا ثواب ملتا ہے لیکن معافی اور توبہ کی صورت میں نجانے کتنی تہجدوں کا ثواب مل جاتا ہے۔جس اللہ کی کرم نوازیوں کا یہ عالم ہے اسے پکارنے والا کیسے محروم رہ سکتا ہے۔چناچہ حضرت آدم اور حضرت حوا نے جب اپنی اس غلطی پر پروردگار کو مغفرت و توبہ کے لیے پکارا اور پھر بار بار عاجزی سے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ یا اللہ تیرے سوا کوئی دروازہ نہیں جہاں ہم جائیں،تیرے سوا کوئی معاف کرنے والا نہیں ،اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کھایا تو ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے۔سورة البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے پھر ان کی توبہ قبول فرما لی اور گناہ کا یہ داغ جو ان کے دامن پر لگ گیا تھا ،اُسے دھو ڈالا اور قیامت تک کے لیے ان کے اس حسن عمل کے طفیل یہ اصول ٹھہرا : ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا‘‘۔
انسان کو اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسے اپنے صالح باپ کا منہج اختیار کرنے کی توفیق مل کر اپنے ربِ کریم کی رضا حاصل ہو جائے۔اپنے مشفق رب کا دربار چھوڑ کر انسان کو ذلت و رسوائی کے سوا آخر کیا مل سکتا ہے؟انسان کے لئے واقعی طور پر رب ہی وہ مضبوط سہارا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔رب ہی وہ واحد ذات ہے جو بندے کو ہر مصیبت،بلا اور ہلا دینے والی تکلیف سے نجات دلا سکتی ہے،اسے آزمائشوں کے بھنور سے نکال سکتی ہے،اسے طوفانوں کے مقابلے میں ثبات دے سکتی ہے،اسے طاغوت کے دریاؤں کا رُخ موڑنے کی ہمت دے سکتی ہے،اسے برائیوں کے طوفان میں تنہا کھڑا کر سکتی ہے،اسے تاریخ کا دھارا بدل دینے کا عزم دے سکتی ہے،اسے کفر کی اندھیری رات میں اسلام کا چراغ روشن کرنے کی توفیق دے سکتی ہے،اسے پوری دنیا سے ٹکر لینے کا عزم باندھ لینے کا جذبہ دے سکتی ہے،اسے کانٹوں کا راستہ لینے پر مطمئن کر سکتی ہے،اسے دین کے راستے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار کر سکتی ہے،اسے اپنے قُرب کے شرف سے نواز سکتی ہے،اسے آفاق میں گم ہونے کے بجائے آفاق ہی اپنے آپ میں گم کرنے کا پروانہ سونپ سکتی ہے،اسے اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلا سکتی ہے،اسے سمجھوتہ کا راستہ اپنانے کے بغیر موت کو گلے لگانے کے راستے کی طرف گامزن کر سکتی ہے،اسے جلد بازی کے صفت سے لیس کرانے کے بجائے صبر جیسے عظیم صفت سے متصف کر سکتی ہے،اسے دنیا کی نعمتوں کے بجائے جنت کے اعلیٰ بالاخانوں کا سودا کرنے کا پُلان دے سکتی ہے،اسے جنت کی دلچسپیوں میں مشغول ہونے کا خواب دے سکتی ہے،اسے اپنے ہاں میزبانی کے شرف سے نواز سکتی ہے،اسے زندگی کے آخری سانس تک اپنے دامنِ رحمت میں رکھ سکتی ہے،دین کی راہ میں اس کے دشمنوں کو خود ہی نمٹنے کا کام کر سکتی ہے،اپنےگناہوں پر پچھتانے پر فوری طور پر اس کے اوپر ابرِ رحمت لا سکتی ہے،اپنے دربار میں حاضر ہوتے ہوئے دیکھ کر اس کی بے قراریوں کو محسوس کر سکتی ہے،اس کے نذر و نیاز کو اپنے دامن میں خوشی خوشی لے سکتی ہے،اسے مایوسی کے دلدل سے نکال سکتی ہے،اس کی بھرے منجدھار میں ڈوبی کشتی کو کنارا لگا سکتی ہے،اس کی تقدیر کو محض ایک ’’کُن ‘‘سے بدل سکتی ہے،اس فانی دنیا سے نکلتے وقت اس کی کارگزاری کو مقبول ٹھہرا کر بالآخر اسے اپنے دیدار کے شرف سے نواز سکتی ہے۔
ان میں سے وہ کون سا کام ہے جو اللہ رب العزت کی ذات نہیں کر سکتی ہے؟انسانوں کے آستانوں پر کچھ دیر پڑاؤ ڈال کر جب بالآخر انسان کو خالی ہاتھوں ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے تو یہ رب کے در کا فقیر بن ہی جاتا ہے۔اللہ رب العزت اس کے انتظار میں ہوتا ہے کہ کب یہ بندہ فقیر میرے سامنے زانویہ تلمذ بیٹھ کر مجھے منائے؟کب یہ اپنے دل کے زخموں کو میرے سامنے کھول دے؟کب یہ زندگی کی پیچیدگیوں کو میرے سامنے بیان کر دے؟کب یہ میرے دربار میں آکر اپنے دامن کو خوشیوں سے بھر دے؟کب یہ میری رحمت میں سے اپنا حصہ لے لے؟کب یہ ندامت کے آنسوؤں سے اپنے گناہوں کو دھل دے؟کب یہ امید کا پروانہ ہاتھ میں لئے ہوئے میرا مہمان بن جائے؟کب یہ میرے سامنے بیٹھ کر دل کا بوجھ ہلکا کر ڈالے؟کب یہ اپنے دل و دماغ کی رعنائیوں سے لے کر جسم و جان کی تمام توانائیوں کو میرے راستے میں جھونک دے؟کب یہ گناہ ہونے کے بعد’’فاغفرلی‘‘کا کلمہ وردِ زبان رکھ کر میری طرف دوڑ کر آئے؟کب یہ اپنی حاجتوں کی ڈھیر میرے سامنے رکھ دے؟کب یہ اپنی قربانیوں کو میرے سامنے پیش کرکے ان کی ’’قبولیت‘‘ کے لئے مجھے پُکارے؟کب یہ میرا بندہ بن کر میرے خزانوں کو لُٹادے؟کب یہ میرے دربار میں آکر حقیقی مزہ کو چکھے؟کب یہ دوسرے آستانوں سے واپس آکر میری ملاقات سے مستفیض ہو جائے؟کب یہ میرے دربار میں آکر میری کرم فرمائیوں کو دیکھے؟کب یہ میرے در پر امید،یقین اور عاجزی کے ساتھ پُکارنے کے لئے آئے؟کب یہ میرے دربار میں آکر میرے ساتھ سرگوشیوں کا لُطف اٹھائے؟کب یہ فضائے بدر پیدا کر کے فرشتوں کی نصرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے؟کب یہ دنیا میں خلافت کا نظام قائم کرکے مجھے حقیقی عزت و وقار دے دے؟کب یہ دنیا میں ڈوب کر اور اس پر جان دینے کے بجائے اسے میرے لئے آگ لگا کر آئے؟کب یہ سر پر شہادت کا تاج سجا کر میرے سامنے حاضر ہو جائے؟وہ منتظر ہے اپنے چہیتے بندے کا لیکن بندہ ہی سرکشی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ایسے مشفق رب کو چھوڑ کر دوسرے آستانوں پر ڈھیرا ڈال لیتا ہے۔اس فعلِ بد کی پاداش میں وہ اپنے ربِ کریم کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ربِ کریم کے دربار کو چھوڑ کر دراصل بندہ اس کی ناقدری کرتا ہے اور اس بندے کی مشابہت ان کُفار سے ہوتی ہے جو واقعی طور پر اپنے ربِ کریم کو چھوڑ کر اس کے قدر دان نہ بن بیٹھتے ہیں۔منجملہ ان تمام نادان بندوں کی طرف اشارہ کرکے روٹھا ہوا رب ایسے پُرکشش الفاظ میں’’شکوہ‘‘کرتا ہے کہ پڑھتے ہی زندہ ضمیر انسان بے قراری کی حالت میں جھومنے لگتا ہے اور اس کے رخساروں سے آنسوؤں کا نہ تھمنے والا سلسلہ خود ہی بہنے لگتا ہے:
’’انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا۔بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے‘‘۔(الحج:74)
رب کے در پر ہمیں سب کچھ اپنے مقررہ وقت پر ہی مل سکتا ہے۔یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو نجات کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔یہی وہ عقیدہ ہے جو انسانی وجود میں ایک نئی روح پھونک سکتا ہے،اس کے ایمان کو جِلا بخش کر بالآخر اسے رب کے در کا فقیر بنا ہی دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر انسان کو کیا اعزاز مل سکتا ہے کہ اسے رب کے در کا فقیر بننے کی توفیق مل جائے؟مان لیجیے کہ وہ رب العٰلمین ہماری بد اعمالیوں،بدکاریوں اور اسلامی تعلیم سے روگردانی کی وجہ سے ہم سے ناراض ہیں،تو کیا ہمیں اس کی صدا ’’ اللہ کی رحمت سے نا اُمید مت ہو‘‘ سننے اور محسوس کرنے کو نہیں آتی؟وہ آج بھی درد بھرے انداز میں ہمیں اپنے در پہ بُلا رہا ہے اور ہمارے ندامت کے آنسوؤں کو پونچھنے کے لئے تیار ہے،بس اس کے در پر حاضری دینے کی دیر ہے۔جہاں خدائے جبار و قہار کا جوش انتقام بھڑکا ہوا ہے،وہاں اس کا دریائے رحمت بھی موجزن ہے۔آئیے ہم سب مل کر اپنے مشفق باپ حضرت آدمؑ کا اُسؤہ پکڑ کر اس وقت رب کے در کا سُوالی بننے کا عہد کریں اور ساتھ میں توبہ و استغفار اور گریہ وزاری کے آنسوؤں سے اپنے گناہوں کے آگ کو بُجھادیں،یہی ہمارے لئے نجات کا واحد راستہ ہے۔جب تک بچہ نہیں روتا ماں نہ بچے کو دودھ دیتی ہے اور نہ ہی پیار و محبت کرتی ہے۔مولانا رومؒ نے کیا ہی خوب کہا ہے:
’’جب تک حلوا فروش بچہ نہ روئے دریائے کرم جوش میں نہیں آتا۔رونا عجیب تاثیر رکھتا ہے کہ جب تک ابر پر گریہ طاری نہ ہو(بارش نہ برسے)چمن کیسے ہنس سکتا ہے،اس کو شادابی کہاں نصیب ہوسکتی ہے۔جب تک بچہ روئے نہیں ماں کا دودھ کیسے جوش مار سکتا ہے۔اگر بلا اور مصیبت سے نجات چاہتے ہو تو(حق تعالیٰ کے سامنے) گریہ وزاری سے کام لو۔حق تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری میں مصروف رہو تاکہ مسرور اور شاد کام ہوجائے۔گریہ کرتے رہو تاکہ دہن نہیں بلکہ دل ہنسے اور خوش ہو۔ہر رونے کا انجام خوش ہونا ہے،جو شخص انجام پر نظر رکھے مبارک بندہ وہی ہے‘‘۔