اس وقت پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہے۔ دہلی ، ہری دوار، رائے پور اور دیگر مقامات سے نفرت انگیز تقاریر کے جو بگولے اٹھ رہے ہیں ان سے ملکی فضا مسموم ہو رہی ہے۔ ہر امن پسند شہری اندیشوں سے گھرا ہوا ہے۔ سب کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو جائے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیلیں کہیں رنگ نہ دکھانے لگ جائیں۔ کوئی سرپھرا اُن کے بہکاوے میں نہ آئے۔ لیکن شکر ہے کہ ابھی تک کہیں سے کوئی چنگاری اٹھی ہے نہ اُن زہریلی بولیوں کی تائید ہو رہی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اُن دھارمک شخصیات نے جو کہا ہےوہ دُرست ہے،بلکہ ہر سنجیدہ شخص اُن کی مذمت کر رہا ہے۔ ہر شخص اُن لوگوں کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی اپیلیں کر رہا ہے۔ اگرچہ حکومت خاموش ہے،پولیس چپ ہے، وزیر اعظم کچھ نہیں کہتےہیںاور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کچھ نہیں بول رہے ہیں ،کوئی بات نہیں۔کیونکہ اس ملک کا عام شہری چپ نہیں ہے، وہ بول رہا ہے، وہ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے، وہ انھیں دھارمک ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ ہندو مذہب پر چلنے والوں کی اکثریت اُن نام نہاد سادھو سنتوں کو اپنے مذہب سے ٹاٹ باہر کر رہی ہے۔ گودی میڈیا پر زیادہ بحث نہیں ہو رہی ہے تونہ ہو، سوشل میڈیا پر اس موضوع سے متعلق مباحثوں کی بھرمار ہے اور ہر شخص ان لوگوں کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس ملک کے عوام کی اکثریت نفرت و تشدد میں یقین نہیں رکھتی۔ وہ مار کاٹ کی طرفدار نہیں ہے۔ وہ کسی ایک فرقے کی نسل کشی کی حامی نہیں ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ مسلمان خاموش ہیں۔ وہ کوئی سخت رد عمل ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ جہاں حکومت کے ذمہ داروں کی خاموشی قابل مذمت ہے، وہیں مسلمانوں کی خاموشی لائق ستائش اور قابل تحسین ہے۔
ہم نے جب اس سلسلے میں متعدد غیر مسلم دانشوروں سے بات کی اور اُن کی رائے جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے ایک طرف اِن منافرتی تقریروں کی پرزور مذمت کی تو دوسری طرف مسلمانوں کی خاموشی کو سراہا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد بھگوادھاری صرف ہندوؤں کو ہی مشتعل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کو بھی مشتعل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاکہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور یہ لوگ اپنا کھیل کھیل سکیں۔ لیکن آفرین ہے مسلمانوں پر کہ وہ اس اشتعال انگیزی کا شکار نہیں بن رہےہیں۔ مسلمانو ںکی موجودہ قیادت جیسی بھی ہے، اُس نے بھی بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُس نے ابھی تک مسلمانوں کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دی ہے نہ مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ فلاں مقام پر یکجا ہوں یا فلاں ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں یا مظاہرہ کریں۔ یہ بہت اچھی بات ہے، ہم اس قیادت اور اس کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کے سمجھدار رویے کی ستائش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی کال دیتا بھی ہے تو مسلمانوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے۔ کیونکہ کہیں اُن کےپُرامن احتجاج کو کون سا رنگ دے دیا جائے اورکس بہانے سے ان کو عملاً نشانہ بنا لیا جائے۔ مسلمانوں کو اِن نام نہاد سنتوں کی شرانگیزیوں کا شکار نہیں بننا چاہیے۔اور نہ ہی اُن خطرناک عناصر کے بہکاوے میں آنا چاہیے۔ اگر گزشتہ سات برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ مسلمانوں نے ان برسوںکے دوران کافی حد تک یہ بات سیکھ لی ہے کہ انہیں حساس مسائل پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہاں! انہوں نے شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کی پُرزور مخالفت کی، یہ اُن کو کرنا بھی چاہیے تھا۔ کیونکہ وہ قانون ماہرین ِ قانون کے مطابق آئین و دستور ِ ہندکے منافی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ مسلمانوں نے اس معاملے میں بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بہت ہی پُرامن انداز میں اپنا احتجاج درج کرایا۔ اترپردیش اور پھر دہلی میں جو ناخوشگوار واقعات ہوئے اور بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں تو اُس میں مسلمانوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ان کا کوئی جرم نہیں تھا۔ یہ سب کچھ پولیس اورمنافر سیاسی تنظیموں سے وابستہ عناصر کی ملی بھگت سے ہوا تھا۔ اُن تشدد آمیز واقعات کی ذمہ داری مسلمانوں پر عاید نہیں ہوتی۔ آج ایک بار پھر مسلمان ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ ان کے سامنے ایسے سوالات پیش کر دیے گئے ہیں کہ وہ اگر ان سوالوں کے جواب دیں تو نقصان انہی کا ہے، جانیں انہیں کی جائیں گی، املاک انہیں کی برباد ہوں گی اور گرفتاریاں بھی انہیں کی ہوں گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ مسلمانوں نے ہری دوار، دہلی اور رائے پور میں ہونے والی اشتعال انگیزی پر چپ رہنے کا جو موقف اختیار کیا ہے وہ اس پر قائم رہیں۔ وہ دیکھتے جائیں کہ حکومت کیا کرتی ہے، پولیس کیا کرتی ہے،وزیر اعظم کیا رول ادا کرتے ہیں، موہن بھاگوت کون سا رخ اپناتے ہیں، یو پی کے وزیر اعلیٰ کیا کہتے ہیں اور اُترا کھنڈ کی حکو مت کیا کرتی ہے؟ امتحان دراصل مسلمانوں کاہی نہیں بلکہ ملک کے ہر طبقے سےوابستہ لوگوں کا بھی ہے۔ حکومت کے ذمہ داروں کا ہے، قانون کے رکھوالوں کا ہے۔چنانچہ اب سپریم کورٹ کے 76 نامی گرامی وکلا نے چیف جسٹس صاحب کے نام ایک مکتوب بھی لکھا ہے ، جس میں انہوں نے اُن سے اپیل کی ہے کہ وہ از خود کارروائی کریں اور تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت اُن لوگوں کے خلاف ایکشن لیںجو ملک کے امن و امان اور سلامتی کے خلاف کام کررہے ہیں۔ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں کسی کو قانون شکنی کی اجازت نہیں ہےاور قانون ہر کسی کے لئے یکسان ہے۔اس لئے مسلمان پُر امید ہیں کہ قانون کا ہر فیصلہ دستور کے مطابق ہوگا۔ جہاں تک ہتھیار لے کر میانمار کی مانند ہندوستان سے مسلمانوں کی نسل کُشی کی اپیل کی بات ہے تو یہ ایسی اپیلیں کرنے والے حقیقت میں بزدل ہیں۔ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی اس ملک میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں۔ متعدد فسادات تو فرقہ وارانہ نوعیت کے تھے ہی نہیں۔ وہ براہ راست مسلمانوں کی نسل کشی کے اقدامات تھے اور ان اقدامات میں حکومتوں کی مشینری کے ساتھ ساتھ مسلم دشمن قوتیں بھی شامل رہی ہیں۔ لیکن کیا ہوا؟ کیا اس ملک سے مسلمانوں کا صفایا ہو گیا، کیا مسلمانوں کی نسلیں مٹ گئیں، کیا وہ ملکی منظرنامے سے غائب ہو گئے؟ جی نہیں! بلکہ وہ ملکی منظرنامے پر پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ اپنی موجودگی درج کرا رہے ہیں۔ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہیں اور ان کو اپنا یہ فریضہ انجام دیتے رہنا چاہیے۔ مسلمانوں کا محافظ کوئی اللہ تعالیٰ ہے۔ ٹھیک ہے کہ فسادات میں کچھ مسلمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے بعد وہ اتنی ہی شدت کے ساتھ اُٹھ بیٹھتے ہیں اور اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔منافر طاقتوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ نہ تو اسلام آسان ہدف ہے اور نہ ہی مسلمان۔ ان کو مٹانا کسی کے بس میں نہیں۔ یہ صرف ہندوستان کی بات نہیں ہے، پوری دنیا کی بات ہے۔ حالانکہ مسلمان اپنے کردار کے نقطۂ نظر سے نچلے پائدان پر ہے۔ اگر وہ حقیقتاً ویسا مسلمان بن جائے جیسا بننے کی تلقین کی گئی ہے تو پھر اُن کا ایس صور ت ِحال نہ ہوتی۔ بہرحال ہماری مخلصانہ اپیل ہے کہ اے مسلمانو! خاموش رہو، یہ عارضی شرارے جلد ہی ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔