’’اسلام‘‘ امن وسلامتی کا دین ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی رحم و شفقت،نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کےلیے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔ اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انصاف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔
اسلام سَلْم سے مشتق ہے، اس کے لغوی معنی امن و سلامتی ،صلح و آشتی حفظ و امان اور تسلیم و رضا کے ہیں، یہ لفظ قرآ ن کریم اور احادیث شریفہ میں ان تمام معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طلب گار ہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت عطا کرتاہے‘‘(سورۃ المائدہ)
اسلام کے جو لغوی معنی ہیں اس کے اصطلاحی مفہوم میں بھی اس کا اثر موجود ہے، چنانچہ وہ اپنی تعلیم اور صدر اول کی تاریخ کی مجموعی صورت حال کے اعتبار سے ایک ایسے مذہب کی تصویر پیش کرتا ہے جو انسان کو خود بھی امن و سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور دو سروں کو بھی امن و سکون کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی نہیں کہ وہ محض ہدایت دے کر کنارہ کش ہوجاتا ہے ،بلکہ اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ وہ ان احکام کی مکمل اطاعت کریں، کیوں کہ تسلیم و رضا کا پیکر بن کر ہی ایک شخص مکمل طور پر مسلمان کہلائے جا نے کامستحق ہوسکتا ہے۔
عملی طور پر بھی ایک مسلمان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن و سلامتی کا پیغامبر بنے، نہ کہ تشدد، نا انصافی اور ظلم و زیادتی کا سفیر، چنانچہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ ہر روز تشہد کے اندر بار بار ان الفاظ کی تکرار کرے، یہی نہیں بلکہ نماز کا اختتام ہی ان الفاظ پر ہوتا ہے ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ ایک دوسرے سے ملنے کے وقت سلام کی ہدایت ،اس پر حاصل ہونے والے اجر و ثواب کا ذکر ، سلام میں پہل کرنے اور جواب دینے کی فضیلت سے پتا چلتا ہے کہ اسلام امن و سلامتی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ جنت کے ایک درجے کا نام ہی دارالسلام ہے، جو مخصوص و مقرب بندگان خدا کو عطا کیا جائے گا۔باری تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ ان کے رب کے پاس جنت میں ایک گھر ہے جس کا نام دارالسلام ہے ‘‘(سورۃ الانعام)اس میں رہنے والے جب ایک دوسرے سے ملیں گے تو سب سے پہلے وہ سلام ہی کریں گے اور سلامتی ہی کی دعا دیں گے۔
ارشاد خداوندی ہے’’ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے ان کا سلام ہوگا السلام علیکم ‘‘(سورۃ الاحزاب) امت کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ جنت میں ان کا استقبال کلمہ سلام سے کیا جائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ جن کی پاکیزہ روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں ،ان سے یہ کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم اپنے اعمال کی بہ دولت جنت میں داخل ہوجاؤ‘‘ (سورۃ النحل)ان ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لیے امن وسلامتی کاباعث ہو جس کے طرز عمل سے دوسرے لوگوں کو امن و طمانینت کا احساس ہو، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ’’مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے متعلق امن میں ہوں‘‘(جامع ترمذی)ایک اور حدیث میں ہے:جس نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اللہ کو تکلیف پہنچائی۔
ظاہر ہے اللہ کی ناراضی کوئی مومن گوارا نہیں کرسکتا۔ حدیث بالا میں کسی مذہب وملت کی قید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دائرہ ساری انسانیت پر محیط ہے۔ اسلام بلاشبہ نہ صرف اپنوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحیم وشفیق بننے کی ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:تم دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو، جیساکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کرتاہے۔اسلام راواداری، محبت، شائستگی، شرافت اورمعقولیت کی تعلیم ضرور دیتا ہے۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی بندگی کے لیے شرط اولیں قرار دیا ہے:’’اگر تمہیں اللہ کی بندگی کرنی ہے تو پہلے اس کے بندوں سے محبت کرو‘‘۔غرض یہ کہ اسلام کی تعلیمات واحکام سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ایک دین رحمت ہے اسلام میں ظلم و جبر، دہشت گردی اور جارحیت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس لیے جو لوگ اسلام دشمنی میں اس کی جانب دہشت گردی کو منسوب کرتے ہیں ،ان کا یہ رویہ بجائے خود ایک دہشت گردی ہے ، اس لیے انہیں اپنے اس ناروا رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔