بدلنا انسان کی فطرت میں روزِاول سے ہی شامل ہے اور جو انسان وقت کے تقاضوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔بنی نوع انسان ازل ہی سے اس بات سے متفق الرائے رہاہے کہ تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔جس کے بناء کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔اس لحاظ سے اگر یہاں جموں وکشمیر میں سال 2021کی بات کی جائے تو ہمیں حسب ِ معمول اس بات سے خود کو تسلی دینی پڑتی ہے کہ ہائے سال توبدلنے والا ہے لیکن ہمارا حال وہی کا وہی ہے۔وہ خواب جو ہم نے سجائے ہوتےہیں،وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکیں۔اس طرح یہ سال بھی،جسے کل سے ہی گذشتہ سال کے نام سے یاد کیا جائے گا، کشمیر ی عوام کے لئے ہر سال کی طرح درد کرب، خوں آشام اور بھیانک سال ہی رہا یعنی یہ سال بھی یہاں کے عام انسانوں کو غموں ،المیوں ِ،مایوسیوں اور افسردگی کے سوا کچھ نہ دے سکا۔وادیٔ کشمیرجو اپنی سرسبزنظاروں ،دلکش کوہساروں، دل فریب آبشاروں،پُرسکون وفرحت بخش فضائوںاور قدرتی حُسن کے باعث جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاحوںکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہےوہیںیہ پوری دنیا میںجنت کے نام سے بھی مشہور ہے۔کیونکہ یہ وادیٔ کشمیر اپنے تہذیب و تمدن اورثقافت وفراست میں بھی ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس!، جس کشمیر کو کبھی جنت فردوس کے نام سے جانا جاتا تھا،آج جہنم کا نظارہ بنی ہوئی ہے۔نہ صرف وقت وقت کے حاکموں نے اسے بُرباد کرکے رکھ دیا ہے بلکہ یہاں کے عوام نے اِ سے لوٹنے اور نوچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،جس کا خمیازہ ہم عرصہ دراز سے بھگت رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ تین دہائیوں کےطویل نامساعد حالات کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ سال ۲۰۱۹میںاُن زخموں کو پھر ہَرا کردیا گیا ،پھر۲۰۲۰میں وبائی بیماری کووِڈ کے دوران یہاں کے لوگ اس اُمید میں تھے کہ شائدسال۲۰۲۱ اُن زخموں کے لیے مرہم بن کے آئے گا ،لیکن لوگوں کی یہ اُمید بھی بَر نہ آئی بلکہ اس سال بھی یہاں کی انسانیت کو نشانہ بناکر ایسے گائو لگائے گئےاب یہاں کی پوری نسل پر ثبت ہوچکے ہیں۔اس سب کچھ کے باوجود یہ وادیٔ کشمیر کل کے انتظار میں پُر امید ہے کہ شائد آنے والا کل آج سے بہتر ہو ،کیونکہ اُمید پر ہی دنیا قائم ہے اور نااُمیدی کفر ہے۔اس لئے کہا جاسکتا ہےاگلا سال یعنی۲۰۲۲ بہتر ثابت ہو۔ لیکنجہاں تک دکھائی دے رہا ہےموجودہ دور کے حاکم بھی تا حال ٹس سے مس بھی نہیںہورہے ہیںاور بدستور اپنی روایتی طریقۂ کارپر عمل پیرا ہیں۔چنانچہ جنوری مہینے کی سرد ہوائیں اور برفانی باری کے آغاز کے ساتھ ہی زندگی کے لئے لازم تمام بنیادی اشیاء ضروریات کے نرخوں میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے کہ عام انسان کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ہاں!سرکاری ملازم تو مزے میںہیں کیونکہ آئے دن ان کے ڈے، اے میں اضافہ کرنے کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ جن سے جموں وکشمیر کے سرکاری ملازمین بالکل مستفید ہورہے ہیں۔ظاہر ہے ایک طرف جہاںکورونا نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لیا تھا ۔وہاںاس قہر سے بچنے کے لئے ہمارے یہاں ہی بھی کافی تباہی مچی۔اور اس وبائی بیماری سے بچنے کے لئے تدابیرپر عمل پیرا رہے۔جب اس بیماری کے لئے ویکسین ایجاد ہوئی تو یہاں کے لوگوں نے بھی تھوڑی بہت راحت کی سانس لی ۔ اور ہر طرف قطاریںنظر آنے لگیں۔ لوگ ویکسین کے حق میںجہاں اطمینان کا اظہار کررہے تھے وہیںمرکزی سرکار کا یہ فیصلہ غریب عوام کے لئے فائدہ مند رہا کہ مفت ویکسین کے ساتھ ساتھ پانچ ماہ تک مفت راشن جو بعد میں پورے سال کے لئےمختص کیا گیا مل رہا ہے۔
ہر سال کی طرح سال۲۰۲۱ کے آغاز سے ہی بے روزگارنوجوان اسی آس میں لگے تھے کہ شاید ان کا انتظار ختم ہوگا ۔ریاست کا درجہ ختم ہونے کے بعد سے مرکزی سرکار یہی کہتی چلی آرہی تھی کہ کبھی تیس ہزار، کبھی پچاس ہزار خالی آسامیاں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر جلدازجلد پُر کی جائیں گی لیکن نتائج آج تک نداردہی ثابت ہوا۔جب سے وقت کے حاکموں نے تعلیم یافتہ طبقے کو چائے پکوڑے کے بزنس کی صلاح دی، تب سے ملک بھر کےبے روزگار طبقے کی اُمیدوں پر پانی سا پھیر گیا۔جہاں تک جموںوکشمیر میں بے روزگاری کی شرح کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں ملک کے دو ریاستوں ہریانہ اورراجستھان کے بعد جموں کشمیر تیسرے نمبر پر ہے ۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر میں ڈیلی ویجیرس کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ۔ان بے چاروں کے ہر سال کا آغاز اور اختتام ہڑتالوں پرہی ختم ہوجاتا ہے۔اورجب اعلیٰ حکام ان کے مسئلہ کو جائز قرار دیتے ہیں توبے چارے چپ چاپ واپس کا م پر لگ جاتے ہیں۔اس طرح اب ان کی تعدادساٹھ ہزارسے اوپر تجاوزکرگئی ہے۔سننے میں آیا ہے کہ کوئی بھی افسرجب چاہے، اپنے باورچی خانے میں اُسے بھرتی کر سکتا ہے۔
ہمارے یہاں ایک محکمہ ہے آنگن واڑی کا بھی ہےجس میں کام کرنے والے لوگ بھی لگاتار ہڑتال پر رہتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنے اس مطالبہ میں کہ اُن کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،دفتروں سے زیادہ سڑکوں پر ہی اپنی ڈیوٹی انجام دی ہے۔ لیکن سننے والا کون ہے جو ان کے جائز مطالبات کو پورا کرسکے ۔حسب روایت اُن کو بھی طفل و تسلیاں دے کر کچھ وقت کے لئے خاموش کر دیا جاتا رہتا ۔سال بھر ان کی ہڑتال کی خبریںاخباری سرخیوں بنتی رہیںاور بالآخر ۹۱۸ لوگوںکو نوکری سے برطرف کرکے گھر کا راستہ دکھایاگیا۔ اب نہ کوئی ہڑتال رہی نہ کوئی پوچھنے والا۔
SSAاساتذہ کے لئے یہ سال بہت اچھا رہا کیونکہ نہ نعیم صاحب اب محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے اور نہ ہی SSAاساتذہ رہے کیونکہ سابق گورنر ملک صاحب کی فراخ دلی نے ان کی زندگیوں کو چار چاند لگا دیا ۔ریاست کی پچھلی حکومتیں جو دس سال میں نہ کر پائی، گورنرملک صاحب نے لمحوں میں کردیاتھااو ر اس طرح مرکز ی سرکارکی اسکیم کو مرج کرکے ریاستی بجٹ میں شامل کیا ،جس سے بے روزگاری میں بے تحاشااضافہ ہوا اور آئندہ دس برس تک کوئی بھی اساتذہ کی آسامیاںنکلنے کے امکان بھی نہیں ہے۔یہ بات بھی سچ ہے کہ یہ اساتذہ پہلے پہل سال کا زیادہ تر وقت اسکولوں کے بجائے سڑکوں میں ہڑتالوں میں گذارتے تھے اور حاکموں نے بھی اُن پر لاٹیاں بھرسانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ۔ایک زمانہ تھا جب استاد کو قوم کا معمار سمجھا جاتا تھا لیکن آج اس معمار کے اپنے بچے تو پرائیوٹ اسکول میں داخل ہوتے ہیں اور گورئمنٹ اسکول میںخدانخواستہ غریب بچوں کے سوا اور کوئی نہیں ملتا۔ بجلی کے ساتھ تو ہماری بنتی نہیں ہے کب آجائےاور کب چلی جائے ،نہ آنے کی ہی خبر اور نہ جانے کا پتہ؟ لیکن فیس میں اضافہ برابر جاری ہے۔ مرکزی سرکار کا نیا قدم کہ اب بجلی کو مزید جگمگانے کے لئے اس کا پرائیوٹیزیشن کیا جائے، جس سے شاید بجلی چوری کو روکا جاسکے، لیکن دیکھا یہی جاتا ہےکہ وادیٔ کشمیرمیں پیداکی جانے والی بجلی کا بیشتر حصہ ملک کی دوسری ریاستوں کے گھروں کو روشن کرتے ہوئے نظر آتی ہیں اور پورا کشمیر گھپ اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔
جہاں تک۲۰۲۱ میں سرکاری محکموں کی جانکاری ہے تو اس سلسلے میں ریاست جموں کشمیر میں مختلف قانون کا ذکر کرنا یہاں لازمی سمجھتا ہوں جو مختلف محکمے وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔پہلے جموں کشمیر کے ہائر ایجوکیشن کی بات کی جائے تو ان کے یہاں کوئی پوچھنے والانہیں ہوتا، وہ کب کس ڈگری کو رد کرے اور کس ڈگری کو نمبر دے ،اللہ ہی جانتا ہے ۔یہاں تک کہ ۳سال یا ۲سال کی ڈگریوں کو رد کرکے چالیس دن کو کورسس کو نمبر دیتےہیں، شاید یہ واحد ریاست ہے جو ملک کے یوجی سی قانون کو بالائے طاق رکھتے ہیں اورجہاں جو مرضی چاہیے وہ کر یتے ہیں۔دوسرا ہے،جے کے ایس ایس بی JKSSBہر بار کی طرح اس باربھی خوب سرخیوں میں رہا، چاہے وہ ایس آر او۲۰۲ کی بات ہو یا کلاس فورتھ بھرتیوں میں اعلیٰ تعلیم یافتوں کو نااہل قرار دینے کی،SIسب انسپکٹر بھرتیوں میں عمر کی تاخیر کی ہویا خالی پڑی اسامیوں کے بھرتیوں میں تیزی نہ لانے کی ،اور خاص کرپُرانے بھرتیوں کے اسامیوں کے درخواستوں کو منسوخ کرنے کی، جس میں سے زیادہ تر درخواست گزار عمرکی حد پار کر چکے ہیں، ان کے لئے یہ سال کسی مصیبت سے کم نہیں۔ محکمہ تعلیم نے بھی تواس سال کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ پہلےSAC کا قانونRetکے لئے اور دوسرا محکمے کے اساتذہ کو 100%پرموشن دے کر لیکچرارس کی تمام تر اسامیاں خود ہی پوری کرنے کی۔ دوسری طرف سرکار کا یہ اعلان بھی غیر جانب دارانہ ہی ثابت ہواکہ ریٹائرہوئے ملازموں کو واپس مختلف محکموں میں نئے سرے سے بھرتی کیا جائےگا۔ ایک طرف سرکارمختلف محکموںمیںر ڈیڈ سٹاک ملازموں کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ریٹائرڈملازموں کو واپس بلانے کی ۔اس پورے سال ملازموں کے سر پر یہ دباؤ نظر آرہا تھاکہ شاید ۲۲یا ۴۶ کا قانون نافذہوگا۔کب کس کے سر پہ لاٹھی ٹوٹے گی ، کون کباورکس وقت نشانے پر ہوگا، اس کا اندازہ لگانایہاں بہت کٹھن ہے۔
اس سال جموں کشمیر اس لحاظ سے بھی خاصاً اہم رہا ہے کہ پہلی بار ڈی ڈی سی DDCالیکشن دیکھنے کو ملے، ۲۰۱۹ کے بعد لوگوںکے رویوں سے ایسالگ رہاتھا کہ جموں کشمیر میں شاید ہی اب کبھی الیکشن ہونگے لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے مصداق کشمیر کے لوگ بھی بالکل ویسے ہی ہیں،موسم کی طرح ان کا بدلنا یکدم عیاں نہیں ہوتا۔حد تو یہ کہ ایسے لوگ اب ہماری رہنمائی کرنے کونکلے ہیں، جو رہنمائی کا مطلب نہیں جانتے ہیں ۔یہ رہنمائے کشمیر ایسے ایسے بیان دیتے ہیں جو کسی کامیڈی سے کم نہیں لگتے ،بظاہر اب کشمیر کی سیاست سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوکوئی بھی اپنے گھر کے معاملات میں کامیاب نہ ہوا ہو۔وہ کشمیرکی سیاست میں ضرور اپنی قسمت آزما کر کامیاب ہوسکتا ہے ۔اس سال بھی نہ جانے کتنے ہی بے گناہوں کی قتل وغارت گری ،خونریزی کے ساتھ ساتھ عصمت دری کے واقعہ رونما ں ہوئی ہیں۔ بہت سے مائیں اپنے بیٹوں سے ،بہنیں اپنے بھائیوں سے ،بیویاں اپنے شوہروں سے اور بچے اپنے والد ین سے بچھڑ گئے ہیںاگرچہ یہ سلسلہ برسوں سے چلا آرہا ہےلیکن اس سال تعداد کی حد زیادہ تھی، کوئی دن ایسانہیں تھا، جب کوئی بچہ یتیم نہیںہوتا، دن کی شروعات ہی کسی معصوم کے ہلاکت سے ہی ہوتی تھی۔کوئی دن ایسا نہیںرہا، جب دل کو چیر کرنے والی خبر سُننے کو نہ ملتی ۔روز روز ہڑتال کرنا،سڑکوں پر احتجاج کرنا ، رات رات بھر گولیوں کی آوازیں،چاروں طرف لاشیں، آخر کب تک انسانوں کا خون بہتا رہے گا؟ اب یہاں انسان کے خون کی کوئی قیمت نہیں رہی ؟ہاں ! اس بات کا بھی ذکر ہوجائے کہ مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کے لئے صحت اسکیم جاری کی، جس کے تحت کوئی بھی فرد اپنے صحت کا علاج کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ہسپتال میں مفت کراسکتا ہے ۔جو نہائت ہی ایک خوش آئندہ قدم ہے۔
مختصر پھر سال بدلنے والا ہے ۔کیا اب کے بار ہمارے حال بدلے گا یا نہیں ،اس کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ہمارے پاس ماضی کی اتنی تلخ یادیں ہیں، جن کے گہرے زخموں کے نشان ہاری روحوں پر اس قدر چسپاں ہے کہ جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔اس سال میں جو غلطیاں اور کوتاہیاں انفرادی یا اجتماعی طور پر ہم سے
ہوئیں، وہ اگلے سال نہ ہوں اور اللہ سے یہ دعا کرتےہیں کہ اگلا سال ہمارے لئے فائدہ مند اور خوش آئند ثابت ہو۔؎
پھر نیاسال،نئی صبح ،نئی امیدیں
اے خدا!خیر کی خبروں کے اُجالے رکھنا
(رابطہ۔7006148112 )