انسانی زندگی کا سفر کبھی بھی ہموار نہیں چلتا ہےاور نا ہی انسانی زندگی کے حالات یکساں رہتے ہیں۔ وقت کی ایک اچھی خاصیت یہ ہے کہ چاہے اچھا ہو یا بُرا وقت بدلتا رہتا ہے لیکن زندگی کا یہ اچھا یابُرا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔ خاصکر انسان کو زندگی کے بُرے اور مشکل وقت کا سامنا تب کرنا پڑتا ہے جب انسان کو نہ اسکی توقع ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس کے لیے تیار ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں بہت سارے حالات و واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جیسے کسی کےکاندھوں پر قرضے کا بوجھ ہوتا ہے تو کسی کو سرکاری ملازمت نہ ملنےکا غم کھائے جا رہا ہے ۔ کسی کی طلاق شدہ زندگی اسکو ہر پل تنہائی کا احساس دلا کر اسکو خود کشی کے مقام پر لا کر کھڑا کردیتی ہے تو کسی کو کسی اپنے کی موت اس پر غم اور مصائب کا پہاڑ گرا دیتی ہے۔ الغرض ہر ایک انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مقام پر مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب اس کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہے، وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے لیے زندگی گزارنا ایک مشکل اور کٹھن کام بن جاتا ہے۔ ایسے حالات اور ان مشکل گھڑیوں میں انسان کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، زندگی کے بہت سارے کارآمد تجربات حاصل ہوتے ہیں بشرطیہ کہ انسان عقلمندی سے ان حالات کا سامنا کرے اور زندگی کے تئیں مثبت رویہ اختیار کرلے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ،لہٰذا انسان کو مشکل حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے ، اپنے اندر حوصلہ زندہ ركھنا چاہیے۔ یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ ہر کوئی انسان آسان اور پرسکون زندگی کا طلبگار ہے، ہر کوئی اپنی زندگی میں بنا جدوجہد کے ہی کامیابی کا خواہاں ہے ،جس کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ زندگی میں جدوجہد اور مشکل گھڑیاں ہی ہمیں کامیابی کے رازوںسے آشنا کراتی ہیں۔ یہ مشکل گھڑیاں بہت ہی سبق آموز ہوتی ہیں۔ زندگی کے یہ مشکل مراحل تو کبھی نہ کبھی گزر ہی جاتے ہیں لیکن ان مراحل کے دوران انسان کو چاہیے کہ وہ ان بُرے حالات سے نپٹنے کے تراکیب ڈھونڈیں اور ان حالات سے سبق حاصل کرے کیونکہ زندگی کا بُرا وقت ہی زندگی کا بہترین استاد ہوتا ہے۔
اب یہاں پر انسان کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم مشکل حالات سے کیسے نپٹ سکتے ہیں اور کٹھن گھڑیوں سے كيسے سبق حاصل کر سکتےہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے انسان کو چاہیے کہ وہ زندگی کی مشکل گھڑیوں کو اپنی زندگی میں قبول کرنے کا ہنر سیکھے۔ جب ایک انسان کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ بہت مایوس ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی خود اپنی ذات کو اس کے لیے قصوروار ٹھہراتا ہے۔لمبی مدت تک ذہن ميں ایسی سوچ ركھنے سے حالات اور زیادہ بگڑ جاتے ہیں اور اسکی دماغی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا پچھتاوا کرنے سے بہتر ہے کہ مشکل حالات کو قبول کر کے اُن کو سلجھانے کی تراکيب پر غور کریں۔ ماضی پر پچھتاوا کبھی ماضی کو بدل نہیں سکتا لیکن موجودہ حالات کی قبولیت ذہنی تناؤ کو بہت حد تک کم کر سکتی ہے اور انسان کےاندر ایک مثبت توانائی پیدا کرتی ہے، جس سے ہم مشکل حالات سے آسانی سے لڑ سکتے ہیں ۔ زندگی کی مشکل گھڑیوں کے مراحل ميں دوسری ضروری بات انسان کا خود اپنی ذات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔ جذبات سے کام لینے کے بجائے انسان کو چاہیے کہ وہ حالات کا تجزیہ کرکے مشکلات کی بنیادی وجہ ڈھونڈنےکی کوشش کرے کیونکہ ہم کوئی بھی مسلہ تب تک حل نہیں کر سکتے جب تک ہمیں اُسکی بنیادی وجہ معلوم نہ ہو۔ اس کے بعد انسان کو چاہیے کہ وجہ جان کر مسلہ حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ مشکل وقت ختم ہوجائے اور ساتھ ہی انسان کو چاہیے کہ مستقبل میں کوئی ایسی غلطی نہ کرے، جس سے اس پر پھر سے دوبارہ کوئی مصیبت آجائے۔ لہٰذا مصیبت میں رونے سسکنے کے بجائے انسان کو مصیبت کی وجہ جاننی چاہیے اور اسکے بعد بہتر اور اسلوب طریقے سے اس سے نپٹنے کی کوشش کرنی چاہیے ،ساتھ ہی ساتھ اس سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔
تيسری بات جو میں یہاں پر عرض کرنا چاہوں گا، وہ یہ ہے کہ مشکل حالات میں انسان کو یہ بات ذہن میں رکھنی لازمی ہے کہ دنیا کی ہر ایک چيز عارضی ہے۔ تبدیلی ایک فطری عمل ہے اور زندگی کا ایک اہم حصہ ۔لہٰذا زندگی کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور مشکل گھڑیاں بھی آسانیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے لیکن اس عمل میں وقت لگتا ہے۔ وقت بدلنے تک انسان کو چاہیے کہ وہ شوروغل مچانے کے بجائے پرسکون رہے اور مشکلات کو حل کرنے کے لیے اپنے بڑوں اور دانشور لوگوں سے مشورہ لے۔ کسی بھی مسلے کے بارے میں اپنوں سے مشورہ لینے میں کبھی بھی ہچکچانا یا شرمانا نہیں چاہیے۔ ہمیشہ یاد رہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور غم بانٹنے سے کم ہوجاتے ہیں۔ مشکل وقت سے نپٹنے کے لیے چوتھی ضروری بات یہ ہے کہ انسان اپنے اندر مشکلات میں بھی خوش رہنے کا ہنر پیدا کرے۔ خوشی ایک ایسی چيز ہے جو ہم بازار سے نہیں خرید سکتے بلکہ اپنے اندر اپنے وجود میں تلاش کر سکتے ہیں۔ انسان کو ہمیشہ ان وقوعات کا متلاشی ہونا چاہیے جو اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ لائے۔ خوش رہنے سے انسان کو ذہنی سکون ملتا ہے جس سے اس کے اندر مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ مشکل گھڑیوں میں انسان خود کو پریشانیوں سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو کسی پسندیدہ مشغلے میں بھی مصروف رکھ سکتا ہے۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ تفریحی کاموں میں مصروف رہنے سے مشکلات کا ازالہ تو نہیں ہوگا لیکن ذہنی تناؤ سے راحت ضرور ملتی ہے، شاید یہی دماغی راحت بعد میں مشکلات کے خاتمے میں سودمند ثابت ہوگی۔ زندگی کے مشکل لمحات سے لڑنے کیلئے پانچویں اور آخری بات یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں جینا چاہیے۔ دوسروں کی مدد پر منحصر رہنے کے بجائے انسان کو ہمیشہ اپنی مدد آپ کرنی چاہیے۔ انسان کو اس خواب ِغفلت سے بیدار ہونا چاہیے کہ کوئی مسیحا آکر اسکو کسی مصیبت یا پریشانی سے نجات دلائےگا بلکہ انسان کو ہمیشہ چاہیےکہ وہ خود مسائل کا حل ڈھونڈے۔ ہم میں سے اکثر لوگ مستقبل کے بارے میں اتنا پریشان رہتے ہیں کہ وہ اپنے حال چال ہی بھول جاتے ہیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی ضروری ہے مگر اس کے لیے حد سے زیادہ پریشان رہنے سے انسان کی موجودہ زندگی پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ مسقبل کے بارے میں حد سے زیادہ سوچنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے حال کے مسائل پر توجہ دے اور انکا حل ڈھونڈنے کی جدوجہدکرے۔ انسان کا مستقبل تب ہی خوشگوار اور پرسکون ہوسکتا ہے جب وہ زندگی کی مشکل گھڑیوں کو سبق آموز بناکر ان سے تجربہ حاصل کرے اور پھر وہی تجربہ آنے والے مسائل میں استعمال کرکے انکا خاتمہ کرے۔
کون سیکھا ہے صرف باتوں سے
سب کو اک حادثہ ضروری ہے
(اتباف ابرک)
(مضمون نگار ڈگری کالج کولگام میں بحیثیت لیکچرر ہیں )
رابطہ :موبائیل نمبر : 7006569430
ای میل: [email protected]